مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23015
حَدَّثَنَا يَعْقُوب بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ بنِ حُصَيْب ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا عِظَةً وَعِبرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبيذِ فِي هَذِهِ الْأَسْقِيَةِ، فَاشْرَبوا، وَلَا تَشْرَبوا حَرَامًا" .
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23015]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23016
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُحْبسَ فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ لِيُوسِعْ ذُو السَّعَةِ عَلَى مَنْ لَا سَعَةَ لَهُ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّهِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ، وَإِنَّ الظُّرُوفَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا وَلَا تُحِلُّهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23016]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23017
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوب بنُ جَابرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بوَدَّانَ، قَالَ:" مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ"، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَنَا وَهُوَ سَقِيمٌ، فَقَالَ: " إِنِّي أَتَيْتُ قَبرَ أُمِّ مُحَمَّدٍ، فَسَأَلْتُ رَبي الشَّفَاعَةَ، فَمَنَعَنِيهَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَشْرِبةِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبوا فِيمَا بدَا لَكُمْ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23017]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أيوب
حدیث نمبر: 23018
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، حَدَّثَنَا أَوْسُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، قَالَ: أَخْبرَنِي أَخِي سَهْلُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتَكُونُ بعْدِي بعُوثٌ كَثِيرَةٌ، فَكُونُوا فِي بعْثِ خُرَاسَانَ، ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ، فَإِنَّهُ بنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ، وَدَعَا لَهَا بالْبرَكَةِ، وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد بہت سے لشکر روانہ ہوں گے تم خراسان کی طرف جانے والے لشکر میں شامل ہوجانا اور " مرو " نامی شہر میں پڑاؤ ڈالنا کیونکہ اسے ذوالقرنین نے بنایا تھا اور اس میں برکت کی دعا کی تھی اس لئے وہاں رہنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23018]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 23019
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ مُوسَى ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ، فَلَيْسَ مِنَّا"، قَالَهَا ثَلَاثًا .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر کی نماز برحق ہے اور جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23019]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبدالله، والحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23020
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرَضِيهِمْ، وَرَقِيقِهِمْ، وَمَاشِيَتِهِمْ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن زمینوں، جانوروں اور غلاموں کی ملکیت پر وہ اسلام قبول کریں ان پر ان کی ملکیت برقرار رہے گی اور اس میں ان پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی چیز واجب نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23020]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 23021
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، وأبى ربيعة الإيادي , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23021]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وسوء حفظ شريك، لكنه متابع
حدیث نمبر: 23022
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّه كَانَ بخُرَاسَانَ، فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَوَجَدَهُ بالْمَوْتِ وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبينُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بعَرَقِ الْجَبينِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23022]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 23023
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبرَنِي خَالِدُ بنُ عُبيْدٍ أَبو عِصَامٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: ذَهَب بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بالْبادِيَةِ قَرِيبا مِنْ مَكَّةَ، فَإِذَا أَرْضٌ يَابسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَخْرُجُ الدَّابةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ"، فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبرٍ .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ مکرمہ کے قریب دیہات کے ایک مقام پر لے گئے جو ایک خشک زمین تھی اور اس کے گرد ریت تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دابۃ الارض کا خروج یہاں سے ہوگا وہ ایک بالشت چوڑی اور ایک انچ لمبی جگہ تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23023]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل خالد بن عبيد
حدیث نمبر: 23024
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ".
عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چلا جا رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23024]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لكن قوله: ثم الذين يلونهم، فى المرة الرابعة والخامسة غير محفوظ، فقد تفرد به حماد بن سلمة