مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23005
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبيذِ الْجَرِّ، فَانْتَبذُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ، وَاجْتَنِبوا كُلَّ مُسْكِرٍ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23005]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23006
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب مِنْ كِتَابهِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي ابنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ أَنَّهُ برِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی قسم کھائے کہ وہ اسلام سے بری ہے اگر وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہو تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہو تو پھر وہ اسلام کی طرف کبھی بھی صحیح سالم واپس نہیں آئے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23006]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 23007
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بيْنَنَا وَبيْنَهُمْ تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَمَنْ تَرَكَهَا، فَقَدْ كَفَرَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23007]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 23008
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ مُعَاذَ بنَ جَبلٍ صَلَّى بأَصْحَابهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَقَرَأَ فِيهَا اقْتَرَبتْ السَّاعَةُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبلِ أَنْ يَفْرُغَ، فَصَلَّى وَذَهَب، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلُ فِي نَخْلٍ، فَخِفْتُ عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلِّ ب وَضُحَاهَا، وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز عشاء پڑھائی تو اس میں سورت قمر پوری تلاوت کی ایک آدمی ان کی نماز ختم ہونے سے پہلے اٹھا اور اپنی نماز تنہا پڑھ کر واپس چلا گیا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق سخت باتیں کہیں وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں باغات میں کام کرتا ہوں اور مجھے پانی ختم ہوجانے کا اندیشہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اے معاذ) سورت الشمس اور اس جیسی سورتیں نماز میں پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23008]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23009
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيِّ بنِ أَبي طَالِب يَوْمَ خَيْبرَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23009]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23010
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ أَبو تُمَيْلَةَ ، أَخْبرَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ برَيْدَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: " مَنْ قَالَ: إِنِّي برِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی قسم کھائے کہ وہ اسلام سے بری ہے اگر وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہو تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہو تو پھر وہ اسلام کی طرف کبھی بھی صحیح سالم واپس نہیں آئے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23010]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 23011
حَدَّثَنَا أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ ، أَخْبرَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بعْضِ مَغَازِيهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ تَعَالَى سَالِمًا أَنْ أَضْرِب عَلَى رَأْسِكَ بالدُّفِّ، فَقَالَ: " إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ، فَافْعَلِي، وَإِلَّا فَلَا"، قَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ، قَالَ: فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبتْ بالدُّفِّ .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں خوشی کے اظہار میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے یہ منت مانی تھی تو اپنی منت پوری کرلو اور اگر نہیں مانی تھی تو نہ کرو چناچہ وہ دف بجانے لگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23011]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 23012
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ ، قَالَ: بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بنُ أَبي طَالِب، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ:" إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ، وَإِنْ افْتَرَقْتُمَا، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ"، قَالَ: فَلَقِينَا بنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَاقْتَتَلْنَا، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبيْنَا الذُّرِّيَّةَ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبيِ لِنَفْسِهِ، قَالَ برَيْدَةُ: فَكَتَب مَعِي خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبرُهُ بذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَفَعْتُ الْكِتَاب، فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَرَأَيْتُ الْغَضَب فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ، بعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ، فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ، فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي، وَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دو دستے روانہ فرمائے جن میں سے ایک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ اکٹھے ہو تو علی سب کے امیر ہوں گے اور جب جدا ہو تو ہر ایک اپنے دستے کا امیر ہوگا چناچہ ہماری ملاقات اہل یمن میں سے بنو زید سے ہوئی ہم نے ان سے قتال کیا تو مسلمان مشرکین پر غالب آگئے ہم نے لڑنے والوں کو قتل اور بچوں کو قید کرلیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک قیدی عورت اپنے لئے منتخب کرلی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں انہیں اس سے مطلع کیا گیا تھا اور وہ خط مجھے دے کر بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور خط پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خط پڑھ کر سنایا گیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غصے کے آثار دیکھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں آپ نے مجھے ایک آدمی کے ساتھ بھیجا تھا اور مجھے اس کی اطاعت کا حکم دیا تھا میں نے اس پیغام پر عمل کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم علی کے متعلق کسی غلط فہمی میں نہ پڑنا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا محبوب ہے (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23012]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة من أجل أجلح الكندي
حدیث نمبر: 23013
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنُ ثَعْلَبةَ الطَّائِيُّ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبحُ، أَوْ حِينَ يُمْسِي: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبوءُ بنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبوءُ بذَنْبي فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوب إِلَّا أَنْتَ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ، أَوْ مِنْ لَيْلَتِهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صبح شام کے وقت یوں کہہ لیا کرے کہ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور جہاں تک ممکن ہو تجھ سے کئے گئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں میں اپنے گناہوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے اوپر تیرے احسانات کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں پس تو میرے گناہوں کو معاف فرما کیونکہ تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا اور اس دن یا رات کو مرگیا تو جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23013]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23014
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بحُب أَرْبعَةٍ مِنْ أَصْحَابي أَرَى شَرِيكًا، قَالَ: وَأَخْبرَنِي أَنَّهُ يُحِبهُمْ عَلِيٌّ مِنْهُمْ، وَأَبو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے چار لوگوں سے محبت کرنے کا مجھے حکم دیا ہے ان میں سے ایک تو علی ہیں دوسرے ابوذر غفاری تیسرے سلمان فارسی اور چوتھے مقداد بن اسود کندی ہیں۔ رضی اللہ عنہ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23014]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى ربيعة و شريك