مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1131. حَدِيثُ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23893
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ خِمَارٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23893]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23894
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ قَدْ غَلَقَهَا، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا : مَاذَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستون اپنی دائیں جانب اور ایک بائیں جانب اور تین اپنے پیچھے چھوڑ کر نماز پڑھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار قبلہ کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23894]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23895
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ أبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي وَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے کے لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ روزہ رکھنے کا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا خود بھی اس کا پانی نوش فرمایا اور مجھے بھی پلایا پھر نماز کے لئے مسجد تشریف لے آئے اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھا دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23895]
حکم دارالسلام: إسناده منقطع، لا يعرف سماع عبدالله بن معقل من بلال
حدیث نمبر: 23896
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ خِمَارٍ أخبره، عَنْ بِلَالٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23896]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23897
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ، قَضَوْا طَوَافَهُمْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَغَفَلَ عَنْهُ ابْنُ عُمَرَ، فَلَمَّا أُنْبِئَ بِدُخُولِهِ أَقْبَلَ يَرْكَبُ أَعْنَاقَ الرِّجَالِ، فَدَخَلَ يَقْتَدِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَتَلَقَّاهُ عِنْدَ الْبَابِ خَارِجًا، فَسَأَلَ بِلَالًا الْمُؤَذِّنَ: كَيْفَ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: " صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حِيَالَ وَجْهِهِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجَ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن جب لوگ طواف اور سعی کرچکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوگئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس کا علم نہ ہوسکا جب انہیں اس کی خبر ملی تو وہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اندر داخل ہونے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا آمنا سامنا اس وقت ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے تھے انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے کا رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں پھر کچھ دیر دعاء کر کے باہر نکل آئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23897]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن سعد
حدیث نمبر: 23898
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدَ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23898]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 275، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا، لكن روي عنه موصولا
حدیث نمبر: 23899
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أخبرنا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ:" بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ" ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: سَجْدَتَيْنِ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کہاں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا دو ستونوں کے درمیان (اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23899]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23900
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ بِلَالًا : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: " كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کہاں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا دو ستونوں کے درمیان (اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23900]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد
حدیث نمبر: 23901
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّهُ " جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَوَجَدَهُ يَتَسَحَّرُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ" .
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے کے لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کی مسجد میں سحری کرتے ہوئے پایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23901]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة شداد مولي عياض، ثم هو منقطع، فإنه لم يدرك بلالا
حدیث نمبر: 23902
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ أَتْيَةً، فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ، أَوْ قَالَ: ضَخْم الشَّفَتين وَالْأَنْفِ، إذا بين يديه سلاح فسألوه وهو يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، " خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: بِلَالٌ .
عمرو بن مرداس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا تو وہاں ایک آدمی نظر آیا جس کے ہونٹ بہت موٹے تھے اور اس کے سامنے اسلحہ تھا لوگ اس سے پوچھ رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ لوگو! یہ اسلحہ پکڑو اور اس سے اصلاح کا کام لو اور اس کے ذریعے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23902]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمرو بن مرداس، وأبي الورد بن ثمامة