مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1131. حَدِيثُ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23903
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْضِي حَاجَتَهُ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ، فَيَتَوَضَّأُ، وَيَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ" .
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاکر پانی کا برتن منگواتے اور اپنا رخ انور اور دونوں مبارک ہاتھ دھوتے پھر موزوں اور کور عمامہ پر مسح فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23903]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالله
حدیث نمبر: 23904
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أخبرنا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23904]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 275
حدیث نمبر: 23905
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ بِلَالًا ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ جَعَلَ الْأُسْطُوَانَةَ عَنْ يَمِينِهِ، وَتَقَدَّمَ قَلِيلًا وَجَعَلَ الْمَقَامَ خَلْفَ ظَهْرِهِ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر دو رکعتیں پڑھی تھیں ستون کو اپنی دائیں جانب رکھ کر، تھوڑا سا آگے بڑھ کر اور مقام ابراہیم کو اپنی پشت پر رکھ کر۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23905]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23906
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أخبرنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23906]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23907
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ، قَالَ: فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا قَائِمًا بَيْنَ الْبَابَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ، هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، " رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ هَاتَيْنِ السَّارِيَتَيْنِ"، وَأَشَارَ إِلَى السَّارِيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ عَلَى يَسَارِكِ إِذَا دَخَلْتَ، قَالَ:" ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ رَكْعَتَيْنِ" .
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کردی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتایا ہاں! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23907]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23908
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ خِمَارٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23908]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 23909
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ: اعْتَمَرَ مُعَاوِيَةُ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَهُ، فَقَالَ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دَخَلَ الْبَيْتَ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ مَعَهُ، وَلَكِنِّي دَخَلْتُ بَعْدَ أَنْ أَرَادَ الْخُرُوجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَسَأَلْتُهُ أَيْنَ صَلَّى؟ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ " صَلَّى بَيْنَ الأسْطُوَانَتَيْنِ" ، فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَصَلَّى بَيْنَهُمَا.
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کردی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتایا ہاں! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23909]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23910
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادة عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ، وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ بَيْنَ أَذَانِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، ثُمَّ إِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: " إِنِّي رَكَعْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ:" لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ، فَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا" .
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی اطلاع دینے کے لئے آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ پوچھنے میں الجھا دیا حتیٰ کہ روشنی ہونے لگی اور خوب روشنی پھیل گئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے گئے اور مسلسل مطلع کرتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف نہ لائے تھوڑی دیر بعد خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے کچھ پوچھنے لگی تھیں جس کی وجہ سے صبح ہونے لگی تھی پھر آپ نے بھی باہر تشریف لانے میں تاخیر فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فجر کی سنتیں پڑھ رہا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس وقت تو صبح خوب روشن ہوگئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس سے بھی زیادہ روشنی پھیل جاتی تب بھی میں انہیں خوب سنوار کر اور خوبصورت کر کے ضرور پڑھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23910]
حکم دارالسلام: إسناده منقطع بين عبيدالله بن زياد و بلال بن رباح، وما وقع فى هذه الرواية من التصريح بالسماع بينهما ، فهو وهم من أبى المغيرة أو أنه كان يضطرب فيه
حدیث نمبر: 23911
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ: وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23911]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 275، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا، لكن روي عنه موصولا
حدیث نمبر: 23912
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أُثَوِّبَ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا صَلَاةَ الْفَجْرِ" ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَذَّنْتَ فَلَا تُثَوِّبْ...".
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دے رکھا تھا کہ نماز فجر کے علاوہ کسی اور نماز میں اذان کے بعد نماز کھڑی ہونے کی اطلاع نہ دیا کروں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23912]
حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، يعتبر بأبي إسرائيل فى المتابعات والشواهد، وقد اضطرب فى هذا الحديث، وابن أبى ليلى لم يدرك بلالا