مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1322. مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27478
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَكِيمُ بْنُ عُمَيْرٍ , وَحَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَدَعْ رَجُلٌ مِنْكُمْ أَنْ يَعْمَلَ لِلَّهِ أَلْفَ حَسَنَةٍ حِينَ يُصْبِحُ , يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ , فَإِنَّهَا أَلْفُ حَسَنَةٍ , فَإِنَّهُ لَا يَعْمَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي يَوْمِهِ مِنَ الذُّنُوبِ , وَيَكُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَيْرٍ سِوَى ذَلِكَ وَافِرًا" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص روزانہ صبح کے وقت اللہ کی رضا کے لئے ایک ہزار نیکیاں نہ چھوڑا کرے، سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کہہ لیا کرے، اس کا ثواب ایک ہزار نیکیوں کے برابر ہے اور وہ شخص ان شاء اللہ اس دن اتنے گناہ نہیں کر سکے گا اور اس کے علاوہ جو نیکی کے کام کرے گا وہ اس سے زیادہ ہوں گے۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27478]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن عبدالله
حدیث نمبر: 27479
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ , قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ رُومَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ زَحْزَحَ عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ , كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةً , وَمَنْ كُتِبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ , أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹاتا ہے تو اللہ اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور جس کے لئے اللہ کے یہاں ایک نیکی لکھی جائے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27479]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 27480
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ , وَغَيْرُهُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , لَا تَعْجَزَنَّ مِنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ نَهَارِكَ , أَكْفِكَ آخِرَهُ" .
حضرت نعیم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! تو دن کے پہلے چار حصے میں چار رکعتیں پڑھنے سے اپنے آپ کو عاجز ظاہر نہ کرو، میں دن کے آخری حصے تک تیری کفایت کروں گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27480]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27481
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , قَال: حَدَّثَنِي بَعْضُ الْمَشْيَخَةِ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي " بِصِيَامِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ , وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَر" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں میں کبھی نہیں چھوڑوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر تین مہینے روزے رکھنے کی، وتر پڑھ کر سونے کی اور سفر وحضر میں چاشت کے نوافل پڑھنے کی وصیت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27481]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، دون قوله: "فى الحضر والسفر"، م: 723. وهذا اسناد ضعيف لابهام الراوي عن ابي ادريس، ولجهالة ابي ادريس
حدیث نمبر: 27482
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تم پر اپنی وفات کے وقت ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27482]
حکم دارالسلام: حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر، وضمرة بن حبيب لم يلق أبا الدرداء
حدیث نمبر: 27483
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُصُ إِلَّا الشَّرَّ , فَإِنَّهُ يُزَادُ فِيهِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کم ہوجاتی ہے سوائے شر کے کہ وہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27483]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن مصعب و لضعف أبى بكر، ولابهام الراوي عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27484
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ مَيْسَرَةَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ , وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ , وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ , وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں والدین کا کوئی نافرمان، جادو پر ایمان رکھنے والا، عادی شراب خور اور تقدیر کو جھٹلانے والا داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27484]
حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: "ولا مكذب بقدر"، فقد تفرد بها سليمان بن عتبة، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف فيه على يونس بن ميسر
حدیث نمبر: 27485
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَخٌ لِعَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن حکمرانوں سے ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27485]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27486
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ , قالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ السُّلَمِيُّ , عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ , لَغُفِرَ لَكُمْ كَثِيرًا" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہارے وہ گناہ معاف ہوجائیں جو تم جانوروں پر کرتے ہو تو بہت سے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27486]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به سليمان بن عتبة، وهو ممن لا يحتمل تفرده، وقد اختلف فيه على الهيثم بن خارجة
حدیث نمبر: 27487
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ , وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَيْثَمٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ , أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ , أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ:" بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ" , قَالُوا: فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " كُلُّ امْرِئٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صحابہ نے نبی سے پوچایا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ ہم جو اعمال کرتے ہیں کیا انہیں لکھ کر فراغت ہوگئی ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں لکھ کر فراغت ہوچکی ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کے لئے وہی کام آسان کئے جاتے ہیں جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27487]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وإسناده ضعيف