مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1322. مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27488
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ , فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى , فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ , كَأَنَّهُمْ الذَّرُّ , وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى , فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمْ الْحُمَمُ , فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ: إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي , وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى: إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر ایک روشن مخلوق چونٹیوں کی طرح باہر نکالی، پھر بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر کوئلے کی طرح سیاہ ایک اور مخلوق نکالی اور دائیں ہاتھ والوں کے لئے فرمایا کہ یہ جنت کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور بائیں ہاتھ والوں کے لئے فرمایا کہ یہ جہنم کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27488]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به أبو الربيع، وهو ممن لا يحتمل تفرده، ومعناه ثابت من احاديث اخري
حدیث نمبر: 27489
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام: قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ , وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ" , فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا , ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ" , فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا کہ اٹھو اور اپنی اولاد میں سے نو سو ننانوے افراد جہنم کے لئے اور ایک آدمی جنت کے لئے تیار کرو، یہ سن کر صحابہ کرام رونے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، دوسری امتوں کے مقابلے میری امت کے لوگ سیاہ بیل کی کھال پر سفید بال کی طرح ہوں گے، تب جا کر صحابہ کا بوجھ ہلکا ہوا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27489]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وإسناده ضعيف بهذه السياقة، تفرده به أبو الربيع، وهو من لا يحتمل تفرده
حدیث نمبر: 27490
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ , وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ , وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ كُلِّهَا , إِلَّا أَنَّهُ أَوْقَفَ مِنْهَا حَدِيثَ:" لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ" , وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبِي عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور کوئی شخص اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اسے یہ یقین نہ ہوجائے کہ اسے جو تکلیف پہنچی ہے، وہ اس سے خطا نہیں جا ہوسکتی تھی اور جو چیز خطا ہوگئی ہے وہ اسے پہنچ نہیں سکتی تھی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27490]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به أبو الربيع، وهو ممن لا يحتمل تفرده
حدیث نمبر: 27491
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ وَاهبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , دَخَلَ الْجَنَّةَ" , قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ؟! قَالَ:" وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ" , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ؟! قَالَ:" وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ" , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ؟! قَالَ:" وَإِنْ زَنَى , وَإِنْ سَرَقَ , عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ" , قَالَ: فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ , قَالَ: فَلَقِيَنِي عُمَرُ , فَقَالَ: ارْجِعْ , فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ , اتَّكَلُوا عَلَيْهَا , فَرَجَعْتُ , فَأَخْبَرْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ عُمَر" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ بھی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اسی اقرار پر دنیا سے رخصت ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ بدکاری اور چوری ہی کرے، یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے، چوتھی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے، حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں لوگوں میں اس کی منادی کرنے کے لئے نکلا تو راستے میں حضرت عمر مل گئے، انہوں نے فرمایا واپس چلے جاؤ، اگر لوگوں کو یہ بات پتہ چل گئی تو وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے، چنانچہ میں نے واپس آکر نبی کو اس کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27491]
حکم دارالسلام: صحيح لكن من حديث أبى ذر، دون القصة من عمر، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولانقطاعه بين واهب و أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27492
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ الْمِنْقَرِيُّ , عَنْ الْحَسَنِ , وأبي قلابة , أنهما كانا جالسين , فقال أبو قلابة : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَفُوتَهُ , فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُهُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر نماز عصر کو ترک کرتا ہے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27492]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن راشد، ولانقطاعه، وأبو قلابة لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 27493
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ , وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ تلے اور روئے زمین پر ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27493]
حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 27494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ , أَنَّ مُخْبِرًا أَخْبَرَهُ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ قَالَ: " سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , مِنْهُنَّ سَجْدَةُ النَّجْمِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں، جن میں سورت نجم کی آیت ِ سجدہ بھی شامل ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27494]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين، ولجهالة عمر الدمشقي، ولإبهام الراوي عن أم الدرداء
حدیث نمبر: 27495
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ , يُحَدِّثُ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟" , فَقِيلَ: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" اقْرَأْ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27495]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 27496
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ خَالِهِ عَطَاءِ بْنِ نَافِعٍ , أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ , فَأَخْبَرَتْهُمْ , أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْخُلُقُ الْحَسَنُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27496]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27497
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ يَعْنِي أَبَا مُحَمَّدٍ الْمَرَئِيَّ التَّمِيمِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , أَتَعَلَّمُ مِنْهُ , فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِي , فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ , فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ , قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِكَ , وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ , قَالَ: أَخْرِجُونِي , فَأَخْرَجْنَاهُ , قَالَ: أَجْلِسُونِي , قَالَ: فَأَجْلَسْنَاهُ , قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ , فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا , أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا" , قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ , فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ , فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ , فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرِيضَةِ .
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے، میں ان سے علم حاصل کرتا تھا، جب ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا لوگوں کو میرے وقت آخر کی اطلاع دے دو، چنانچہ میں یہ لوگوں کو بتانے کے لئے نکلا، جب واپس آیا تو سارا گھر بھر چکا تھا اور باہر بھی لوگ کھڑے تھے، میں نے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو اطلاع دے دی ہے اور اب گھر کے اندر باہر لوگ بھرے ہوئے ہیں انہوں نے فرمایا لوگو! میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں مکمل خشوع کے ساتھ پڑھے تو اللہ سے اس کی مانگی ہوئی چیزیں ضرور دیتا ہے خواہ جلدی ہو یا تاخیر سے، انہوں نے مزید فرمایا لوگو! نماز میں دائیں بائیں دیکھنے سے بچو، کیونکہ ایسے شخص کی کوئی نماز نہیں ہوتی، اگر نوافل میں ایسا ہو تو فرائض میں اس سے مغلوب نہ ہونا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27497]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل ميمون أبى محمد، ومحمد ابن بكر البرساني