🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1322. مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27508
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ , وَالصِّيَامِ , وَالصَّدَقَةِ؟" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ:" إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقة" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور زکوٰۃ سے افضل درجے کا عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن لوگوں میں جدائیگی ہوگئی ہو، ان میں صلح کروانا، جبکہ ایسے لوگوں میں پھوٹ اور فساد ڈالنا مونڈنے والی چیز ہے (جو دین کو مونڈ کر رکھ دیتی ہے)۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27508]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27509
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ , فَهُوَ أَمَانَةٌ , وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی آدمی کی کوئی بات سنے اور وہ یہ نہ چاہتا ہو کہ اس بات کو اس کے حوالے سے ذکر کیا جائے تو وہ امانت ہے، اگرچہ وہ سے مخفی رکھنے کے لئے نہ کہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27509]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن الوليد، وعبدالله بن عبيد لم يسمع من أبى الدرداء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27510
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ذَكْوَانَ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27510]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى الدرداء، وقد اختلف فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27511
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ: كَانَ فِينَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِهِ أُمُّهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ حَتَّى تَزَوَّجَ , ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يُفَارِقَهَا , فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ , فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي لَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ , ثُمَّ أَمَرَتْنِي أَنْ أُفَارِقَ , قَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُفَارِقَ , وَمَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُمْسِكَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" , فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ , أَوْ احْفَظْهُ , قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَهَا.
ابو عبد الرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی والدہ اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ شادی کرلو، جب اس نے شادی کرلی تب اس کی ماں نے اسے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے (اس نے انکار کردیا) پھر وہ آدمی حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں اسے طلاق دینے کا مشورہ دیتا ہوں اور نہ ہی اپنے پاس رکھنے کا، البتہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو، وہ آدمی چلا گیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27511]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27512
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ , قَالَ: أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي أَنْ أَسْأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سِنَانٍ, يُحَدِّدُونَهُ وَيُرَكِّزُونَهُ فِي الْأَرْضِ , فَيُصْبِحُ وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ , أَتُرَاهُ ذَكَاتَهُ؟ قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ لِي: وَإِنَّكَ لَتَأْكُلُ الضَّبُعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا أَكَلْتُهَا قَطُّ , وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي لَيَأْكُلُونَهَا , قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ أَكْلَهَا لَا يَحِلُّ , قَالَ: فَقَال َ الشَّيْخُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ , أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُه ُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " كُلِّ ذِي خِطْفَةٍ , وَعَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ , وَعَنْ كُلِّ مُجَثَّمَةٍ , وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" , قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ: صَدَقَ.
عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسًیب سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا، اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو، جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو، حضرت سعید بن مسیًب نے اس کی تصدیق فرمائی۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27512]

حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں