🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1322. مِنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27498
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَا: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ؟" , قَالُوا: نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ وَأَعْجَزُ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ کرام پر بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27498]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 811
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27499
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ , يُحَدِّثُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ , إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ , فَصَدِّقُوا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ , فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ , وَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پاس بیٹھے آئندہ پیش آنے والے حالات پر مذاکرہ کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ بات سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو اس کی تصدیق کرسکتے ہو لیکن اگر یہ بات سنو کہ کسی آدمی کے اخلاق بدل گئے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ وہ پھر اپنی فطرات کی طرف لوٹ جائے گا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27499]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يدرك أبا الدرداء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27500
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا , إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا" .
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27500]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 650
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27501
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: " مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الصَّلَاةَ .
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27501]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 650
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27502
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " قَاءَ , فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَاءَ فَأَفْطَرَ , قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نبی کے آزاد غلام حضرت ثوبان سے دمشق کی مسجد میں ملا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے، نبی کے لئے پانی میں نے ہی انڈیلا تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27502]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27503
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ بْنَ عُثْمَانَ الْكِلَابِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ دُرَيْكٍ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَدُخَانَ جَهَنَّمَ , وَمَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ , وَمَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , بَاعَدَ اللَّهُ عَنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِلِ , وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ , خَتَمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ , لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ , يَعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ , يَقُولُونَ: فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ , وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک آدمی کے پیٹ میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں فرمائے گا، جس شخص کے قدم راہ اللہ میں غبار آلود ہوجائیں، اللہ اس کے سارے جسم کو آگ پر حرام قرار دے دے گا، جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھ لے، اللہ اس سے جہنم کو ایک ہزار سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے جو ایک تیز رفتار سوار طے کرسکے، جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہدا کی مہر لگ جاتی ہے، اولین و آخرین اسے اس کے ذریعے پہچان کر کہیں گے کہ فلاں آدمی پر شہدا کی مہر اور جو مسلمان آدمی راہ اللہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر قتال کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27503]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده دون قوله: "ألف سنة للراكب المستعجل.." وقوله: يعرفه بها الأولون...الشهداء، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، خالد بن دريك لم يدرك أبا الدرداء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27504
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ , وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْنَا فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا , وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ , وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ , إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ" , وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ : عُثْمَانُ بْنُ حَيَّانَ وَحْدَهُ.
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27504]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27505
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنِ ثَابِتٍ , أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي , وَارْحَمْ غُرْبَتِي , وَارْزُقْنِي جَلِيسًا حَبِيبًا صَالِحًا , فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا , لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ , سمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ سورة فاطر آية 32 , قَالَ: الظَّالِمُ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ , فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ , وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ سورة فاطر آية 32 , يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا , وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ سورة فاطر آية 32 , فَذَلِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ" .
ثاقب یا ابوثاقب سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما، میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ اگر تم یہ دعاء صدقے دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کو قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم و اندازہ ہوگا یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27505]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت غير منسوب، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27506
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ مَوْلَى بَنِي يَزِيدَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ , فَقَالَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ , وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً" , قَالَ عَبْد اللَّهِ , قَالَ أَبِي , قَالَ الْأَشْجَعِيُ , يَعْنِي عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي زِيَادٍ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ.
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ایک دن دمشق میں ایک پودا لگا رہے تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کہ آپ نبی کے صحابی ہو کر یہ کام کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا جلد بازی سے کام نہ لو، میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی پودا لگائے، اسے جو انسان یا اللہ کی کوئی مخلوق کھائے، وہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27506]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل بقية ، وهو يدلس تدليس التسوية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27507
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ , لَا تَخْتَصَّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ دُونَ اللَّيَالِي , وَلَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ دُونَ الْأَيَّامِ" .
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابودرداء دوسری راتوں کو چھوڑ کر صرف شب جمعہ کو قیام کے لئے اور دوسرے دنوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ کے دن کو روزے کے لئے مخصوص نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مِنْ مُسْنَدِ الْقَبَائِلِ/حدیث: 27507]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن سيرين لم يسمع من أبى الدرداء، واختلف فيه على محمد بن سيرين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں