🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. ‏(‏33‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْكَلَامَ السَّيِّئَ وَالْفُحْشَ فِي الْمَنْطِقِ لَا يُوجِبُ وُضُوءًا
اس بات کی دلیل کا بیان کہ بدکلامی اور فحش گوئی وضو واجب نہیں کرتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللاتِ، فَلْيَقُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَلَمْ يَأْمُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَالِفَ بِاللاتِ وَلا الْقَائِلِ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، بِإِحْدَاثِ وُضُوءٍ، فَالْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ الْفُحْشَ فِي الْمَنْطِقِ، وَمَا زُجِرَ الْمَرْءُ عَنِ النُّطْقِ بِهِ لا يُوجِبُ وُضُوءًا، خِلافَ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْكَلامَ السَّيِّئَ يُوجِبُ الْوُضُوءَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا کہ مجھے لات کی قسم، اُسے چاہیے کہ «‏‏‏‏لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» ‏‏‏‏ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کہے۔ اور جس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جُوا کھیلیں، تو اُسے چاہیے کہ کوئی چیز صدقہ کرے۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لات کی قسم اُٹھانے والے اور اپنے ساتھی کو جُوا کھیلنے کا کہنے والے کو نیا وضو کرنے کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ فحش گوئی اور بد کلامی وضو واجب نہیں کرتی، اس شخص کے قول کے برعکس جو کہتا ہے کہ بد کلامی وضو واجب کردیتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ اللَّوَاتِي لَا تُوجِبُ الْوُضُوءَُ/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4860، 6107، 6301، 6650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1647،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 45، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5705، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3784، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3247، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1545، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2096، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 694، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8202»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں