صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَى التَّوْحِيدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَطْعًا
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 30 ترقیم شاملہ: -- 146
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذًا ، يَقُولُ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
زائدہ (بن قدامہ) نے ابوحصین سے، انہوں نے اسود بن ہلال سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، میں نے آپ کو جواب دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو لوگوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ ...“ پھر ان (سابقہ راویوں) کی حدیث کی طرح (حدیث سنائی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 146]
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو اللہ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟“ پھر اوپر والی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 30
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (144)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 31 ترقیم شاملہ: -- 147
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا، وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلأَنْصَار لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ بِهِ، هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا؟ فَلَمْ أَجِدْ، فَإِذَا رَبِيعٌ، يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةَ، وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا، فَفَزِعْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِي، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ، قَالَ: اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَخَرَرْتُ لِاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً، وَرَكِبَنِي عُمَرُ، فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي، قَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ: يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ، " مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُون، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَخَلِّهِمْ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف ایک جماعت (کی صورت) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھے (اور کسی طرف چلے گئے)، پھر آپ نے ہماری طرف (واپسی میں) بہت تاخیر کر دی تو ہم ڈر گئے کہ کہیں ہمارے بغیر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچائی جائے۔ اس پر ہم بہت گھبرائے اور (آپ کی تلاش میں نکل) کھڑے ہوئے۔ سب سے پہلے میں ہی گھبرایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے نکلا یہاں تک کہ میں انصار کے خاندان بنونجار کے چار دیواری (فصیل) سے گھرے ہوئے ایک باغ تک پہنچا اور میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کہیں پر دروازہ مل جائے لیکن مجھے نہ ملا۔ اچانک پانی کی ایک گزر گاہ دکھائی دی جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر جاتی تھی (ربیع آب پاشی کی چھوٹی سی نہر کو کہتے ہیں) میں لومڑی کی طرح سمٹ کر داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ آپ نے پوچھا: ”ابوہریرہ ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا معاملہ درپیش ہے؟“ میں نے عرض کی: آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، پھر وہاں سے اٹھ گئے، پھر آپ نے ہماری طرف (واپس) آنے میں دیر کر دی تو ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ آپ ہم سے کاٹ نہ دیے جائیں۔ اس پر ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر نکلا تو اس باغ تک پہنچا اور اس طرح سمٹ کر (اندر گھس) آیا ہوں جس طرح لومڑی سمٹ کر گھستی ہے اور یہ دوسرے لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ اور مجھے اپنے نعلین (جوتے) عطا کیے اور ارشاد فرمایا: ”میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس چار دیواری کی دوسری طرف تمہیں جو بھی ایسا آدمی ملے جو دل کے پورے یقین کے ساتھ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیتا ہو، اسے جنت کی خوش خبری سنا دو۔“ سب سے پہلے میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے کہا: ابوہریرہ! (تمہاری ہاتھ میں) یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین (مبارک) ہیں۔ آپ نے مجھے یہ نعلین (جوتے) دے کر بھیجا ہے کہ جس کسی کو ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیتا ہو، اسے جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے ایک ضرب لگائی جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا اور انہوں نے کہا: اے ابوہریرہ! پیچھے لوٹو۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس عالم میں واپس آیا کہ مجھے رونا آ رہا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ میرے پیچھے لگ کر چلتے آئے تو اچانک میرے عقب سے نمودار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) کہا: ”اے ابوہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور آپ نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا تھا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی ہے جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا، اور مجھ سے کہا کہ پیچھے لوٹو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم نے جو کیا اس کا سبب کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اس لیے نعلین دے کر بھیجا تھا کہ دل کے یقین کے ساتھ «لا إله إلا الله» کی شہادت دینے والے جس کسی کو ملے، اسے جنت کی بشارت دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: تو ایسا نہ کیجیے، مجھے ڈر ہے کہ لوگ بس اسی (شہادت) پر بھروسا کر بیٹھیں گے، انہیں چھوڑ دیں کہ وہ عمل کرتے رہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو ان کو چھوڑ دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 147]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرداگرد بیٹھے تھے، ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ایک جماعت کے ساتھ موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھے (اور کسی طرف چلے گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی میں بہت تاخیر ہو گئی تو ہمیں ڈر پیدا ہوا کہ کہیں ہم سے علیحدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے (ہماری عدم موجودگی میں دشمن وغیرہ کی طرف سے آپ کو کوئی گزند نہ پہنچے) اس پر ہم بہت گھبرائے اور ہم لوگ (آپ کی تلاش میں) نکل کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے میں ہی گھبرا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ انصار کے خاندان بنو النجار کے ایک باغ میں پہنچ گیا، جو چہار دیواری سے گھرا ہوا تھا، اور میں نے اس کے چاروں طرف چکر لگایا کہ اندر جانے کے لیے مجھے راستہ مل جائے، لیکن نہیں ملا۔ اچانک ایک نالا دکھائی دیا جو باہر کے کنویں سے باغ کے اندر جاتا تھا، ربیع جدول (نالے) کو کہتے ہیں۔ میں لومڑی کی طرح سمٹ اور سکڑ کر اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیسے آئے؟“ (کیا بات ہے؟) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمارے درمیان تشریف رکھتے تھے، پھر وہاں سے اٹھ کر چلے آئے، پھر دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی نہیں ہوئی تو ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا دیکھ کر ایذا نہ پہنچائے، تو اس پر ہم گھبرا گئے۔ سب سے پہلے میں گھبرایا، تو میں اس باغ تک پہنچا اور لومڑی کی طرح سکڑ کے (اندر گھس آیا ہوں) اور دوسرے لوگ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ اور مجھے اپنے نعلین (جوتے) مبارک عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا: ”میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس باغ سے باہر جو آدمی بھی ایسا ملے، جو دل کے پورے یقین کے ساتھ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی شہادت دیتا ہو، اس کو جنت کی خوشخبری سنا دو!“ تو سب سے پہلے میری ملاقات عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوہریرہ! تمہارے ہاتھ میں یہ دو جوتیاں کیسی ہیں؟ میں نے کہا: یہ نعلین مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں جوتیاں مجھے دے کر بھیجا ہے کہ جو کوئی بھی دل کے اطمینان کے ساتھ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی شہادت دیتا ہو، مجھے ملے، میں اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس عمر رضی اللہ عنہ نے میرے سینے پر ایک ہاتھ مارا جس سے میں اپنی سرینوں کے بل پیچھے کو گر پڑا، اور مجھ سے انہوں نے کہا: اے ابوہریرہ! پیچھے کو لوٹو۔ میں روتی صورت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پیچھے پیچھے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے ابوہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: عمر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا تھا، میں نے انہیں وہ بتلایا، تو انہوں نے میرے سینے پر ایک تھپڑ مارا، جس سے میں اپنی سرین کے بل گر پڑا اور مجھ سے کہا کہ پیچھے لوٹو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین مبارک دے کر اس لیے بھیجا تھا کہ جو کوئی بھی دل کے یقین کے ساتھ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی شہادت دینے والا ان کو ملے، وہ اس کو جنت کی بشارت دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ (میں نے یہی کہہ کر بھیجا تھا) عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: تو ایسا نہ کیجیے، مجھے خطرہ ہے کہ کہیں لوگ بس اس شہادت پر بھروسا کر کے (سعی و عمل سے بے پروا ہو کر) نہ بیٹھ جائیں، لہذا انہیں عمل کرنے دیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ان کو عمل کرنے دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 31
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14843)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 32 ترقیم شاملہ: -- 148
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ، قَالَ: يَا مُعَاذ، قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ، قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ، قَالَ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا؟ قَالَ: إِذًا يَتَّكِلُوا، فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.
قتادہ نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے، جب وہ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے، فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کی: ”میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول! میرے نصیب روشن ہو گئے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کی: ”میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کی: ”میں ہر بار حاضر ہوں اللہ کے رسول! میری خوش بختی۔“ (اس پر) آپ نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں جو (سچے دل سے) شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں مگر اللہ ایسے شخص کو دوزخ پر حرام کر دیتا ہے۔“ حضرت معاذ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ کر دوں تاکہ وہ سب خوش ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔“ چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے (کتمان علم کے) گناہ کے خوف سے اپنی موت کے وقت یہ بات بتائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 148]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو، جب کہ وہ پالان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، پکارا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور میں آپ کی سعادت مندی کے لیے حاضر ہوں“، تین دفعہ ایسا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی سچے دل سے شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، تو اللہ نے دوزخ پر ایسے شخص کو حرام کر دیا ہے۔“ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ کر دوں تاکہ وہ سب خوش ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ اسی پر بھروسا کر کے بیٹھ جائیں گے۔“ پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کتمانِ علم کے گناہ کے خوف سے اپنے آخری وقت میں یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 32
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى العلم من خص بالعلم قوما دون قوم كراهية ان لا يفهموا برقم (128) انظر ((التحفة)) برقم (1363)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 149
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ، قَالَ: أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي، وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ، وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ، قَالُوا: وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالُوا: إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ: " لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ "، قَالَ أَنَسٌ: فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ، فَقُلْتُ لِابْنِي: اكْتُبْهُ، فَكَتَبَهُ.
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے محمود بن ریبع رضی اللہ عنہ نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی۔ (محمود رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ میں مدینہ آیا تو عتبان رضی اللہ عنہ کو ملا اور میں نے کہا: ایک حدیث مجھے آپ کے حوالے سے پہنچی ہے۔ حضرت عتبان نے کہا: میری آنکھوں کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اے اللہ کے رسول! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسی (جگہ) کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں میں سے جن کو اللہ نے چاہا، تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے، آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے زیادہ اور بڑی بڑی باتیں مالک بن دخشم کے ساتھ جوڑ دیں، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بد دعا فرمائیں اور وہ ہلاک ہو جائے اور ان کی خواہش تھی کہ اس پر کوئی آفت آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ صحابہ کرام نے جواب دیا: وہ (زبان سے) یہ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو پھر وہ آگ میں داخل ہو یا آگ اسے اپنی خوراک بنا لے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی (پسند آئی) تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اسے لکھ لو، اس نے یہ حدیث لکھ لی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 149]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی۔ حضرت محمود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مدینہ آیا اور حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کو ملا تو میں نے کہا: آپ کی ایک روایت مجھے پہنچی ہے (وہ مجھے براہِ راست سنائیے)۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری آنکھوں میں کچھ تکلیف پیدا ہوئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ حضور میری تمنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مکان پر تشریف لا کر کسی جگہ نماز ادا فرمائیں، تاکہ میں اس کو نماز گاہ بنا لوں (وہاں نماز پڑھا کروں)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جن ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ بھی ساتھ تھے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہو کر میرے گھر میں نماز پڑھنے لگے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کرنے لگے۔ باتوں کا (موضوع منافقوں کے اعمالِ بد اور ان کی بری حرکات تھیں) اکثر اور بڑا موضوع مالک بن دخشم کی حرکات تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بد دعا فرمائیں، وہ مر جائے اور خواہش کی کہ اسے کوئی آفت پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: وہ زبان سے کہتا ہے لیکن دل میں یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، وہ جہنم میں داخل نہ ہو گا نہ اسے جہنم کھائے گی۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی (پسند آئی) تو میں نے اپنے بیٹے کو کہا اسے لکھ لو، اس نے لکھ لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الصلاة، باب: اذا دخل بيتا يصلي حيث شاء، او حيث امر، ولا يتجسس برقم (424) وفي باب: فى المساجد فى البيوت برقم (425) وفي الجماعة والامامة، باب: الرخصة فى المطر والعلة ان يصلى فى رحله برقم (667) وفى باب: زار الامام قـومـا فـامهم برقم (686) وفى كتاب: صفة الصلاة، باب: يسلم حين يسلم الامام مختصراً برقم (838) وفي باب: من لم يرد السلام على الامام، باب: يسلم حين يسلم الامام مختصراً برقم (838) وفي باب: من لم يرد الاسلام على الامام، واكتفى بتسليم الصلاة برقم (840) وفي التطوع، باب: صلاة النوافل جماعة برقم (1186) مطولا وفي المغازي، باب: شهود الملائكة بدرا برقم (4009) مطولا وفى الاطعمة، باب: الخزيرة برقم (5401) وفي الرقاق، باب: العمل الذى يبتغي به وجه الله مختصراً برقم (6423) وفى استتابة المرتدين والمعائدين، مختصرا برقم (6938) والمولف (مسلم) فى ((صحيحه)) فى المساجد ومواضع الصلاة، باب: الرخصة فى التخلف عن الجماعة لعذر برقم (1494) وبرقم (1595 و 1496) والنسائي فى ((المجتبى من السنن)) فى المامة، باب: امامة الاعمى 80/2 وفي السهود، باب: تسليم الماموم حين يسلم الامام 64/3-65 وابن ماجه فى ((سننه)) فى المساجد والجماعات، باب: المساجد فى الدور مطولا برقم (754) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (9750)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 150
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ عَمِيَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَال: تَعَالَ، فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.
حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے، اس وجہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی ایک جگہ متعین کر دیں (تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان (عتبان) کی قوم کے لوگ بھی آگئے، ان میں سے ایک آدمی، جسے مالک بن دخشم کہا جاتا تھا، غائب رہا... اس کے بعد حماد نے بھی (ثابت کے دوسرے شاگرد) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 150]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نابینا ہو گیا، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ (تشریف لا کر میرے مکان میں) مسجد کی ایک جگہ متعین کر دیجیے (تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور عتبان رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ بھی آ گئے، ان میں ایک آدمی جسے مالک بن دحشم کہتے تھے غائب رہا۔ اس کے بعد سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (148)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة