🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. باب بَيَانِ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ:
باب: اسلام لانے کے بعد کافر کے سابقہ اعمال کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 323
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ " وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ.
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ان کاموں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کی خاطر کرتا تھا؟ مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نیک کام پہلے کر چکے ہو تم نے ان سمیت اسلام قبول کیا ہے۔ تخث کا مطلب ہے عبادت گزاری ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 323]
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بتائیے وہ امور جو میں جاہلیت کے دور میں گناہ سے بچنے کی خاطر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم پہلے نیکیاں کر چکے ہو ان کے ساتھ اسلام لائے ہو۔ تحنث، تعبد: یعنی عبادت و بندگی کو کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى الزكاة، باب: من تصدق في الشرك ثم اسلم برقم (1369) وفى البيوع، باب: شراء المملوك من الحربي، وهبته وعتقه برقم (2107) وفي العتق، باب: عتق المشرك برقم (2401) وفى الادب، باب: من وصل رحمه في الشرك ثم اسلم برقم (5646) انظر ((التحفة)) برقم (3432)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 324
وحَدَّثَنَا حسن الحلواني ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبد، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ، أَوْ عَتَاقَةٍ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ، أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْر ".
(یونس کے بجائے) صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ ان اعمال کے بارے کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی، کیا ان کا اجر ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھلائی کے کام تم پہلے کر چکے ہو تم ان سمیت اسلام میں داخل ہوئے ہو۔ (تمہارے اسلام کے ساتھ وہ بھی شرف قبولیت حاصل کر چکے ہیں کیونکہ وہ بھی شہادتین کی تصدیق کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 324]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بتائیے وہ امور (نیکیاں) جو میں جاہلیت کے دور میں گناہ سے بچنے کے لیے کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات، غلاموں کی آزادی، صلۂ رحمی تو کیا یہ اجر کا باعث ہوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پہلی نیکیوں پر ایمان لایا ہے۔ (یعنی سابقہ نیکیاں قائم ہیں) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (319)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 325
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنَ الْخَيْرِ "، قُلْتُ: فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الإِسْلَامِ مِثْلَهُ.
ابن شہاب زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، نیز (ایک دوسری سند کے ساتھ) ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: وہ (بھلائی کی) چیزیں (کام) جو میں جاہلیت کے دور میں کیا کرتا تھا؟ (ہشام نے کہا: ان کی مراد تھی کہ میں نیکی کے لیے کرتا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جو (نیک) کام جاہلیت میں کیے تھے، ان میں سے کوئی عمل نہیں چھوڑوں گا مگر اس جیسے کام اسلام میں بھی کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 325]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کے ایک اور شاگرد معمر رحمہ اللہ نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (319)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 123 ترقیم شاملہ: -- 326
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
عبداللہ بن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند سے روایت کی کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دور جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے اور سو اونٹ سواری کے لیے (مستحقین کو) دیے تھے، پھر اسلام لانے کے بعد (دوبارہ) سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے دیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ..... آگے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 326]
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دورِ جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے صدقہ کیے پھر اسلام لانے کے بعد بھی سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے خیرات کیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (319)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں