🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. باب بَيَانِ الزَّمَنِ الَّذِي لاَ يُقْبَلُ فِيهِ الإِيمَانُ:
باب: اس زمانے کا بیان جب ایمان مقبول نہ ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 396
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ مَغْرِبِهَا، آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ".
علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ جب وہ مغرب سے طلوع ہو جائے گا تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، اس دنکسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (عمل سے تصدیق نہ کی تھی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 396]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو قیامت قائم نہیں ہوگی، جب وہ مغرب سے طلوع ہو جائے گا، تو سب کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، تو اس دن (کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا، یا ایمان کے نتیجہ میں کوئی نیکی نہیں کی تھی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13988)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 158 ترقیم شاملہ: -- 397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وأبو كريب ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ العَلاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوزرعہ، عبدالرحمن اعرج اور ہمام بن منبہ سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مذکور ہے جو علاء نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 397]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ ﴾ برقم (4635) وابوداود في ((سننه)) في الملاحم، باب: امارات الساعة برقم (4312) وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: طلوع الشمس من مغربها برقم (4068) انظر ((التحفة)) برقم (14897)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 158 ترقیم شاملہ: -- 398
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ جَمِيعًا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا، إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الأَرْضِ ".
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں جب ان کا ظہور ہو جائے گا تو اس وقت کسی شخص کو، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں کوئی نیکی نہ کی تھی، اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃ الارض (زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور کا نکلنا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 398]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں کا جب ظہور ہو جائے گا تو کسی شخص کو اس کا ایمان، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکا تھا یا اپنے ایمان کے سبب کوئی نیکی نہیں کی تھی، فائدہ نہیں دے گا: سورج کا اپنے غروب کی جگہ سے نکلنا، اور دجال اور دابة الأرض (زمین سے نکلنے والا عجیب و غریب جانور) کا ظہور۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 158
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة الانعام برقم (3072) انظر ((التحفة)) برقم (13421)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 399
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوب: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ ، سَمِعَهُ فِيمَا أَعْلَمُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمًا: " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنَّ هَذِهِ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَخِرُّ سَاجِدَةً، وَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ، حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي لَا يَسْتَنْكِرُ النَّاسَ مِنْهَا شَيْئًا، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى مُسْتَقَرِّهَا ذَاكَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُقَالُ لَهَا: ارْتَفِعِي، أَصْبِحِي طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِكِ، فَتُصْبِحُ طَالِعَةً مِنْ مَغْرِبِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ مَتَى ذَاكُمْ ذَاكَ؟ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ".
(اسماعیل) ابن علیہ نے کہا: ہمیں یونس نے ابراہیم بن یزید تیمی کے حوالے سے حدیث سنائی، میرے علم کے مطابق، انہوں نے یہ حدیث اپنے والد (یزید) سے سنی اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پوچھا: جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ جاتا ہے، پھر سجدے میں چلا جاتا ہے، وہ مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے حتی کہ اسے کہا جاتا ہے: اٹھو! جہاں سے آئے تھے ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر چلتا ہوا عرش کے نیچے اپنی جائے قرار پر پہنچ جاتا ہے، پھر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے: بلند ہو جاؤ اور جہاں سے آئے تھے، ادھر لوٹ جاؤ تو وہ واپس جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر (ایک دن سورج) چلے گا، لوگ اس میں معمول سے ہٹی ہوئی کوئی چیز نہیں پائیں گے حتی کہ یہ عرش کے نیچے اپنے اسی مستقر پر پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا: بلند ہو اور اپنے مغرب (جس طرف غروب ہوتا تھا، اسی سمت) سے طلوع ہو تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا جانتے ہو یہ کب ہو گا؟ یہ اس وقت ہو گا جب کسی شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اپنے ایمان کے دوران میں نیکی نہیں کمائی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 399]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پوچھا: جانتے ہو! یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ کر سجدہ کرتا ہے، تو وہ اس حالت میں رہتا ہے حتیٰ کہ اس کو کہا جاتا ہے: اٹھو! اور جہاں سے آئے ہو ادھر لوٹ جاؤ!، تو وہ واپس لوٹتا ہے اور اگلی صبح اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگلے دن چلتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے اپنے جائے قرار پر پہنچ کر سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو کہا جاتا ہے، بلند ہو اور جہاں سے آئے ہو لوٹ جاؤ! تو وہ واپس چلا جاتا ہے اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر چلتا ہے، لوگ اس میں کچھ نرالا پن نہیں پاتے، اس طرح وہ ایک دن عرش کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچے گا، تو اسے کہا جائے گا بلند ہو اور اپنے مغرب سے طلوع ہو! تو وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا جانتے ہو یہ کب ہوگا؟ یہ اس وقت ہو گا، (جب کسی شخص کو جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اپنے ایمان کے باعث نیکی نہیں کی ہوگی، ایمان لانا مفید نہیں ہوگا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: صفة الشمس والقمر برقم (3199) وفي التفسير، باب: ﴿ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴾ برقم (4802 و 4803) مختصراً - وفى التوحيد، باب: ﴿ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ﴾، ﴿ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴾ برقم (7424) وفى باب: قول الله تعالى: ﴿ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ ﴾ برقم (7433) وابوداؤد في ((سننه)) في الحروف والقرات، باب: برقم (4002) والترمذي في ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء فى طلوع الشمس من مغربها برقم (2186) والترمذي في ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء فى طلوع الشمس من مغربها برقم (2186) وفي، باب: من سورة يٰس برقم (3227) وقال: هذا حديث حسن صحيح - انظر ((التحفة)) برقم (11994)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 400
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَوْمًا أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّة َ.
خالد بن عبداللہ نے یونس سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ ..... اس کے بعد ابن علیہ والی حدیث کے ہم معنی (روایت) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 400]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ ابن علیہ رحمہ اللہ کی حدیث کا مفہوم نقل کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (397)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 401
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جالس، فلما غابت الشمس: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا "، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ: 0 وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا 0.
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، جب سورج غائب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! کیا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جاننے والے ہیں۔ فرمایا: یہ جاتا ہے، پھر سجدے کی اجازت مانگتا ہے تو اسے سجدے کی اجازت دی جاتی ہے، (پھر یوں ہو گا کہ) جیسے اس سے کہہ دیا گیا ہو (اس میں اشارہ ہے کہ ہم حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے، ہمیں تمثیلاً اس کی خبر دی جا رہی ہے) کہ جس طرف سے آئے تھے، ادھر لوٹ جاؤ تو یہ اپنی غروب ہونے والی سمت سے طلوع ہو جائے گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ نے ( «تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا» کے بجائے) «وذلك مستقرلها» یہ اس کا مستقر ہے۔ عبداللہ بن مسعود کی روایت کردہ قراءت کے مطابق پڑھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 401]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جانتے ہو یہ کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جا کر سجدے کی اجازت طلب کرتا ہے، اس کو اجازت مل جاتی ہے، گویا اس کو کہہ دیا گیا ہے: جہاں سے آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔ (آخر کار) اس کو کہا جائے گا: اپنے مغرب سے طلوع ہو، تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھا: اور یہ اس کا جائے قرار ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (397)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 159 ترقیم شاملہ: -- 402
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَال الأَشَجُّ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 قَالَ: مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ ".
وکیع نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: سورج اپنے مستقر کی طرف چل رہا ہے۔ آپ نے جواب دیا: اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 402]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے؟ «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا» (یٰس: 38) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 159
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (397)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں