صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
89. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
ترقیم عبدالباقی: 204 ترقیم شاملہ: -- 501
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَاجْتَمَعُوا، فَعَمَّ، وَخَصَّ، فَقَالَ: يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا ".
جریر نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی طور پر (سب کو) اور خاص کر (الگ خاندانوں اور لوگوں کے نام لے کر) فرمایا: ”اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ (بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے (کسی مؤاخذے کی صورت میں) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، تم لوگوں کے ساتھ میرا رشتہ ہے، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 501]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری: ”اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ (الشعراء: 214) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا، جب جمع ہوگئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب میں عام اور خاص لوگوں کو مخاطب فرمایا: ”اے کعب بن لوئی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے مرّہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لو! اے عبدشمس کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے ہاشمیو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں (اگروہ تمھیں پکڑنا چاہے) تمھارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ ہاں اتنی بات ہے، تمھارے ساتھ رشتہ داری ہے، میں اس کو جوڑتا رہوں گا، میں اس طراوت کی وجہ سے اس کو تر رکھوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 501]
ترقیم فوادعبدالباقی: 204
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة الشعراء وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه برقم (3185) والنسائي في ((المجتبي)) في الوصايا، باب: اذا وصي لعشيرته الاقربين 248/6-249 - انظر ((التحفة)) برقم (14923)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 204 ترقیم شاملہ: -- 502
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ جَرِيرٍ، أَتَمُّ وَأَشْبَعُ.
عبدالملک سے (جریر کے علاوہ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی۔ لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 502]
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 502]
ترقیم فوادعبدالباقی: 204
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (500)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 205 ترقیم شاملہ: -- 503
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ہاں!) میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 503]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورۂ شعراء کی آیت ”اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑ پر چڑھ کر فرمایا: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی لختِ جگر فاطمہ! اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمھارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں (یعنی اس کی اجازت کے بغیر اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتا) میرے مال سے جو چاہو مانگ لو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 503]
ترقیم فوادعبدالباقی: 205
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (17338)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 206 ترقیم شاملہ: -- 504
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "،
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو آپ نے فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے صفیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! مجھ سے (میرے مال میں سے) جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 504]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۂ شعراء کی آیت: «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» (الشعراء: 214) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو (ایمان لا کر نیک اعمال کر لو)، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ کے مقابلہ میں تمھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، اے عبدالمطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے مقابلہ میں تمھارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ! میں تم سے اللہ کے عذاب کو نہیں ٹال سکتا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہیں آسکتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 504]
ترقیم فوادعبدالباقی: 206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في (صحيحه) في الوصايا، باب: هل يدخل النساء والولد في الاقارب برقم (2753) تعليقا - وفي التفسير، باب: ﴿ وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴾ برقم (4771) ايضا معلقا وأخرجه النسائي في ((المجتبي)) في الوصايا، باب اذا اوصي لعشيرته الأقربين 248/6 - انظر ((التحفة)) برقم (15328)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 206 ترقیم شاملہ: -- 505
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.
ایک اور سند سے اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 505]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 505]
ترقیم فوادعبدالباقی: 206
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13660)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 207 ترقیم شاملہ: -- 506
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا، ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ، إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهْ "،
یزید بن زریع نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے، پھر آواز دی: ”اے عبدمناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو وہ بلند آواز سے پکارنے لگا: ’وائے اس کی صبح (کی تباہی!)‘“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 506]
حضرت قبیصہ رضی اللہ عنہ اور زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب آیت: «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» اتری، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی ٹیلے پر تشریف لے گئے، اور اس کے سب سے اونچے پتھر پر چڑھ گئے، پھر آواز دی: ”اے عبدمناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں، میری اور تمھاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا، تو وہ خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ محسوس ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے، تو وہ چلانے لگا: اے صبح کا حملہ! (دشمن سے چوکنے ہوجاؤ)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 506]
ترقیم فوادعبدالباقی: 207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3652 و (11066)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 207 ترقیم شاملہ: -- 507
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
(یزید بن زریع کے بجائے) معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) کے حوالے سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 507]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 507]
ترقیم فوادعبدالباقی: 207
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (3652 و 11066)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 208 ترقیم شاملہ: -- 508
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَهَتَفَ: يَا صَبَاحَاهْ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ، أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا، قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ،
ابواسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا: ”وائے اس کی صبح (کی تباہی!)“ سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: ’یہ کون پکار رہا ہے؟‘ (کچھ) لوگوں نے کہا: ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘ چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد!“ یہ لوگ آپ کے قریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا: ’ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات (سننے) کا تجربہ نہیں ہوا۔‘ آپ نے فرمایا: ”تو میں تمہیں آنے والے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تو ابولہب کہنے لگا: ’تمہارے لیے تباہی ہو، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟‘ پھر وہ اٹھ گیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ ”ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا۔“ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 508]
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب یہ آیت اتری: ”اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ اور ان میں سے خاص کر اپنے خاندان کے سچے اور مخلص لوگوں کو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر صفا پہاڑ پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ”دفاع کے لیے تیار ہو جاؤ!“ لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: یہ کون آواز دے رہا ہے؟ جواب ملا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد!“ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بتاؤ! اگر میں تمھیں اطلاع دوں، کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انھوں نے کہا: ہم نے تمھیں کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھیں سخت عذاب (کی آمد) سے پہلے ڈرا رہا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ! کیا تو نے ہمیں اس خاطر جمع کیا تھا؟ پھر وہ کھڑا ہو گیا، تو اس پر یہ سورت اتری! «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ» ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے۔“ یقیناً وہ خود ہلاک ہوا۔ (سورۂ لہب) اعمش رحمہ اللہ نے پوری سورت قراءت کی اور «قَد تَبَّ» کے اضافے سے پڑھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 508]
ترقیم فوادعبدالباقی: 208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الجنائز، باب: ذكر شرار الموتى برقم (1394) مختصراً - وفي المناقب، باب: من انتسب الى آبائه فى الاسلام والجاهلية برق (3526) وفي التفسير، باب: ﴿ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ﴾ برقم (4801) وفي، باب: ﴿ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ﴾ برقم (4971 و 4972 و 4973) والترمذى فى((جامعه)) في التفسير، باب: و من سورة ﴿ تَبَّتْ يَدَا ﴾ وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (3363) انظر ((التحفة)) برقم (5594)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 208 ترقیم شاملہ: -- 509
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا، فَقَالَ: " يَا صَبَاحَاهْ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214.
(ابواسامہ کے بجائے) ابومعاویہ نے اعمش سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا: ”وائے اس کی صبح (کی تباہی!)“ اس کے بعد ابواسامہ کی بیان کردہ حدیث کی طرح روایت کی، لیکن آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ کے اترنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 509]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کوہِ صفا پر چڑھے اور فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ابو اسامہ رحمہ اللہ کی طرح روایت بیان کی۔ لیکن آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» کے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 509]
ترقیم فوادعبدالباقی: 208
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (507)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة