🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. ما جاء في القبلة
قبلہ (رخ کرنے) کے متعلق جو کچھ مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: ثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ أَوَّلُ صَلاةٍ صَلَّى صَلاةُ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ، فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ" ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے، تو ابتدائی سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے، حالاںکہ آپ کو پسند تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی جانب ہو، بیت اللہ کی جانب (منہ کر کے) آپ نے پہلے عصر کی نماز ادا کی، لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) نکلا، تو ایک مسجد کے پاس سے گزرا، جہاں لوگ رکوع کی حالت میں تھے، تو اس نے کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ چنانچہ وہ اسی حالت میں ہی مکہ کی طرف گھوم گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا لگتا تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی جانب بدل دیا جائے۔ انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 399 - 4486، صحيح مسلم: 525»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَجْعَلْ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مثل مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ وَيُصَلِّي .
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز سامنے رکھ کر نماز پڑھا کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 499»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَثَنِي مُطَرِّفٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو، تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے اور جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔ اگر وہ گزرنے پر مصر ہو، تو اسے سختی سے منع کرے، وہ تو شیطان ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 509، صحيح مسلم: 505»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا" ، زَادَ مَحْمُودٌ: فَدَخَلْنَا فِي الصَّلاةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کے دن میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما گدھی پر سوار ہو کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر گدھی سے اتر گئے اور گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا محمود کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نماز میں شامل ہو گئے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 493، صحيح مسلم: 504»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: ثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى الْفِرَاشِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد پڑھا کرتے تھے، میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان بستر پر لیٹی ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر پڑھنا چاہتے، تو مجھے بھی جگا دیتے، میں بھی وتر پڑھ لیتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 512، صحيح مسلم: 512»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں