🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب الأفعال الجائزة في الصلاة وغير الجائزة
نماز میں جائز اور ناجائز کاموں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں امام کو کسی غلطی پر متنبہ کرنا ہو، تو مرد «سبحان الله» کہیں اور خواتین تالی بجائیں (ہاتھ پر ہاتھ ماریں)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1203، صحیح مسلم: 422»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ صَفَّحْتُمْ، إِنَّمَا هَذَا لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا ہو گیا ہے، جب آپ کو نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے، تو تالیاں بجانے لگتے ہیں؟ حالانکہ یہ حکم تو صرف خواتین کے لیے ہے، اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ در پیش ہو جائے تو وہ «سبحان الله» کہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 684، صحیح مسلم: 421»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا قَهَرَنِي وَلا شَتَمَنِي وَلا ضَرَبَنِي، قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:" فَلا تَأْتِهِمْ" قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَتَطَيَّرُونَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلا يَصُدَّنَّهُمْ" قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيُّ يَخُطُّ فَمَنْ رَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ" قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَأَطْلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ آسِفٌ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَفَلا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا" فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ:" هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا" .
سیدنا معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، تو میں نے کہ دیا «يَرْحَمُكَ اللهُ» لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں، تو میں چپ کر گیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی استاذ ایسا نہیں دیکھا، جو آپ سے بہتر تعلیم دینے والا ہو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا، نہ برا بھلا کہا، نہ مارا، صرف اتنا فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں۔ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے، ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نہ جایا کریں۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں؟ فرمایا: یہ محض ان کا وہم ہے۔ یہ فال وغیرہ انہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ خط (لکیریں) کھینچتے ہیں؟، فرمایا: ایک نبی (ادریس علیہ السلام) خط کھینچا کرتے تھے، پس جس کا خط اس کے موافق ہو گیا، وہ تو درست ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میری ایک لونڈی احد اور جوانیہ پہاڑ کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اس کے پاس گیا، تو ایک بھیڑیا اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے کے جا چکا تھا، چونکہ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی ان کی طرح غصہ آ گیا، میں نے اس (لونڈی) کو زور دار تھپڑ مار دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا، تو آپ نے اسے میرے حق میں بہت بڑا گناہ خیال کیا۔ عرض کی کہ میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لائیں۔ میں اسے آپ کے پاس لے آیا، تو آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مؤمنہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 537»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بھی دو کالی چیزوں (سانپ اور بچھو) کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/473، سنن أبي داود: 921، سنن النسائي: 1203، سنن الترمذي: 390، سنن ابن ماجه: 1245، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (869)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2351) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/256) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 4/188) نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ سفیان کی متابعت ہوتی ہے، مسند احمد (2/473) میں یحییٰ بن ابی کثیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَى عُنُقِهِ أُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمْلَهَا" .
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمامہ بنت ابو العاص رضی اللہ عنہما کو کندھے پر اٹھا کر نماز پڑھی، جب رکوع کرتے، تو انہیں بٹھا دیتے، جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 516، صحیح مسلم: 543»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: ثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَتِ الأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا بِلالُ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ:" يَقُولُ هَكَذَا، وَبَسَطَ كَفَّهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ انصار نے آکر سلام کہا، سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے بلال! آپ نے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے اپنی تھیلی کو پھیلا دیا اور کہا: اس طرح۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 6/12، سنن أبي داود: 927، سنن الترمذي: 368، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور نووی رحمہ اللہ (خلاصتہ الاحکام: 1/508) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً" ، قَالَ: لا أَعْلَمُهُ إِلا قَالَ: إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، آپ نے اشارہ سے جواب دیا۔ نابل کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/332، سنن أبي داود: 925، سنن النسائي: 1187، سنن الترمذي: 367، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، جب کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ (2259) نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کا ایک شاہد صحیح سند کے ساتھ سنن نسائی (1188) سنن ابن ماجہ (1017) اور مسند حمیدی (148) وغیرہ میں موجود ہے، اس کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (888) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2258) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/213) نے اسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ اللَّيْثِ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، تو ہمیں کھڑا دیکھ کر (بیٹھنے کا) اشارہ کیا۔ ہم بیٹھ گئے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 413»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: ثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: ثَنِي مُعَيْقِيبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ فَاعِلا فَوَاحِدَةً" .
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوران نماز) مسجد میں کنکریوں کو چھونے کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا: اگر ایسا کرنا ہی ہے، تو ایک بار کر سکتے ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1207، صحیح مسلم: 546»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَلا يَمْسَحِ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ" .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو، تو کنکریوں کو نہ چھیڑے، کیونکہ رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/150، 163، 179، مسند الحميدي: 128، سنن أبي داود: 945، سنن النسائي: 1191، سنن الترمذي: 379، سنن ابن ماجه: 1027، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (913، 914) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2273، 2274) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (بلوغ المرام: 189) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، ان کی متابعات بھی ہیں، نیز امام زہری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں