🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. ما جاء في العيدين
عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمَسْجِدَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِحْدَاهُنَّ لا يَكُونُ لَهَا جِلْباب، قَالَ:" لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا" .
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن کنواری جوان لڑکیوں، حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو بھی (عید گاہ میں) لے کر آئیں، حائضہ نماز کی جگہ سے دور رہیں، نیز خیر اور مسلمانوں کی دُعا میں شریک ہوں، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو، تو (وہ کیا کرے)؟ فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی چادر اوڑھا دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 974، صحيح مسلم: 936»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 258
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن (عید گاہ کی طرف) نکلا۔ آپ نے (پہلے) نماز ادا کی، بعد میں خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس آئے، انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 258]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 975»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 259
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى " فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن نماز عید پڑھی، تو آپ نے خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر نماز (عید) ادا کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 960، صحيح مسلم: 885»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 260
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ " تُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ يُصَلِّي إِلَيْهَا يَوْمَ الْعِيدِ" ، وَحَدَّثَنَا بِهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ مَرَّةً أُخْرَى، وَلَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ الْعِيدِ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (عید گاہ میں) نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا، جس کی طرف منہ کر کے آپ نماز عید ادا کیا کرتے تھے۔ ابوسعید اشج نے یوم العید کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 498، صحيح مسلم: 501»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 261
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو دَاوُدُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلا بَعْدَهَا" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن باہر تشریف لائے، دو رکعات (نماز عید) ادا کی، نہ ان سے پہلے کوئی نماز ادا کی اور نہ بعد میں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 989، صحيح مسلم: 884»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْلَى الطَّائِفِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَبَّرَ فِي الْعِيدِ يَوْمَ الْفِطْرِ سَبْعًا فِي الأُولَى وَخَمْسًا فِي الآخِرَةِ سِوَى تَكْبِيرَةِ الصَّلاةِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کی نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت پانچ تکبیرات کہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/180، سنن أبي داود: 1151–1152، سنن ابن ماجه: 1278، اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ (العلل الکبیر للترمذی، ص: 93، 94، ت: 154) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَصَحَّحَهُ أَحْمَدُ وَعَلِيٌّ وَالْبُخَارِيُّ (التلخيص الحبير: 2/84، ح: 691)، حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ كَبَّرَ فِي الْعِيْدَيْنِ سَبْعًا فِي الْأُولَى وَخَمْسًا فِي الثَّانِيَةِ مِنْ طُرُقٍ كَثِيرَةٍ حِسَانٍ ”نبی کریم ﷺ سے کئی حسن سندوں کے ساتھ مروی ہے کہ آپ ﷺ نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔“ (التمهيد: 16/37) عبداللہ بن عبدالرحمن طائفی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ”موثق، حسن الحدیث“ ہے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَأَنَا أَذْهَبُ إِلى هَذَا ”میرا بھی یہی مذہب ہے۔“ (مسند الإمام أحمد: 2/180، ح: 6688)»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 263
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" شَهِدْتُ صَلاةَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ" . قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ أَجْلَسَ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلالٌ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 فَتَلا هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا:" أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ، قَالَ:" فَتَصَدَّقْنَ" قَالَ: فَبَسَطَ بِلالٌ ثَوْبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ، لَكُنَّ فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلالٍ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز فطر ادا کی، وہ سب پہلے نماز پڑھتے تھے، بعد میں خطبہ دیا کرتے تھے، فرماتے ہیں: گویا کہ اب بھی وہ نقشہ میرے سامنے ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دے کر) اترے، تو لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھانے لگے، پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا...... الخ» آیت پڑھنے کے بعد آپ نے پوچھا: آپ اس پر قائم ہیں؟ صرف ایک عورت نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کے نبی! حسن بن مسلم کو معلوم نہیں کہ وہ عورت کون تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کیا کریں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلا کر کہنے لگے: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں صدقہ دیں، چنانچہ وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 263]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 979، صحيح مسلم: 884»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" حَضَرْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ: " قَدْ قَضَيْتُمُ الصَّلاةَ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيَجْلِسْ لِلْخُطْبَةِ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ" .
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں شامل ہوا، فرمایا: نماز پوری ہو چکی ہے، جو خطبہ (سننے) کے لیے بیٹھنا چاہتا ہے، بیٹھا رہے اور جو جانا چاہتا ہے، چلا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 1151، سنن النسائي: 1572، سنن ابن ماجه: 1290، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1462) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/295) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدِ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ سورة الغاشية آية 1 فَإِذَا اجْتَمَعَ عِيدٌ وَيَوْمُ جُمُعَةٍ قَرَأَ بِهِمَا فِيهِمَا" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید میں سورت اعلٰی اور سورت غاشیہ پڑھا کرتے تھے، اگر عید اور جمعہ اکٹھے آ جاتے تو دونوں میں یہی سورتیں پڑھتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 878»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَخْبَرَنِي عُمُومَةُ لِي مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا:" غُمَّ عَلَيْنَا هِلالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ" .
ابو عمیر بن انس رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں کہ ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا، تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 266]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/86، سنن أبي داود: 1157، سنن النسائي: 1558، سنن ابن ماجه: 1653، امام دارقطنی رحمہ اللہ (2/170) نے اس کی سند کو حسن اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 3/316) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن منذر رحمہ اللہ (الأوسط: 4/294) فرماتے ہیں: حَدِيثُ أَبِي عُمير بنِ أَنَسٍ ثَابِتٌ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (محلی: 3/307، مسئلہ: 552) فرماتے ہیں: هَذَا مُسْنَدٌ صَحِيحٌ، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 1/218)، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الأحکام: 2/838) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 4/95) نے اسے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں