🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب في الخلع
خلع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 748
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ" .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے بلا وجہ اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 748]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 283/5، سنن أبي داود: 2226، سنن الترمذي: 1187، سنن ابن ماجه: 2055، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4184) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (200/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 749
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّةِ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ بِالْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذِهِ؟" فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟" قَالَتْ: لا أَنَا وَلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ" فَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلَّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ: " خُذْ مِنْهَا" فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا .
حبیبہ بنت سہل انصاریہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے اندھیرے میں باہر تشریف لائے، تو حبیبہ بنت سہل کو اپنے دروازے پر پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون؟ انہوں نے کہا: میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا پریشانی ہے؟ (اس نے کہا: میرا ثابت بن قیس کے ساتھ رہنا محال ہے۔) جب ثابت بن قیس آئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں اور اس نے جو اللہ کو منظور تھا، بیان کر دیا ہے۔ حبیبہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! انہوں نے مجھے جو کچھ دیا تھا، وہ میرے پاس موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت سے فرمایا: ان سے لے لیں۔ پس انہوں نے لے لیا اور وہ اپنے گھر جا بیٹھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 749]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 564/2، مسند الإمام أحمد: 433/6، 434، سنن أبي داود: 2227، سنن النسائي: 3492، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (4280) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، قَالَ: ثنا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُ: مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلا خُلُقٍ، وَلَكِنْ أَخَافُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلامِ، فَقَالَ: " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرُدَّ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَقَدْ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ آخِرَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی: میں ثابت کے دین اور اخلاق پر کوئی عیب نہیں لگاتی، لیکن اسلام میں کفر کرنے سے ڈرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ ان کا باغ واپس کر دیں گی؟ کہا: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ان (ثابت) کا باغ انہیں لوٹا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کر دی۔ ابو محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ روایت ابراہیم بن طہمان سے بھی مروی ہے مگر اس کے آخر میں جدائی والی بات نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 750]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5276»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 751
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ وَيَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افضل صدقہ وہ ہے، جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد ہو اور ان لوگوں سے شروع کریں، جن کا خرچ آپ کے ذمہ ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تیری بیوی کہتی ہے کہ مجھے خرچ دے یا مجھے طلاق دے دے، بیٹا کہتا ہے: مجھے کس کے حوالے کر رہے ہو، مجھ پر خرچ کرو، غلام کہتا ہے: مجھے خرچ دو یا مجھے بیچ دو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: یہ روایت صحیح بخاری (5355) میں اعمش کی سند جو ابوصالح سے بیان کرتے ہیں، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، سے بھی آتی ہے، اسی طرح صحیح بخاری (1426، 5356) میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی سند ہے، جو کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں