المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب المكاتب والمدبر
مکاتب اور مدبر (غلاموں کی اقسام) کا بیان
حدیث نمبر: 979
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: أنا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: ثني سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ لِيَسْتَعِفَّ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے: (1) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا (2) پاکدامنی کے لیے نکاح کرنے والا (3) مکاتب (غلام) جو (کتابت کی رقم ادا کرنا چاہتا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/251-437، سنن النسائي: 3220، سنن الترمذي: 1655، سنن ابن ماجه: 2518، اس حدیث کو امام ترمدی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4030) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (2/160-161) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 980
حَدَّثَنَا ابْنُ هَاشِمٍ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
یہی روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 980]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: انظر الحديث السابق۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، قَالَتْ: فَقُلْتُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، وَيَكُونُ لِي وَلاؤُكِ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَكَلَّمَتْهُمْ فِي ذَلِكَ، فَأَبَوْا إِلا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلاءُ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا بِالَّذِي قَالَ لَهَا أَهْلُهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَلا إِذًا، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ بِالَّذِي قَالُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ: أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَلِيَ الْوَلاءُ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا (لونڈی) میرے پاس آکر کہنے لگی: میرے مالکوں نے میرے ساتھ نو سالوں میں نو اوقیہ چاندی (ادا کرنے) کے عوض مکاتبت کی ہے، جسے میں ہر سال ایک اوقیہ کی صورت میں ادا کروں گی، چنانچہ میری مدد کیجیے۔ میں نے کہا: اگر آپ کا مالک یہ چاہے کہ میں ساری رقم اسے ایک ہی مرتبہ ادا کر کے آپ کو آزاد کر والوں اور آپ کے ولاء کی نسبت مجھے مل جائے، تو میں یہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی اور ان سے اس بارے میں بات کی، تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کر دیا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور اپنے مالکوں کا جواب انہیں بتایا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تب میں قیمت ادا نہیں کروں گی۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور ان (مالکوں) کی بات آپ کو بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اسے خرید کر آزاد کر دیں اور ان سے ولاء کی شرط لگا لیں، کیوں کہ ولاء کا حقدار آزاد کرنے والا ہی ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: آپ میں سے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں، جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، خواہ سینکڑوں شرطیں ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کا فیصلہ ہی برحق ہے اور اللہ کی شرط ہی نہایت پختہ ہے، آپ میں سے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے: اے فلان! آزاد تو کر دے اور ولاء میری ہوگی ہاں لیں! ولاء اسی کی ہوتی ہے، جو آزاد کرتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2560، صحيح مسلم: 1504۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ إِذَا قُتِلَ أَنْ يُؤَدَّى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةُ الْحُرِّ" ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لا يُقَامُ عَلَى الْمُكَاتَبِ إِلا حَدُّ الْمَمْلُوكِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے: مکاتب (وہ غلام جس کا مالک سے معاہدہ ہو چکا ہو کہ وہ اتنی رقم مالک کو ادا کر کے آزاد ہو جائے گا) کو اگر قتل کر دیا جائے، تو جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہے، اتنی دیت آزاد کی ادا کی جائے گی (اور جتنا غلام ہے اتنی غلام کی دیت ادا کی جائے گی) ابن عباس یہ فرماتے ہیں: مکاتب پر غلام والی حد لگائی جائے گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 1/260، سنن أبي داود: 4581، سنن النسائي: 4814۔ یحیی بن ابی کثیر مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ غُلامًا لَهُ، فَبَاعَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا (یعنی یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2534، صحيح مسلم: 997۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا ابْتَاعُهُ فَابْتَاعَهُ" ، قَالَ عَمْرٌو: وَقَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلامًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الأَوَّلِ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد کرنے کا کہا، اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبد اللہ نے کہا: میں خریدوں گا، چنانچہ انہوں نے خرید لیا۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ ایک قبطی غلام تھا، جو پہلے ہی سال مر گیا۔ ابوالزبیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اس (غلام) کا نام یعقوب تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2534، صحيح مسلم: 997۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح