🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. باب سُتْرَةِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 499 ترقیم شاملہ: -- 1111
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَال الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ، مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ ".
ابواحوص نے سماک (بن حرب) سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور اس سے آگے سے گزرنے والے کی پروا نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1111]
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو پھر نماز پڑھتا رہے اور اس سے پرے گزرنے والے کی پرواہ نہ کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1111]
ترقیم فوادعبدالباقی: 499
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 499 ترقیم شاملہ: -- 1112
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ، مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، اسحاق نے کہا: عمر بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے سماک سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز پڑھ رہے ہوتے اور جاندار ہمارے سامنے گزرتے، ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں۔ ابن نمیر نے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی، کے بجائے تو جو کوئی بھی اس کے سامنے سے گزرے گا اسے اس کا کوئی نقصان نہیں کے الفاظ بیان کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1112]
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نماز پڑھتے رہتے اور جاندار ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز تمہارے سامنے موجود ہو، پھر اسے اس سے آگے گزرنے والی چیز مضر نہیں ہے، ابن نمیر نے «مَا» کی جگہ «مَنْ» کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1112]
ترقیم فوادعبدالباقی: 499
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 500 ترقیم شاملہ: -- 1113
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؟ فَقَالَ: مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ".
سعید بن ابی ایوب نے ابواسود سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: پالان کی پچھلی لکڑی کے مثل ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1113]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1113]
ترقیم فوادعبدالباقی: 500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 500 ترقیم شاملہ: -- 1114
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؟ فَقَالَ: كَمُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ".
حیوہ نے ابواسود محمد بن عبدالرحمن سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: پالان کی پچھلی لکڑی کے مانند ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1114]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ تبوک کے موقع پر نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ» پالان کے پچھلے حصے کی طرح یا اس کے برابر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1114]
ترقیم فوادعبدالباقی: 500
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 501 ترقیم شاملہ: -- 1115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ، أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ، اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ ".
عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو نیزے کا حکم دیتے، وہ آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے، سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے، اس بنا پر حکام نے اس (نیزہ گاڑنے) کو اپنا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1115]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن باہر نکلتے تو نیزہ اپنے آگے گاڑنے کا حکم دیتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے، سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے، اسی بنا پر حکام نیزہ رکھتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1115]
ترقیم فوادعبدالباقی: 501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 501 ترقیم شاملہ: -- 1116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَرْكُزُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " يَغْرِزُ الْعَنَزَةَ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا " زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَهِيَ الْحَرْبَةُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبید اللہ نے نافع سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ امام مسلم کے استاد ابن نمیر نے یرکز اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے یغزر کا لفظ استعمال کیا (دونوں کے معنیٰ ہیں: آپ گاڑتے تھے۔) اور ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: عبید اللہ نے کہا: اس (عنزۃ) سے مراد حربۃ (برچھی) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1116]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ ابن نمیر نے «يَرْكُزُ» اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے «يَغْرِزُ» کا لفظ استعمال کیا (دونوں کے معنی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گاڑتے تھے۔) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے، عبیداللہ نے کہا: اس ( «عَنَزَة») سے مراد «حَرْبَة» ہے۔ (برچھا) [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 501
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 502 ترقیم شاملہ: -- 1117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا ".
معتمر بن سلیمان نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بوقت ضرورت) اپنی سواری کو سامنے کر کے (بٹھا لیتے اور) اس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھ لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1117]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے بٹھا کر اس کی طرف نماز پڑھتے یا اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 502 ترقیم شاملہ: -- 1118
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی کبھی) اپنی سواری کو سامنے رکھتے ہوئے نماز پڑھ لیتے تھے۔ اور (محمد) بن نمیر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو سامنے رکھتے ہوئے (قبلہ رو ہو کر) نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1118]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے اور ابن نمیر نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ یا اونٹنی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 503 ترقیم شاملہ: -- 1119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ، فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ، هَا هُنَا، وَهَهُنَا، يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا، يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ، لَا يُمْنَعُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
سفیان نے بیان کیا: ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد (حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں (قیام پذیر) تھے۔ (ابوجحیفہ نے) کہا: بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے (بعدازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے (دوسرے سے اس کی) نمی لے لی۔ انہوں نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلہ (لباس کے اوپر لمبا چوغہ) پہنے ہوئے نکلے، (ایسا لگتا ہے) جیسے (آج بھی) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، انہوں نے کہا: میں بھی ان کے منہ کے پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا، (جب) وہ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا، کہا: پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہر کی دو رکعتیں (قصر) پڑھائیں، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزرتا تھا، انہیں روکا نہ جاتا تھا، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1119]
حضرت عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح مقام پر سرخ چمڑے کے ایک خیمہ میں تھے، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لے کر نکلے، کسی کو پانی مل گیا اور کسی پر دوسرے نے چھڑک دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑا پہنے ہوئے نکلے، گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، اور میں ان کے منہ کے ساتھ ادھر ادھر دائیں بائیں منہ پھیرنے لگا، وہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نماز کی طرف آؤ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کامیابی کی طرف آؤ کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تشریف لائے تھے اس بنا پر مسافر تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گدھے اور کتے گزرتے رہے، کسی نے انہیں روکا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر مدینہ واپسی تک دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 503 ترقیم شاملہ: -- 1120
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وَضُوءًا، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ الْوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا، تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ، أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَة ".
عمر بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا (کہا:) اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ آپ کے وضو کا پانی باہر لے آئے تو میں نے دیکھا لوگ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو اس سے نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھ کے ہاتھ کی نمی سے نمی حاصل کر لی، پھر میں نے بلال کو دیکھا انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور اسے گاڑ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلہ پہنے ہوئے نکلے جو آپ نے پنڈلیوں تک اونچا کیا ہوا تھا، آپ نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو نیزے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1120]
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں دیکھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی باہر نکالا۔ انہوں نے کہا: تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کو اس میں سے کچھ پانی مل گیا، اس نے اسے بدن پر مل لیا اور جس کو نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے تر ہاتھ سے اپنا ہاتھ تر کر لیا، پھر میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑے میں اسے اوپر اٹھائے ہوئے نکلے یا جلدی سے نکلے اور نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو دیکھا کہ وہ اس نیزے کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 503
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں