صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1285
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي؟ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ "، ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
(علی) بن مسہر نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ابراہیم نے کہا کہ یہاں وہم مجھے ہوا ہے، علقمہ کو نہیں۔ عرض کی گئی: اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہی ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، اس لیے جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ (قبلہ کی طرف) پھیرا اور دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1285]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، اس میں اضافہ یا کمی کی (ابراہیم کا قول ہے یہاں وہم مجھے ہوا)۔ پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں، میں بھی بھول سکتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، تو جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1285]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1286
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ ".
حفص اور ابومعاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام اور گفتگو کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1286]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سجودِ سہو سلام و کلام (گفتگو) کے بعد کیے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1286]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1287
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَايْمُ اللَّهِ، مَا جَاءَ ذَاكَ، إِلَّا مِنْ قِبَلِي، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: الَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: " إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ "، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ.
زائدہ نے سلیمان (اعمش) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے زیادہ پڑھا دیا یا کم۔ ابراہیم نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (وہم) میری طرف سے ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کرے۔“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1287]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافہ یا کمی کی، ابراہیم کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم! یہ (وہم) میری ہی طرف سے ہے“، تو ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زیادتی یا کمی کر بیٹھے تو وہ دو سجدے کر لے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1287]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1288
حَدَّثَنِي، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرَ، وَإِمَّا الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمِينًا، وَشِمَالًا، فَقَالَ: مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ قَالُوا: صَدَقَ، لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، " فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَسَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَرَفَعَ "، قَالَ: وَأُخْبِرْتُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ.
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہم سے ایوب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے محمد بن سیرین سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کے بعد کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، پھر قبلے کی سمت (گڑے ہوئے) کجھور کے ایک تنے کے پاس آئے اور غصے کی کیفیت میں اس سے ٹیک لگا لی۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما موجود (بھی) تھے، انہوں نے آپ کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی جبکہ جلد باز لوگ (نماز پڑھ کر) نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز میں کمی ہو گئی ہے۔ تو ذوالیدین (نامی شخص) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز مختصر کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں دیکھ کر پوچھا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: سچ کہہ رہا ہے، آپ نے دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ نے دو رکعتیں (مزید) پڑھیں اور سلام پھیر دیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا۔ (محمد بن سیرین نے) کہا: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا: اور سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1288]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی ایک نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر مسجد کے سامنے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر غصہ کی حالت میں کھڑے ہو گئے، لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی بنا پر گفتگو نہ کی، اور جلد باز لوگ نکل گئے (یہ سمجھتے ہوئے) کہ نماز میں کمی ہو گئی ہے، تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نامی شخص کھڑا ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں دیکھ کر فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”سچ کہہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (اور) پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ کیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سر اٹھایا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ کیا، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ سے اٹھے، محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1288]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1289
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.
(سفیان کے بجائے) حماد نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی (آگے سفیان (بن عیینہ) کے ہم معنی حدیث سنائی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1289]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی ایک نماز پڑھائی، سفیان کے ہم معنی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1289]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1290
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، " فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ".
ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان سے روایت ہے کہ اس نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں میں سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین (نامی شخص) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی کام نہیں ہوا۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کوئی ایک کام تو ہوا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز رہ گئی تھی پوری کی، پھر بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1290]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، تو حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی بھول گئے ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کام نہیں ہوئے۔“ تو انہوں نے عرض کی: ”ایک کام تو ہوا ہے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ نماز پوری کی، پھر دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1290]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1291
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْخَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ (آگے (سابقہ) حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1291]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سلیم قبیلہ کا ایک آدمی آیا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟“ پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 573 ترقیم شاملہ: -- 1292
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.
شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اقتداء میں) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا (آگے (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1292]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تو سلیم خاندان کا ایک آدمی کھڑا ہوا،“ آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1292]
ترقیم فوادعبدالباقی: 573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 574 ترقیم شاملہ: -- 1293
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، وَخَرَجَ غَضْبَانَ، يَجُرُّ رِدَاءَهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، " فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد (حذاء) سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو (سہو) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ غصے کی حالت میں، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ پہنچے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں! تو آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1293]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں چادر کھینچتے ہوئے نکلے، حتیٰ کہ لوگوں کے پاس آ گئے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو سجدے (سہو کے لیے) کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1293]
ترقیم فوادعبدالباقی: 574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 574 ترقیم شاملہ: -- 1294
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ، فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَخَرَجَ مُغْضَبًا، " فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
عبدالوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت میں سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہو گئے، ایک (لمبے) چوڑے ہاتھوں والا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ پھر آپ غصے کے عالم میں نکلے اور چھوڑی ہوئی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1294]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تیسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا، پھر اٹھ کر کمرے میں داخل ہونے لگے تو کھلے ہاتھوں والا ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں نکلے اور وہ رکعت جو چھوٹ گئی تھی پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر بھول کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1294]
ترقیم فوادعبدالباقی: 574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة