🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ:
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 954 ترقیم شاملہ: -- 2211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟، قَالَ: الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: " انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا "، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَنْ حَدَّثَكَ؟، قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ،
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی نے کہا: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گیلی (نئی) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور انہوں نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے عامر (بن شراحیل شعبی) سے پوچھا: آپ کو (یہ حدیث) کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2211]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر (میت کے) دفن کے بعد نماز پڑھی اور اس میں چار تکبیرات کہیں، شیبانی کہتے ہیں: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے سنائی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد شخصیت، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ یہ حسن کی روایت ہے اور ابن نمیر کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نئی اور تازہ قبر پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں (شیبانی) نے عامر (شعبی) سے پوچھا: تمہیں یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد جو اس جنازے میں شریک تھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 954 ترقیم شاملہ: -- 2212
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "،
ہشیم، عبدالواحد بن زیاد، جریر، سفیان، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2212]
امام صاحب نے تقریباً سات اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 954 ترقیم شاملہ: -- 2213
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ: " وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ".
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، ان کی حدیث میں (بھی) «وكبر أربعا» (آپ نے چار تکبیریں کہیں) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2213]
امام صاحب نے اپنے کئی اور اساتذہ سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نماز پڑھنے کی حدیث بیان کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیرات سے نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 955 ترقیم شاملہ: -- 2214
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2214]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 956 ترقیم شاملہ: -- 2215
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، واللفظ لأبي كامل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ: " أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ "، فَدَلُّوهُ " فَصَلَّى عَلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔۔۔ یا ایک نوجوان تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟ کہا: گویا ان لوگوں نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر دکھائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: اہل قبور کے لیے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور میری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان (قبروں) کو منور فرما دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2215]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک حبشن (حبشی عورت) یا حبشی جوان مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گم پایا (اس کو نہ دیکھا) تو اس عورت یا مرد کے بارے میں پوچھا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ راوی کا خیال ہے گویا کہ سب نے اس کے معاملے کو حقیر خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔ ساتھیوں نے اس کی قبر دکھائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انسان کا جنازہ پڑھا، پھر فرمایا: یہ قبریں قبر والوں کے لیے اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ میری ان پر نماز پڑھنے سے ان کو (قبروں کو) ان کے لیے (اموات) کے لیے روشن اور منور فرما دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 956
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 957 ترقیم شاملہ: -- 2216
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: " كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا "، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا ".
عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا: زید رضی اللہ عنہ (بن ارقم) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے، انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں، میں نے ان سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات) اتنی (پانچ) تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2216]
عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیرات کہا کرتے تھے، اور انہوں نے ایک جنازہ پر پانچ تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (بعض دفعہ) ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں