🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

94. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ:
باب: مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1394 ترقیم شاملہ: -- 3374
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، آپ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3374]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں نماز پڑھنا، مسجد حرام کے سوا مساجد میں، ایک ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3374]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1394 ترقیم شاملہ: -- 3375
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ".
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی (**لہ**) علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز کسی بھی اور مسجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام (کی نماز) کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3375]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز میری اس مسجد میں، دوسری مساجد میں ہزار نماز سے بہتر ہے، سوائے مسجد حرام کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3375]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1394 ترقیم شاملہ: -- 3376
حَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وأبى عبد الله الأغر ، مولى الجهنيين، وكان من أصحاب أبي هريرة، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدَهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ، لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ، عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنْا ذَلِكَ أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ، وَتَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ جَالَسَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ، وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْهُ، فقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینہ والوں کے آزاد کردہ غلام ابوعبداللہ اغر سے روایت ہے۔ اور یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) میں سے تھے۔ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کو چھوڑ کر دوسری مساجد میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام میں سے آخری ہیں، اور آپ کی مسجد (بھی کسی نبی کی تعمیر کردہ) آخری مسجد ہے۔ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ نے کہا: ہمیں اس بارے میں شک نہ تھا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بیان کر رہے ہیں چنانچہ اسی بات نے ہمیں روکے رکھا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا) اثبات کرائیں حتیٰ کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ہم نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کی کہ ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں گفتگو کیوں نہیں کی، تا کہ اگر انہوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیتے۔ ہم اسی کیفیت میں تھے کہ عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ ہمارے ساتھ مجلس میں آ بیٹھے تو ہم نے اس حدیث کا اور جس بات کے بارے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صراحت کرانے میں ہم نے کوتاہی کی تھی کا تذکرہ کیا تو عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے ہمیں کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں تمام انبیاء علیہم السلام میں سے آخری نبی ہوں۔ اور میری مسجد آخری مسجد ہے (جسے کسی نبی نے تعمیر کیا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3376]
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینوں کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ الاغرّ (جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تلامذہ میں سے ہیں) دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا، مسجد حرام کے سوا باقی مساجد سے ہزار نماز افضل ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (انبیاء علیہم السلام کی) آخری مسجد ہے، ابو سلمہ اور ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی بنا پر کہتے تھے، اس چیز نے ہمیں ابو ہریرہ سے اس حدیث کے بارے میں تحقیق کرنے سے روک دیا، حتی کہ جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے، ہم نے باہم اس بات کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کی کہ ہم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سلسلہ میں گفتگو کیوں نہ کی تاکہ اگر انہوں نے یہ حدیث آپ سے سنی تھی، تو اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیتے، ہم یہی گفتگو کر رہے تھے کہ ہمارے پاس عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ آ کر بیٹھ گئے، تو ہم نے یہ حدیث بیان کر کے کہ ہم سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صراحت کروانے کے سلسلہ میں جو کوتاہی ہوئی تھی، اس کا تذکرہ کیا تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا، میں شہادت دے کر کہتا ہوں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3376]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1394 ترقیم شاملہ: -- 3377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ بْنُ الْمُثَنَّى حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِحٍ هَلْ سَمِعْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَذْكُرُ فَضْلَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ، أَوْ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ "،
عبدالوہاب نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا، میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوصالح سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں البتہ مجھے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا (دوسری) مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر۔ یا فرمایا: ایک ہزار نمازوں کی طرح ہے۔ الا یہ کہ وہ مسجد حرام ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3377]
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں، میں نے ابو صالح سے پوچھا، کیا آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں حدیث سنی ہے، انہوں نے کہا، نہیں، لیکن مجھے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد سے سوائے مسجد حرام کے ہزار نماز سے بہتر ہے، یا ہزار کے برابر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1394 ترقیم شاملہ: -- 3378
یحییٰ قطان نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3378]
یہی روایت امام صاحب نے چند اور اساتذہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3378]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1394
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1395 ترقیم شاملہ: -- 3379
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ "،
یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ (بن عمر) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا (دوسری مسجدوں میں) ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3379]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز، مسجد حرام کے سوا باقی مساجد سے ایک ہزار نماز سے بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1395 ترقیم شاملہ: -- 3380
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر اور عبدالوہاب سب نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ (یہ) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3380]
امام صاحب ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت چند اور اساتذہ سے عبیداللہ کی سند سے ہی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3380]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1395 ترقیم شاملہ: -- 3381
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
موسیٰ جہنی نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3381]
امام صاحب ایک اور سند سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3381]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1395 ترقیم شاملہ: -- 3382
وحدثناه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ایوب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3382]
امام صاحب ایک اور سند سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3382]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1395
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1396 ترقیم شاملہ: -- 3383
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جميعا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حدثنا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى، فقَالَت: إِنْ شَفَانِي اللَّهُ لَأَخْرُجَنَّ، فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِس، فَبَرَأَتْ، ثُمَّ تَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فقَالَت: اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتِ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ ".
لیث نے نافع سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن معبد(بن عباس) سے روایت کی، (کہا:) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک عورت بیمار ہو گئی، اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جا کر ضرور نماز ادا کروں گی۔ وہ صحت یاب ہو گئی، پھر سفر کے ارادے سے تیاری کی (سفر سے پہلے) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں سلام کہنے کے لیے حاضر ہوئی اور انہیں یہ سب بتایا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ اور جو (زاد راہ) تم نے تیار کیا ہے وہ کھا لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ لو۔ بلاشبہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اس (مسجد) میں ایک نماز پڑھنا اس کے سوا (باقی) تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائے مسجد کعبہ کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3383]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت، ایک بیماری میں مبتلا ہو گئی، تو اس نے کہا، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا بخش دی تو میں جا کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھوں گی، وہ شفا یاب ہو گئی، پھر نکلنے کی تیاری کی تو سلام عرض کرنے کے لیے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور انہیں اپنے ارادہ سے آگاہ کیا، تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا، بیٹھ رہو اور جو کھانا (سفر کے لیے) تیار کیا ہے کھا لو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اس میں نماز باقی مساجد سے ہزار نماز سے افضل ہے، سوائے مسجد کعبہ کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3383]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں