مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
93. من جعل السلب للقاتل
جو شخص مقتول کا چھینا ہوا مال قاتل کا حق قرار دے
ترقیم عوامۃ: 33754 ترقیم الشثری: -- 35293
٣٥٢٩٣ - حدثنا ابو معاوية عن (ابي) (١) مالك الاشجعي عن نعيم بن ابي هند عن ابن سمرة بن جندب عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"من قتل فله السلب" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) مجهول؛ لجهالة ابن سمرة، أخرجه أحمد (٢٠١٤٤)، وابن ماجه (٢٨٣٨)، والطبراني (٦٩٩٥)، والبيهقي ٦/ ٣٠٩، والحارث (٦٧٠/ بغية).
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قتل کرے تو مقتول کا مال قتل کرنے والے کے لیے ہی ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35293، ترقيم محمد عوامة 33754)
ترقیم عوامۃ: 33755 ترقیم الشثری: -- 35294
٣٥٢٩٤ - حدثنا وكيع عن ابي العميس عن إياس بن سلمة بن الاكوع عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"من قتل فله السلب" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٥١)، ومسلم (١٧٥٤).
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا دفرمایا: جو شخص قتل کرے تو مقتول کا مال قاتل کا ہی ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35294، ترقيم محمد عوامة 33755)
ترقیم عوامۃ: 33756 ترقیم الشثری: -- 35295
٣٥٢٩٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة عن انس (ان) (١) رسول الله ﷺ قال يوم حنين:"من قتل قتيلا ⦗٣٦٢⦘ فله سلبه"، فقتل ابو طلحة يومئذ عشربن رجلا فاخذ اسلابهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال: قال).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢١٣١)، وأبو داود (٢٧١٨)، وابن حبان (٤٨٣٦)، والحاكم ٣/ ٣٥٣، والدارمي (٢٤٨٤)، والطيالسي (٢٠٧٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٢٤٥)، وابن سعد ٣/ ٥٠٥، والطحاوي ٣/ ٢٢٧، وابن عدي ٢/ ٢٦٦، والضياء (١٥٢١)، والبيهقي ٧/ ٣٠٦، وأبو عبيد في الأموال (٧٧٧).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین والے دن ارشاد فرمایا: جو شخص کسی آدمی کو قتل کرے گا تو مقتول کا مال اسی کو ملے گا، پس حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا مال لے لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35295، ترقيم محمد عوامة 33756)
ترقیم عوامۃ: 33757 ترقیم الشثری: -- 35296
٣٥٢٩٦ - حدثنا ابو معاوية عن الشيباني عن محمد بن عبيد الله عن سعد بن ابي وقاص قال: لما كان يوم بدر قتلت سعيد بن العاص واخذت سيفه، وكان (سيفه) (١) يسمى (ذا الكتيفة) (٢) ، قال: وقتل اخي عمير، فجئت بالسيف إلى النبي ﷺ قال:"فاذهب فاطرحه في القبض"، فرجعت وبي ما لا يعلمه إلا الله من قتل اخي واخذ (سيفي) (٣) ، فما لبثت إلا قليلا حتى نزلت سورة الانفال، فدعاني رسول الله ﷺ (قال) (٤) : فقال:"اذهب فخذ سيفك" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سيفي).
(٢) في [أ، ب]: (ذا اللقينة).
(٣) في [س]: (سلبي).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) منقطع؛ محمد بن عبد اللَّه لا يروي عن سعد، أخرجه أحمد (١٥٥٦)، وأبو عبيد في الأموال (٧٥٦)، وسعيد بن منصور (٢٦٨٩)، وابن زنجويه (١١٢٦)، والطبري ٩/ ١٧٣، والواحدي في أسباب النزول ص ١٥٥، وبنحوه أخرجه أبو داود (٢٧٤٠)، والترمذي (٣٠٧٩)، والنسائي في الكبرى (١١١٩٦)، والحاكم ٢/ ١٣٢، وأصله في مسلم (١٧٤٨).
حضرت محمد بن عبید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب غزوہ بدر کا دن تھا تو میں نے حضرت سعید بن عاصی کو قتل کیا اور میں نے ا س کی تلوار لے لی اور اس کی تلوار کا نام ذوالکتیفہ تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میرے بھائی عمیر کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ پس میں تلوار لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اس تلوار کو مقبوضہ مال غنیمت میں ڈال دو۔ پس میں لوٹا اس حال میں کہ میرے دل میں میرے بھائی کے قتل اور مقتول کا مال لینے سے متعلق جو بات تھی وہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ اتنے میں سورة الانفال نازل ہوگئی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: جاؤ اپنی تلوار لے لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35296، ترقيم محمد عوامة 33757)
ترقیم عوامۃ: 33758 ترقیم الشثری: -- 35297
٣٥٢٩٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن نافع عن ابن عمر قال: غزا ابن عمر العراق فقال له (١) عمر: بلغني انك بارزت دهقانا؟ قال: نعم، فاعجبه ذلك فنفله سلبه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (ابن).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه ابن سعد ٤/ ١٧٠.
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عراق میں جنگ کے لیے تشریف لے گئے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے ایک جاگیر دار سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس پر تعجب ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو اس مقتول کا مال بطور زائد دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35297، ترقيم محمد عوامة 33758)
ترقیم عوامۃ: 33759 ترقیم الشثری: -- 35298
٣٥٢٩٨ - حدثنا ابو الاحوص عن (الاسود) (١) بن قيس عن شبر بن علقمة قال: بارزت رجلا يوم القادسية من الاعاجم فقتلته (واخذت) (٢) سلبه، فاتيت سعدا، فخطب سعد اصحابه ثم قال: هذا سلب شبر (٣) ، لهو خير من اثني عشر الف درهم، وإنا قد نفلناه إياه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (سعد).
(٢) في [أ، ب]: (فأخذت).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٤) مجهول؛ لجهالة شبر بن علقمة، أخرجه الشافعي كما في السنن (٦١٦)، وسعيد بن منصور (١) (٢٦٩٢)، والبيهقي ٦/ ٣١١، وعبد الرزاق (٩٤٧٣)، والبخاري في التاريخ ٤/ ٢٦٧، وابن حبان في الثقات ٤/ ٣٧١، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٤١٩.
حضرت اسود بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شبر بن علقمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے جنگ قادسیہ کے دن اہل عجم میں سے ایک آدمی کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں نے اس کو قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا پھر میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے خطاب کیا اور فرمایا: یہ شبر کا مال ہے۔ اور یہ بارہ ہزار درہم سے بہتر ہے۔ اور یقینا ہم نے یہ مال ان کو بطور زائد دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35298، ترقيم محمد عوامة 33759)
ترقیم عوامۃ: 33760 ترقیم الشثری: -- 35299
٣٥٢٩٩ - حدثنا (عيسى) (١) بن يونس عن ابن عون وهشام عن ابن سيرين عن انس بن مالك قال ابن عون: بارز البراء بن مالك وقال هشام: حمل البراء بن مالك على مرزبان (الزارة) (٢) يوم الزارة، وطعنه طعنة (في) (٣) (قربوس) (٤) سرجه فقتله وسلبه سواريه ومنطقته، فلما قدمنا صلى عمر الصبح ثم اتانا فقال: اثم ابو طلحة، فخرج إليه فقال: إنا كنا لا نخمس السلب، وإن سلب البراء مال، فخمسه (يبلغ) (٥) ستة آلاف، بلغ ثلاثين الفا، قال محمد: فحدثني انس بن مالك انه او (ل) (٦) سلب خمس في الإسلام (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عدي).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ب]: (دقا).
(٤) في [أ، ب]: (قرنوس).
(٥) في [س]: (فبلغ).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) صحيح.
حضرت عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ حضرت ابن عون اور حضرت ہشام ان دونوں سے اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابن عون نے یوں فرمایا کہ حضرت براء بن مالک رحمہ اللہ نے مقابلہ کیا اور حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن مالک رحمہ اللہ نے جنگ زارہ کے دن مرزبان زارہ پر حملہ کردیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ابھرے ہوئے کنارے میں گھس گیا اور وہ مرگیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے کنگن اور کمر بند لے لیے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم واپس لوٹے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور پوچھا کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں؟ اتنے میں حضرت ابو طلحہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نکل آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا ہم مقتول کے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ لیکن براء کے مقتول کا سامان بہت زیادہ مال ہے پس آپ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے خمس وصول کیا جو چھ ہزار بنا اس لیے کہ اس کی کل قیمت تیس ہزار تھی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا: کہ اسلام میں یہ پہلا مقتول سے چھینا ہوا سامان تھا جس میں سے خمس وصول کیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35299]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35299، ترقيم محمد عوامة 33760)
ترقیم عوامۃ: 33761 ترقیم الشثری: -- 35300
٣٥٣٠٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن حسان عن ابن سيرين عن انس بن مالك قال: كان السلب (لا) (١) يخمس، فكان اول سلب خمس في الإسلام سلب البراء بن مالك، وكان حمل على مرزبان الزارة فطعنه بالرمح حتى دق (قربوس) (٢) السرج، ثم نزل إليه فقطع منطقته وسواريه، قال: فلما قدمنا المدينة صلى عمر بن الخطاب صلاة الغداة، ثم (اتانا) (٣) (٤) فقال: السلام عليكم اثم ابو طلحة، فقال: نعم، فخرج إليه فقال عمر: إنا كنا لا نخمس السلب، وإن سلب البراء (بن مالك) (٥) مال وإني خامسه، فدعا المقومين (فقوموا) (٦) ثلاثين الفا فاخذ (منه) (٧) ستة آلاف (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (قرنوس).
(٣) في [أ، ب]: (أتى).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (نافعًا).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [أ، ب]: (فقوموه).
(٧) في [هـ]: (منها).
(٨) صحيح.
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلا خمس جو مقتول کے مال سے لیا گیا وہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے مقتول کے سامان سے لیا گیا۔ اس طرح کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مرزبان زارہ پر حملہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو نیزہ مارا جو اس کی زین کے ایک سرے میں گھس گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس کی کمر بند اور اس کے کنگنوں کو کاٹ کر اتار لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کرنے کے بعد پوچھا: کہ کیا ابو طلحہ یہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں ہوں۔ اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نکل آئے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم مقتول سے چھینے ہوئے مال میں سے خمس نہیں لیتے۔ اور یقینا براء کے مقتول کا سامان بہت بڑا مال ہے۔ یقینا میں اس کا خمس لوں گا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے قیمت لگانے والوں کو بلایا تو انہوں نے اس کی تیس ہزار قیمت لگائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس میں سے چھ ہزار وصول کرلیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35300]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35300، ترقيم محمد عوامة 33761)
ترقیم عوامۃ: 33762 ترقیم الشثری: -- 35301
٣٥٣٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن ابي بكر قال: حدثت عن ابي قتادة الانصاري انه قال: قال رسول الله ﷺ:"من قتل قتيلا فله سلبه"، قال: فقلت: يا رسول الله، قد قتلت قتيلا (ذا سلب) (١) ثم (اجهضني) (٢) عنه القتال فما ادري من سلبه، قال رجل من اهل مكة: صدق يا رسول الله، قد قتل قتيلا فسلبته فارضه عني، قال ابو بكر: لا والله لا تفعل، تنطلق إلى (اسد) (٣) ⦗٣٦٥⦘ (من) (٤) اسد الله (٥) يقاتل عنه تقاسمه؟ فقال رسول الله قول:"صدق، ادفع إليه سلبه" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (أجهضتني).
(٣) في [أ، ب]: (أسيد).
(٤) في [ب]: (عن).
(٥) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٦) منقطع؛ عبد اللَّه بن أبي بكر لم يرو عن أبي قتادة، أخرجه أحمد (٢٢٦٠٧)، وابن هشام في السيرة ٤/ ٩٠، وأصله عند البخاري (٣١٤٢)، ومسلم (١٧٥١).
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو اس مقتول کا مال قاتل کا ہوگا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! میں نے ایک بہت سامان والے شخص کو قتل کیا تھا پھر لڑائی نے مجھے اس سے مشغول کردیا۔ میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سامان اتار لیا؟ مکہ کا ایک شخص کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول 5! اس نے سچ کہا: تحقیق اس نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پس میں نے اس کا سامان اتار لیا اب آپ رضی اللہ عنہ اس کو میری طرف سے خوش کردیں۔ حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کا مال دوسروں میں تقسیم فرما دیں گے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر نے سچ کہا: تم اس کا سامان اسے دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35301]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35301، ترقيم محمد عوامة 33762)
ترقیم عوامۃ: 33763 ترقیم الشثری: -- 35302
٣٥٣٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا عكرمة بن عمار عن إياس بن سلمة بن الاكوع عن ابيه قال: بارزت رجلا فقتلته، فقال رسول الله ﷺ:"من قتل هذا؟"، قال: ابن الاكوع، قال:"له سلبه" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٠٥١)، ومسلم (١٧٥٤).
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ میں نے ایک آدمی سے مقابلہ کیا اور میں نے اسے قتل کردیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس شخص کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مقتول کا مال ابن اکوع کے لیے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35302]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35302، ترقيم محمد عوامة 33763)