🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. بَابُ ذِكْرِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ
باب: نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " جس کا کوئی امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کررہاہو) تو امام کا قرات کرنا اس شخص کا قرات کرنا شمار ہوگا (اس بارے میں روایات کا اختلاف)۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1218 ترقیم الرسالہ : -- 1233
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" . لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، غَيْرُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عُمَارَةَ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی سند کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: جس شخص کا امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کر رہا ہو) تو امام کی قراءت اس شخص کی قراءت کی ہو گی۔ اس روایت کو موسیٰ نامی راوی سے صرف امام ابوحنیفہ اور حسن نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1233]
ترقیم العلمیہ: 1218
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 850، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2940، 2941، 2942، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1233، 1234، 1236، 1237، 1253، 1254، 1501، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14869»
«قال الدارقطني: لم يسنده عن موسى بن أبي عائشة غير أبي حنيفة والحسن بن عمارة وهما ضعيفان، سنن الدارقطني: (2 / 107) برقم: (1233)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1219 ترقیم الرسالہ : -- 1234
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَقْرَأُ، فَنَهَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَازَعَا، فَقَالَ: أَتَنْهَانِي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَنَازَعَا حَتَّى بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ فَإِنَّ قِرَاءَتَهُ لَهُ قِرَاءَةٌ" . وَرَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ.
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اپنی سند کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ کی اقتداء میں ایک صاحب نے قراءت کرنا شروع کر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک نے اسے روکا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں نے بحث شروع کر دی۔ پہلے والے صاحب بولے: کیا آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں قراءت کرنے سے روک رہے ہیں؟ ان دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی اس بات کا پتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو امام کی قراءت ہی اس شخص کی قراءت شمار ہوتی ہے۔ اس روایت کو امام لیث بن سعد نے امام ابویوسف کے حوالے سے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1234]
ترقیم العلمیہ: 1219
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 850، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2940، 2941، 2942، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1233، 1234، 1236، 1237، 1253، 1254، 1501، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14869»
«قال ابن حجر: ضعيف عند الحفاظ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 254)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1220 ترقیم الرسالہ : -- 1235
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بـ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى؟"، فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَسَأَلَهُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَيَسْكُتُونَ، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
لیث بن سعد، امام ابویوسف اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں سورہ الاعلیٰ کی تلاوت شروع کی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو دریافت کیا: تم میں سے کس نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت کی تھی؟ راوی بیان کرتے ہیں: سب لوگ خاموش رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین مرتبہ سوال کیا ہر مرتبہ وہ خاموش رہے پھر اس شخص نے عرض کی: میں نے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لیے دشواری پیدا کر رہا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1235]
ترقیم العلمیہ: 1220
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1235، وله شواهد من حديث عمران بن حصين، فأما حديث عمران بن حصين بن عبيد بن خلف الخزاعي أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 398، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 828، 829، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 916»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1221 ترقیم الرسالہ : -- 1236
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَنَهَاهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: أَتَنْهَانِي أَنْ أَقْرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَذَاكَرَا ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَتَهُ لَهُ قِرَاءَةٌ" . أَبُو الْوَلِيدِ هَذَا مَجْهُولٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي هَذَا الإِسْنَادِ جَابِرًا غَيْرُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی، ایک دوسرے شخص نے اس کو اشارے سے روکا، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو پہلا شخص بولا: کیا تم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں قراءت کرنے سے روک رہے ہو؟ ان دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بات کو سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو تو امام کی قراءت اس شخص کی قراءت شمار ہوتی ہے۔ ابوالولید نامی راوی مجہول ہے۔ اس کی سند میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کا ذکر صرف امام ابوحنیفہ نے کیا ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1236]
ترقیم العلمیہ: 1221
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 850، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2940، 2941، 2942، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1233، 1234، 1236، 1237، 1253، 1254، 1501، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14869»
«قال ابن حجر: ضعيف عند الحفاظ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 254)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1222 ترقیم الرسالہ : -- 1237
حَدَّثَنَا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي الأَزْهَرِ التَّيْمِيُّ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، بِهَذَا. الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، وَشَرِيكٌ، وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالانِيُّ، وَأَبُو الأَحْوَصِ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَغَيْرُهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، مُرْسَلا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ بعض اسناد میں یہ روایت مرسل حدیث کے طور پر منقول ہے اور یہی درست ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1237]
ترقیم العلمیہ: 1222
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 850، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2940، 2941، 2942، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1233، 1234، 1236، 1237، 1253، 1254، 1501، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14869»
«قال ابن حجر: ضعيف عند الحفاظ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 254)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1223 ترقیم الرسالہ : -- 1238
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ" . مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ مَتْرُوكٌ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کا امام ہو (یعنی باجماعت نماز ادا کر رہا ہو) تو امام کا قراءت کرنا اس شخص کا قراءت کرنا شمار ہو گا۔ اس روایت کا راوی محمد بن فضل متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1238]
ترقیم العلمیہ: 1223
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 283، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2945، 2949، 2950، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1238، 1502، 1503، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2814»
«قال الدارقطني: مُحمد بن الفضل متروك»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1224 ترقیم الرسالہ : -- 1239
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا: نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي، ثنا الأَوْزَاعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ هَذِهِ الآيَةِ:" وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْءَانُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ سورة الأعراف آية 204، قَالَ: نزلت فِي رَفْعِ الأَصْوَاتِ وَهُمْ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ" . لَفْظُ ابْنِ أَبِي دَاوُدَ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں: اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے، تو تم خاموش رہو اور غور سے سنو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ ایک آواز بلند کرنے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ لوگ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابوداؤد رحمہ اللہ نامی راوی کے ہیں۔ اس روایت کا راوی عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1239]
ترقیم العلمیہ: 1224
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2931، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1239، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8466»
«قال الدارقطني: وعبد الله بن عامر ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 12)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1225 ترقیم الرسالہ : -- 1240
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" مَنْ ذَا الَّذِي يُخَالِجُنِي سُورَتَهُمْ"، فَنَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ . وَلَمْ يَقُلْ هَكَذَا غَيْرُ حَجَّاجٍ، وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ قَتَادَةَ، مِنْهُمْ: شُعْبَةُ، وَسَعِيدٌ وَغَيْرُهُمَا، فَلَمْ يَذْكُرُوا أَنَّهُ نَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ، وَحَجَّاجٌ لا يُحْتَجُّ بِهِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ایک شخص نے آپ کی اقتداء میں قراءت کرنا شروع کر دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: تم میں سے کون شخص میری سورت (تلاوت) کے بارے میں رکاوٹ ڈال رہا تھا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع کر دیا۔ روایت کے یہ الفاظ حجاج نامی راوی نے نقل کیے ہیں۔ قتادہ کے دیگر شاگردوں یعنی شعبہ، سعید، اور دیگر حضرات نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قراءت کرنے سے منع کر دیا۔ حجاج نامی راوی مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1240]
ترقیم العلمیہ: 1225
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 398، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1845، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 916، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 828، 829، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2951، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1240، 1509، 1510، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 857،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20129»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1226 ترقیم الرسالہ : -- 1241
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلامٍ ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ثنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِ أُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ إِلا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ إِمَامٍ" . يَحْيَى بْنُ سَلامٍ ضَعِيفٌ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ ہو تو وہ ناقص ہوتی ہے ماسوائے اس نماز کے جو امام کی اقتداء میں ہو۔ یحییٰ بن سلام نامی راوی ضعیف ہے۔ درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1241]
ترقیم العلمیہ: 1226
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 276، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 313، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2943، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1241، 1242، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2745، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3641، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1300، 1301»
«قال الدارقطني: يحيى بن سلام ضعيف والصواب موقوف۔ سنن الدارقطني: (2 / 114) برقم: (1241)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1227 ترقیم الرسالہ : -- 1242
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، نَحْوَهُ مَوْقُوفًا.
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1242]
ترقیم العلمیہ: 1227
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 276، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 313، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2943، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1241، 1242، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2745، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3641، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1300، 1301»
«قال ابن عبدالبر: الصحيح فيه أنه من قول جابر، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (11 / 22)»

الحكم على الحديث: موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں