🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ
باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1958 ترقیم الرسالہ : -- 1983
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ قَوْهِيٍّ بِالْمِفْتَحِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الدُّولابِيُّ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: وَجَدْنَا فِي كِتَابِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي صَدَقَةِ الإِبِلِ فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ، وَفِي خَمْسَةَ عَشَرَ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَةَ عَشَرَ ثَلاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ جَذَعَةٌ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ" . كَذَا رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر میں یہ بات پائی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں یہ فرمایا ہے: پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، دس اونٹوں میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، پندرہ میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، بیس میں چار کی ادائیگی لازم ہو گی، پچیس بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، پھر جب وہ زیادہ ہو جائیں، تو ان میں بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر وہ نہ ملے، تو ایک ابن لبون کی ادائیگی لازم ہو گی جو نر ہو، ١٣٣ اونٹوں تک یہی لازم ہو گا، اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں ٤٥ تک ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، پھر اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائے، ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ساٹھ تک یہی حکم چلے گا، پھر اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٧٥ تک یہی حکم ہے، پھر اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٢٠ اونٹوں تک ہے، اگر ان سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ہر چالیس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ سلمان بن ارقم نامی راوی نے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ شخص ضعیف الحدیث ہے اور متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1983]
ترقیم العلمیہ: 1958
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2267، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1447، 1448، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1568، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 621، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1660، 1666، 1667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1798، 1805، 1807، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7350، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1983، 1986، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4722»
«قال الدارقطني: وسليمان بن أرقم ضعيف الحديث . نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 348)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1959 ترقیم الرسالہ : -- 1984
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ فِي آخَرِينَ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ" هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلا يُعْطِهِ، فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ تَيَسَّرْنَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يَقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ، وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ، وَلا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشُورِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهِ صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" . وَقَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولٌ سَطْرٌ، وَاللَّهُ سَطْرٌ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، الَّتِي أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا اور انہیں یہ تحریر لکھ کر دی۔ یہ زکوٰۃ کے بارے میں حکم نامہ ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا تھا۔ جس مسلمان سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، وہ اس کی ادائیگی کر دے۔ جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے، وہ ادائیگی نہ کرے۔ 24 تک یا اس سے کم میں بکریوں کی ادائیگی کی جائے گی، جن میں سے ہر پانچ کے عوض ایک بکری دی جائے گی۔ جب وہ 25 ہوں، تو 35 تک ایک بنت مخاض مونث کی ادائیگی کی جائے گی۔ جب وہ 36 سے لے کر 45 تک ہوں، تو ان میں ایک بنت لبون مونث کی ادائیگی کی جائے گی۔ 46 سے 60 تک ایک حقہ کی ادائیگی کی جائے گی، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب ان کی تعداد 61 سے 75 تک ہو، تو ان میں جذعہ کی ادائیگی ہو گی۔ جب ان کی تعداد 76 سے 90 تک ہو، تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی ہو گی۔ جب ان کی تعداد 91 سے 120 تک ہو، تو ان میں ایک حقہ کی ادائیگی ہو گی، جنہیں جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب ان کی تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے، تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر اونٹوں کی عمر اس سے مختلف ہو جس کی ادائیگی زکوٰۃ میں لازم ہوتی ہے، تو جس شخص نے جذعہ زکوٰۃ میں ادا کرنا ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو، بلکہ حقہ موجود ہو، تو اس سے حقہ وصول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ دو بکریاں لی جائیں گی، اگر وہ آسانی سے دے سکتا ہے، یا پھر بیس درہم لیے جائیں گے۔ جس شخص نے حقہ ادا کرنا تھا اور اس کے پاس حقہ نہیں تھا، بلکہ اس کے پاس جذعہ تھا، اس سے جذعہ وصول کیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے گا۔ جس شخص نے زکوٰۃ میں حقہ ادا کرنا تھا اور اس کے پاس صرف بنت لبون موجود ہو، تو اس سے بنت لبون وصول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں دے گا یا بیس درہم دے گا۔ جس شخص نے بنت لبون زکوٰۃ میں ادا کرنا تھی اور وہ اس کے پاس نہیں تھی، بلکہ اس کے پاس حقہ موجود تھا، تو اس سے حقہ کو وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والے شخص سے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا۔ جس شخص نے بنت لبون ادا کرنی تھی اور اس کے پاس وہ نہیں ہو اور اس کے پاس بنت مخاض موجود ہو، تو اس سے بنت مخاض قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ اسے بیس درہم دیے جائیں گے یا دو بکریاں ادا کی جائیں گی۔ جس شخص نے بنت مخاض ادا کرنا تھی اور اس کے پاس وہ نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اسے اس سے لے لیا جائے گا اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے گا۔ اگر اس شخص کے پاس بنت مخاض نہ ہو، بلکہ اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو، تو اس سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، (البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو ادائیگی کر سکتا ہے)۔ جب اونٹوں کی تعداد پانچ ہو جائے گی، تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ اس طرح بکریوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جب ان کی تعداد 40 سے 120 تک ہو، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے، تو 200 تک دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ جب تعداد 200 سے زیادہ ہو جائے، تو 300 تک تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جب تعداد 300 سے زیادہ ہو جائے، تو ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ زکوٰۃ میں ٹوٹے ہوئے سینگ والی، کانی، لنگڑی بکری قبول نہیں کی جائے گی، (البتہ اگر صدقہ وصول کرنے والا چاہے، تو ایسے کسی جانور کو قبول کر سکتا ہے)۔ اور زکوٰۃ سے بچنے کے لیے الگ الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا۔ جو چیز دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابر کی بنیاد پر وصول کی جائے گی۔ اگر کسی شخص کی بکریاں 40 سے ایک بھی کم ہوں، تو ان پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ غلاموں میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اصل قیمت کا اڑھائی فیصد) کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر کسی شخص کے مال میں صرف 190 (درہم) ہوں، تو ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ یوسف رحمہ اللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر انہیں اس وقت لکھ کر دی تھی، جب انہیں بحرین بھیجا تھا (اس میں یہ الفاظ ہیں): اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے۔ یہ زکوٰۃ کی فرضیت (کا حکم نامہ) ہے۔ فضل رحمہ اللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا اور انہیں یہ تحریر لکھ کر دی اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر مبارک پر یہ الفاظ کندہ تھے: لفظ محمد ایک سطر میں، لفظ رسول ایک سطر میں اور لفظ اللہ ایک سطر میں۔ یہ زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم نامہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1984]
ترقیم العلمیہ: 1959
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1448، 1450، 1451، 1453، 1454، 1455، 2487، 6955،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2261، 2273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1445، 1446، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، 2457، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2239، 2247، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1567، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 73»
«قال البيهقي: حديث صحيح موصول إلا أن بعض الرواة قصر به، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 335)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1960 ترقیم الرسالہ : -- 1985
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخَذْنَا هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذِهِ فَرَائِضُ صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ يُسْأَلُهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلْيُعْطِهَا عَلَى وَجْهِهَا، وَمَنْ سُئِلَهَا عَلَى غَيْرِ وَجْهِهَا فَلا يُعْطِهَا، فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فَبَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ جَذَعَةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عِنْدَهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطَى الْمُصَّدَّقَ مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهَا وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِي الْمُصَّدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتِ الإِبِلُ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ، وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَاحِدَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ، وَلا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا نَقَصَتْ سَائِمَةُ الْغَنَمِ مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشُورِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ نقل کرتے ہیں: مسلمانوں کے زکوٰۃ ادا کرنے کے بارے میں یہ حکم نامہ ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے، اہل ایمان میں سے جس شخص سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، وہ اس کے مطابق ادائیگی کر دے اور جس سے اس کے علاوہ کوئی مطالبہ کیا جائے، وہ دوسری کوئی ادائیگی نہ کرے، ہر چوبیس اونٹوں یا اس سے کم میں ہر پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ ایک بکری ہو گی، ٢٥ سے ٣٥ تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر بنت مخاض موجود نہ ہو، تو ابن لبون کی ادائیگی ہو گی جو مذکر ہو، پھر ٣٦ سے ٤٥ تک میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، پھر ٤٦ سے ٦٠ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٦١ سے ٧٥ تک میں جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٧٦ سے ٩٠ تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ٩١ سے ١٢٠ تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٢١ سے آگے یہ حکم ہو گا کہ ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی اور پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر اونٹوں کی عمر میں فرق آ جائے، تو جس شخص کے ذمے جذعہ کی ادائیگی بطور زکوٰۃ لازم ہو گی، تو اگر اس کے پاس جذعہ نہ ہو، بلکہ حقہ موجود ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا، اور وہ محض اس کے ساتھ دو بکریاں ادا کرے گا، اگر یہ ادا کرنا اس کے لیے ممکن ہو، یا پھر بیس درہم ادا کرے گا، اگر اس شخص کے ذمے حقہ کی ادائیگی لازمی تھی اور اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس جذعہ ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کر دے گا، جس شخص کے ذمے حقہ کی ادائیگی لازم تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، اس سے وہی وصول کر لی جائے گی اور وہ شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا، جس شخص نے بنت لبون ادا کرنا تھی اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو، بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے وہی وصول کر لی جائے گی اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا۔ اگر زکوٰۃ میں بنت لبون کی ادائیگی لازم تھی اور وہ اس شخص کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت مخاض ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا، جس شخص نے زکوٰۃ میں بنت مخاض ادا کرنی تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے وہی وصول کی جائے گی، اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے دو بکریاں یا بیس درہم ادا کر دے گا۔ جس شخص کے ذمے زکوٰۃ میں بنت مخاض ادا کرنا تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہو، بلکہ اس کے پاس ابن لبون ہو جو مذکر ہو، تو اس سے وہی وصول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز وصول نہیں کی جائے گی، جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو صدقہ کے طور پر) کوئی ادائیگی کر سکتا ہے، جب پانچ اونٹ ہو جائیں گے، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ بکریوں کے بارے میں حکم یہ ہے: ٤٠ سے ١٢٠ تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٢١ سے ٢٠٠ بکریوں میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، ٢٠٠ سے ٣٠٠ تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ زکوٰۃ میں کوئی سینگ ٹوٹی ہوئی، کانی یا لنگڑی بکری ادا نہیں کی جائے گی، البتہ اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے (تو ایسی جانور وصول کر سکتا ہے)، زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے الگ، الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہیں کیا جائے گا، جو چیز دو لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابری کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی، اگر بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو، تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو اس سے کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ غلاموں میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اصل قیمت کا اڑھائی فیصد) کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر کسی شخص کے پاس مال میں صرف ١٩٠ درہم ہوں، تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہو گا (البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو صدقے کے طور پر کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)۔ اس روایت کی سند مستند ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1985]
ترقیم العلمیہ: 1960
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1448، 1450، 1451، 1453، 1454، 1455، 2487، 6955،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2261، 2273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1445، 1446، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، 2457، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2239، 2247، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1567، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 73»
«قال البيهقي: حديث صحيح موصول إلا أن بعض الرواة قصر به، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 335)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1961 ترقیم الرسالہ : -- 1986
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ فِي الصَّدَقَةِ وَهُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا، ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامُ بْنُ هَانِئٍ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامِلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَهُمْ وَمَعْنَاهُ بِهَا، وَلا يَتَعَدُّونَهَا. وَهَذَا كِتَابُ تَفْسِيرِهَا:" لا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلاثَ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ، فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلاثِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلاثِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَيُّ السِّنِينَ وُجِدَتْ فِيهَا أُخِذَتْ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ فِي الإِبِلِ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، وَلا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلاثَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الثَّلاثِمِائَةِ بِشَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلا ثَلاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ، ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةُ شَاةٍ شَاةٌ" .
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا نسخہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے بارے میں تحریر کیا تھا، ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سالم بن عبداللہ بن عمر نے یہ مجھے پڑھ کر سنایا اور میں نے اسے اسی طرح محفوظ کر لیا، یہ وہی نسخہ ہے، جس کی ایک نقل عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ سے لی تھی، جب انہیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے سرکاری اہلکاروں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہی لکھ کر ولید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا تھا، ولید نے بھی اپنے اہلکاروں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد خلفاء اس کے مطابق حکم دیتے رہتے تھے، پھر ہشام بن ہانی کے حکم کے تحت اس کی نقل ہر مسلمان اہلکار تک پہنچا دی گئی، اس نے اس پر موجود احکام پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا اور یہ ہدایت کی کہ وہ اس سے تجاوز نہ کریں۔ یہ تحریر اس کی وضاحت کرتی ہے: اونٹ میں زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت لازم ہو گی، جب ان کی تعداد پانچ ہو جائے، جب وہ پانچ ہو جائیں گے، تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ دس ہو جائیں، جب وہ دس ہو جائیں گے، تو ان پر دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ پندرہ ہو جائیں گے، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد بیس ہو جائے، اور جب وہ بیس ہو جائیں گے، تو ان پر چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ ٢٥ ہو جائیں، جب وہ ٢٥ ہو جائیں گے، تو ان میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، اگر بنت مخاض نہ مل سکے، تو مذکر ابن لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ٣٥ ہو جائے۔ جب ان کی تعداد ٣٦ سے ٤٥ تک ہو، تو ان کے اندر ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ٤٦ سے ٦٠ تک ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے، ٦١ سے ٧٥ تک میں اسے ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٷ٦ سے ٩٠ تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ٩١ سے ١٢٠ تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ ١٢١ سے ١٢٩ تک میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٣٠ سے ١٣٥ تک میں ایک حقہ اور دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٤٠ تک میں دو حقہ اور ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٤٩ ہو جائے، جب ان کی تعداد ١٥٠ ہو جائے، تو ان میں تین حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٥٩ ہو جائے، جب ان کی تعداد ١٦٠ ہو جائے گی، تو ان میں چار بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، ١٦٩ تک میں یہی حکم ہے، جب ان کی تعداد ١٧٠ ہو جائے گی، تو ان میں ایک جذعہ اور تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٧٩ تک میں ہے، جب ان کی تعداد ١٨٠ ہو جائے، تو ان میں دو حقہ اور دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٨٩ تک ہے، جب ان کی تعداد ١٩٠ ہو جائے، تو ان میں تین حقہ اور ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٩٩ تک ہے، جب ان کی تعداد ٢٠٠ ہو جائے، تو ان میں چار حقہ یا پانچ بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، خواہ دونوں میں سے جو بھی ہو، جو بھی تمہیں ملے گا، تم اسے وصول کر لو گے، اس گنتی کے مطابق جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کیا ہے۔ اس کے بعد اونٹوں کی تمام قسموں میں اس کے مطابق وصولی کی جائے گی، جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کر دیا ہے۔ بکریوں میں زکوٰۃ اس وقت وصول نہیں کی جائے گی، جب تک ان کی تعداد ٤٠ نہ ہو جائے، جب ان کی تعداد ٤٠ ہو جائے گی، تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہ حکم ١٢٠ بکریاں ہونے تک ہے، جب ان کی تعداد ١٢١ ہو جائے گی، تو ان میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہ حکم ٢٠٠ کی تعداد ہے، جب ان کی تعداد ٢٠١ ہو جائے گی، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہ حکم ٣٠٠ تک ہے، جب ان کی تعداد ٣٠٠ سے زیادہ ہو جائے گی، تو ٤٠٠ تک میں صرف تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، جب ان کی تعداد ٤٠٠ ہو جائے گی، تو اس میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم پانچ سو کی تعداد تک ہے، جب ان کی تعداد ٥٠٠ تک ہو گی، تو ان میں ایک مزید بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ٦٠٠ تک ہے، جب ان کی تعداد ٧٠٠ تک ہو جائے، تو ان میں ٧ بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ٨٠٠ ہو جائے، جب ان کی تعداد ٨٠٠ ہو جائے گی، تو ٨ بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ٩٠٠ ہو جائے گی، جب ان کی تعداد ٩٠٠ ہو جائے گی، تو ان میں ٩ بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٠٠٠ ہو جائے، جب ١٠٠٠ بکریاں ہو جائیں گی، تو ان میں دس بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، پھر اس کے بعد جو بھی تعداد زیادہ ہو گی، ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی (بطور زکوٰۃ) لازم ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1986]
ترقیم العلمیہ: 1961
تخریج الحدیث: «عند الشواهد الحديث صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2267، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1447، 1448، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1568، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 621، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1660، 1666، 1667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1798، 1805، 1807، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1983، 1986، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4722»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، أبو داود: 1568»

الحكم على الحديث: عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1962 ترقیم الرسالہ : -- 1987
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ، فَوَجَدَهُ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الصَّدَقَاتِ، وَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كِتَابَ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَكَانَ فِيهِمَا:" فِي صَدَقَةِ الإِبِلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتِ الإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيمَا لا يَبْلُغُ الْعُشْرَ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْعُشْرَ" .
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے مدینہ منورہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے تعلق رکھنے والا زکوٰۃ کے بارے میں کوئی حکم نامہ تلاش کریں، تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس وہ حکم نامہ مل گیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا، جو زکوٰۃ کے بارے میں تھا، اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ مکتوب مل گیا، جو انہوں نے زکوٰۃ کے بارے میں اپنے اہل کاروں کو لکھا تھا اور یہ اس کے مطابق تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب میں تحریر ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے اہل کاروں کو زکوٰۃ کے بارے میں یہ حکم دیا کہ وہ ان دونوں مکتوبات کی روشنی میں وصول کریں۔ اونٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں ان دونوں میں یہی بات تحریر تھی کہ اگر ان کی تعداد نوے سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ایک سو بیس تک ہے، اگر وہ ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ایک سو تینتیس تک ہے، جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو جائے گی، تو اگلے دس ہونے تک کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اگلا دس کا ہدف پورا ہو جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1987]
ترقیم العلمیہ: 1962
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1449، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7358، 7359، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1987، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 7365»
«قال ابن عبدالبر: لا أصل له وهو حديث حبيب بن أبي حبيب عن عمرو بن حزم ذكره بإسناده أنه في كتاب عمرو بن حزم، الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار فيما تضمنه الموطأ من معاني الرأي والآثار: (9 / 155)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں