سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
19. بَابُ زَكَاةِ مَالِ التِّجَارَةِ وَسُقُوطِهَا عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ
باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
ترقیم العلمیہ : 1994 ترقیم الرسالہ : -- 2019
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانِ الشِّيرَازِيُّ فِيمَا كَتَبَ إِلَيَّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُوسَى الْحَارِثِيَّ ، حَدَّثَهُمْ أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَحْرٍ الْكَرْمَانِيُّ ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ الإِصْطَخْرِيُّ ، ثنا أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ غُورَكِ بْنِ الْخِضْرِمِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ فِي كُلِّ فَرَسٍ دِينَارٌ تُؤَدِّيهِ" . تَفَرَّدَ بِهِ غُورَكٌ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمَنْ دُونَهُ ضُعَفَاءُ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد الباقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: گھوڑے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک گھوڑے کی طرف سے ایک دینار ادا کیا جائے گا۔“ امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے اس روایت کو نقل کرنے میں غورک نامی راوی منفرد ہے اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2019]
ترقیم العلمیہ: 1994
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7513، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2019، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7665»
«قال ابن حجر: وإسناده ضعيف جدا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 295)»
«قال ابن حجر: وإسناده ضعيف جدا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 295)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدا
ترقیم العلمیہ : 1995 ترقیم الرسالہ : -- 2020
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا كُرَاعًا وَرَقِيقًا، وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ نُزَكِّيَهُ، قَالَ:" مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي وَلا أَفْعَلُهُ حَتَّى أَسْتَشِيرَ، فَشَاوَرَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَقَالُوا: أَحْسَنُ، وَسَكَتَ عَلِيٌّ، فَقَالَ:" أَلا تَكَلَّمُ يَا أَبَا الْحَسَنِ؟"، فَقَالَ:" قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ وَهُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا بَعْدَكَ، قَالَ: فَأَخَذَ مِنَ الرَّقِيقِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، وَرَزَقَهُمْ جَرِيبَيْنِ مِنْ بُرٍّ كُلَّ شَهْرٍ، وَأَخَذَ مِنَ الْفَرَسِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، وَرَزَقَهُ عَشَرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ، وَأَخَذَ مِنَ الْمَقَارِيفِ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ، وَأَخَذَ مِنَ الْبَرَاذِينَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا خَمْسَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ" . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا جِزْيَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَعْطِيَاتِنَا زَمَانَ الْحَجَّاجِ وَمَا نُرْزَقُ عَلَيْهَا. قَالَ الشَّيْخُ: الْمُقَرَّفُ مِنَ الْخَيْلِ: دُونَ الْجَوَادِ.
حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں: مصر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ زمین اور کچھ غلام ملے ہیں، ہم چاہتے ہیں، ان کی زکوٰۃ ادا کر دیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو عمل نہیں کیا، میں بھی وہ اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک اس بارے میں مشورہ نہ لوں۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا، تو ان سب نے اسے ٹھیک قرار دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! آپ کوئی بات کیوں نہیں کر رہے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بولے: ”ان حضرات نے آپ کو جو مشورہ دیا ہے، یہ ٹھیک ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ایسا ٹیکس نہ ہو، جو آپ کے بعد بھی انہیں ادا کرنا پڑے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے اور انہیں گندم کے دو جریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قرار دی، گھوڑے کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے اور اسے جو کے دس جریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قرار دی، عام گھوڑے کی طرف سے ٨ درہم وصول کیے اور اسے ٨ جریب جو ماہانہ خوراک کی ادائیگی لازم قرار دی، خچر کی طرف سے ٥ درہم وصول کیے اور اسے ٥ جریب جو ماہانہ خوراک کے طور پر دینا لازم قرار دیا۔ ابواسحاق نامی راوی کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں ہم سے یہ وصول کر لی جاتی تھی، مگر ہمارے حصے کی ادائیگی نہیں کی جاتی تھی، شیخ (امام دارقطنی) فرماتے ہیں: ”مقرف“ وہ گھوڑا ہوتا ہے، جو تیز رفتار گھوڑے سے کم رفتار ہی چلتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2020]
ترقیم العلمیہ: 1995
تخریج الحدیث: «عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2020،»
«وله شاهد من حديث عمر بن الخطاب، أخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3041، 3042»
«وله شاهد من حديث عمر بن الخطاب، أخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3041، 3042»
الحكم على الحديث: عند الشواهد الحديث صحيح
ترقیم العلمیہ : 1996 ترقیم الرسالہ : -- 2021
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالا خَيْلا وَرَقِيقًا، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ"، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيُّ، فَقَالَ:" هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدَكِ رَاتِبَةً" .
حارثہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ہمیں کچھ اموال حاصل ہوئے ہیں، جو گھوڑے ہیں اور غلام ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں، ان میں سے بھی ہم سے زکوٰۃ وصول کی جائے، تاکہ یہ پاک ہو جائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو کام نہیں کیا، میں وہ کروں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے یہ مشورہ لیا، ان اصحاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ٹھیک ہے، اگر اسے ایسا جزیہ قرار نہ دیا جائے، جو آپ کے بعد بھی ان سے وصول کیا جاتا رہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2021]
ترقیم العلمیہ: 1996
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2290، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 107، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7508، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2021، 2064، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 83، 223، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3045»
ترقیم العلمیہ : 1997 ترقیم الرسالہ : -- 2022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ زَكَاةٌ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ تمہیں معاف کر دی ہے اور دو سو (درہم) سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2022]
ترقیم العلمیہ: 1997
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2262، 2270، 2284، 2297، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2479، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1572، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 620، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1669، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1790، 1813، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2022، 1892، 1897، 1898، 1907، 1924، 1940، 1941، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 54، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 722، 928، 999»
«قال الدارقطني: الصواب وقفه على علي رضي الله عنه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 554)»
«قال الدارقطني: الصواب وقفه على علي رضي الله عنه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 554)»
الحكم على الحديث: موقوف
ترقیم العلمیہ : 1998 ترقیم الرسالہ : -- 2023
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ صَدَقَةٌ، إِلا أَنَّ فِي الرَّقِيقِ صَدَقَةَ الْفِطْرِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ غلام کی طرف سے صدقہ فطر ادا کیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2023]
ترقیم العلمیہ: 1998
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1999 ترقیم الرسالہ : -- 2024
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلا صَدَقَةُ الْفِطْرِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غلام میں کوئی صدقہ ادا کرنا لازم نہیں ہو گا، البتہ صدقہ فطر ادا کیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2024]
ترقیم العلمیہ: 1999
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2000 ترقیم الرسالہ : -- 2025
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِي فَرَسِهِ وَلا فِي عَبْدِهِ إِلا زَكَاةَ الْفِطْرِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی کے گھوڑے اور اس کے غلام میں کسی قسم کے صدقے (یعنی زکوٰۃ) کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ غلام کی طرف سے صدقہ فطر وہ ادا کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2025]
ترقیم العلمیہ: 2000
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2001 ترقیم الرسالہ : -- 2026
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي فَرَسِهِ وَلا فِي عَبْدِهِ وَلا فِي وَلِيدَتِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان شخص کے گھوڑے اور اس کے غلام اور اس کی کنیز میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2026]
ترقیم العلمیہ: 2001
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2002 ترقیم الرسالہ : -- 2026/1
قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : وَثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے یہ (تحریر کیا): ”اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہوئے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ سمرہ بن جندب کی جانب سے ان کے بیٹوں کے لیے ہے۔ تم سب کو سلام ہو۔ اما بعد! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے غلاموں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا: وہ غلام جو آدمی کے کام کاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں، آدمی نے انہیں فروخت نہیں کرنا ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا: ہم ان میں سے کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جس غلام کو فروخت کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اس کی زکوٰۃ ہم ادا کریں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2026/1]
ترقیم العلمیہ: 2002
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2003 ترقیم الرسالہ : -- 2027
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَبِيبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ دَاوُدَ الْقَزَّازُ ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا أَبُو عُمَرَ مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خُبَيْبِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ إِلَى بَنِيهِ سَلامٌ عَلَيْكُمْ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِرَقِيقِ الرَّجُلِ أَوِ الْمَرْأَةِ الَّذِينَ هُمْ تِلادٌ لَهُ وَهُمْ عُمْلَةٌ لا يُرِيدُ بَيْعَهُمْ، فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ لا نُخْرِجَ عَنْهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا، وَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ مِنَ الرَّقِيقِ الَّذِي يُعَدُّ لِلْبَيْعِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے مہر کے بارے میں یہ سنت مقرر کی تھی کہ وہ بارہ اوقیہ ہونا چاہیے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، تو یہ کل چار سو اسی درہم ہو جائیں گے اور اللہ کے نبی نے یہ حد بھی مقرر کی ہے، غسل جنابت ایک صاع پانی کے ذریعے ہو گا اور وضو دو رطل پانی کے ذریعے ہو گا، ایک صاع میں آٹھ رطل آتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت بھی قائم کی ہے: زمین سے جو پیداوار ہوتی ہے یعنی گندم، جو، کشمش، کھجور جب یہ پانچ وسق ہو جائیں، ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، تو یہ کل تین سو صاع ہوں گے جو اس صاع کے حساب سے ہوں گے جو سنت سے متعلق ہیں۔ اس روایت کو منصور کے حوالے سے صرف صالح بن موسیٰ نے نقل کیا ہے اور یہ شخص ضعیف الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 2027]
ترقیم العلمیہ: 2003
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1562، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7692، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2027، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4626، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 7029، 7047»
«قال ابن حجر: وفي إسناده جهالة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 345)»
«قال ابن حجر: وفي إسناده جهالة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 345)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف