سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ الْمَهْرِ
باب: مہر کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3555 ترقیم الرسالہ : -- 3611
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تُعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يَرُدَّهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ" زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟، قَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: وَلا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ؟، قَالَ: وَلا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ وَآخُذُ النِّصْفَ، قَالَ: لا، قَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" ،.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خود کو نکاح کے لیے پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر جھکائی، پھر اٹھائی، لیکن مثبت ردعمل نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری شادی اس کے ساتھ کر دیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس (مہر کے طور پر ادا کرنے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں، البتہ اپنی چادر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے دے دیتا ہوں اور آدھی اپنے پاس رکھ لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، تمہیں جو قرآن آتا ہے، اس (کی تعلیم دینے کے مہر ہونے) کے عوض میں، میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3611]
ترقیم العلمیہ: 3555
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2310، 5029، 5030، 5087، 5121، 5126، 5132، 5135، 5141، 5149، 5150، 5871، 7417، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1425، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1044، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4093، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) 1، 3202، برقم: 3282، برقم: 3341، برقم: 3361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2111، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1114، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2247، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1889، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3611، 3612، 3614، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23261، 23296، 23314، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 957، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16621، 37319»
ترقیم العلمیہ : 3556 ترقیم الرسالہ : -- 3612
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وثنا الْحُسَيْنُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالا: نَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، نَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. وَقَالَ الثَّوْرِيُّ:" قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے منقول ہے، اس میں ثوری نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تمہیں جو قرآن آتا ہے، اس (کی تعلیم دینے کے مہر ہونے) پر میں اس کے ساتھ تمہارا نکاح کرتا ہوں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3612]
ترقیم العلمیہ: 3556
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2310، 5029، 5030، 5087، 5121، 5126، 5132، 5135، 5141، 5149، 5150، 5871، 7417، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1425، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1044، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4093، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) 1، 3202، برقم: 3282، برقم: 3341، برقم: 3361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2111، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1114، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2247، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1889، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3611، 3612، 3614، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23261، 23296، 23314، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 957، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16621، 37319»
ترقیم العلمیہ : 3557 ترقیم الرسالہ : -- 3613
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ، نَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَالَ: مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ؟، فَقَامَ رَجُلٌ عَلَيْهِ بُرْدَةٌ عَاقِدُهَا فِي عُنُقِهِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ؟، قَالَ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اجْلِسْ، ثُمَّ جَاءَتْ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ؟، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ؟، قَالَ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اجْلِسْ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ؟، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ؟، قَالَ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟، قَالَ: نَعَمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ الْمُفَصَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى أَنْ تُقْرِئَهَا وَتُعَلِّمَهَا وَإِذَا رَزَقَكَ اللَّهُ تَعَالَى عَوَّضْتَهَا" ، فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ عَلَى ذَلِكَ، تَفَرَّدَ بِهِ عُتْبَةُ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ ایک صاحب کھڑے ہوئے، جنہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی، جو انہوں نے اپنی گردن میں باندھی ہوئی تھی، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں (اس کے ساتھ شادی کروں گا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر وہ خاتون دوبارہ آئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ وہی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر وہ خاتون دوبارہ آئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ وہی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں، سورة بقرہ اور منفصل سورتیں (زبانی یاد ہیں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شرط پر تمہاری شادی اس کے ساتھ کرتا ہوں کہ تم اسے قرآن پڑھنا سکھاؤ گے، اسے تعلیم دو گے، اور جب اللہ تعالیٰ تمہیں رزق عطا کرے گا، تو تم اس کا مہر اسے دے دو گے۔“ تو ان صاحب نے اس شرط پر اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں عتبہ بن سکن نامی راوی منفرد ہیں اور یہ متروک الحدیث ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3613]
ترقیم العلمیہ: 3557
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14512، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3613»
«قال الدارقطني: تفرد به عتبة وهو متروك الحديث، سنن الدارقطني: (4 / 366) برقم: (3613)»
«قال الدارقطني: تفرد به عتبة وهو متروك الحديث، سنن الدارقطني: (4 / 366) برقم: (3613)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3558 ترقیم الرسالہ : -- 3614
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ:" تَزَوَّجْهَا وَلَوْ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اس عورت کے ساتھ شادی کر لو، خواہ لوہے کی انگوٹھی (مہر ہونے) کے عوض میں کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3614]
ترقیم العلمیہ: 3558
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2310، 5029، 5030، 5087، 5121، 5126، 5132، 5135، 5141، 5149، 5150، 5871، 7417، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1425، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1044، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4093، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) 1، 3202، برقم: 3282، برقم: 3341، برقم: 3361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2111، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1114، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2247، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1889، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3611، 3612، 3614، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23261، 23296، 23314، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 957، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16621، 37319»
ترقیم العلمیہ : 3559 ترقیم الرسالہ : -- 3615
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدَائِنِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ امْرَأَةً فِي مَرَضِهِ، فَقَالُوا: لا يَجُوزُ وَهَذِهِ مِنَ الثُّلُثِ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: النِّكَاحُ جَائِزٌ، وَلا يَكُونُ مِنَ الثُّلُثِ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری نے بیماری کے دوران ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی، لوگوں نے کہا: ”یہ جائز نہیں ہے اور یہ (وراثت) تہائی حصہ میں شمار ہو گی۔“ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ نکاح جائز ہے اور یہ تہائی حصے میں شمار نہیں ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3615]
ترقیم العلمیہ: 3559
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3615، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3560 ترقیم الرسالہ : -- 3616
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ:" تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ فَإِذَا وَلَدَتْ فَاجْلِدُوهَا" ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ صَفْوَانَ، هُوَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ.
سعید بن مسیب ایک انصاری صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ اسے دیکھے بغیر شادی کر لی، (رخصتی کے بعد) جب میں اس کے پاس آیا، تو وہ حاملہ تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی شرمگاہ کو جو حلال کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے اسے مہر ملے گا، اور اس کا بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب یہ بچے کو جنم دے، تو لوگ اسے سنگسار کر دینا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے صفوان بن سلیم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3616]
ترقیم العلمیہ: 3560
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6577، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14004، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3616، 3617»
ترقیم العلمیہ : 3561 ترقیم الرسالہ : -- 3617
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ ، نَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ نَضْرَةَ بْنِ أَبِي نَضْرَةَ الْغِفَارِيِّ ،" أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا فَوَجَدَهَا حَامِلا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَعْطَاهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَقَالَ: إِذَا وَضَعَتْ فَأَقِيمُوا عَلَيْهَا الْحَدَّ" .
سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ اسے دیکھے بغیر شادی کر لی، بعد میں انہوں نے اس لڑکی کو حاملہ پایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو مہر دلوایا، کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ بچے کو جنم دے، تو اس پر حد جاری کر دینا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3617]
ترقیم العلمیہ: 3561
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6577، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14004، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3616، 3617»
ترقیم العلمیہ : 3562 ترقیم الرسالہ : -- 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، كَاتِبُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟، قَالُوا: بَلَى قَالَ: هُوَ الْمُحِلُّ، ثُمَّ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں کرائے کے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا شخص ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حلالہ کرے اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا ہو، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3618]
ترقیم العلمیہ: 3562
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2820، 2821، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1936، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14299، 14300، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3618، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 825»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 349)»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 349)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3563 ترقیم الرسالہ : -- 3619
نَا هُبَيْرَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، نَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، نَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَمِّيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعُسَيْلَةُ الْجِمَاعُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عسیلہ سے مراد صحبت کرنا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3619]
ترقیم العلمیہ: 3563
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3619، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24969، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4813، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1710، وأخرجه أبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4881، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1709»
«قال الزیلعي: المكي مجهول، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 237)»
«قال الزیلعي: المكي مجهول، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 237)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3564 ترقیم الرسالہ : -- 3620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ ، نَا شَبَابُ بْنُ خَيَّاطٍ ، نَا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَشْرَجٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الإِسْلامُ يَعْلُو وَلا يُعْلَى" .
سیدنا عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام سربلند ہوتا ہے، اسے مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3620]
ترقیم العلمیہ: 3564
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 291، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3620»
«قال الدارقطني: وعبد الله بن حشرج وأبوه مجهولان، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 213)»
«قال الدارقطني: وعبد الله بن حشرج وأبوه مجهولان، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 213)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف