🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب وُجُوبِ طَاعَةِ الأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ:
باب: بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اس کام میں جو گناہ نہ ہو اور گناہ میں اطاعت کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1837 ترقیم شاملہ: -- 4756
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: فِي الْحَدِيثِ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ،
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل نے ہمیں شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں کہا: چاہے وہ (امیر) کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام (ہی کیوں نہ ہو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4756]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «عَبْدًا» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4756]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1837
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1837 ترقیم شاملہ: -- 4757
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ كَمَا، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ.
عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں شعبہ سے اور انہوں نے ابوعمران سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، جس طرح ابن ادریس نے کہا: کٹے ہوئے اعضاء والا غلام (ہی کیوں نہ ہو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4757]
ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، وہ اعضاء بریدہ غلام ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4757]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1837
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1838 ترقیم شاملہ: -- 4758
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي تُحَدِّثُ: أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ، يَقُولُ: " وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا "،
محمد بن مثنیٰ نے کہا: محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن حصین سے، انہوں نے کہا: میں نے اپنی دادی سے سنا، وہ بیان کرتی تھیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے دوران میں خطبہ دے رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: اگر تم پر ایک غلام کو حاکم بنایا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری راہنمائی کرے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4758]
یحییٰ بن حصین بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی دادی (ام الحصین رضی اللہ عنہا) سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں یہ فرماتے سنا: اور اگر تم پر ایسا غلام مقرر کر دیا جائے جو تمہیں اللہ کے قانون کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4758]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1838
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1838 ترقیم شاملہ: -- 4759
وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: عَبْدًا حَبَشِيًّا،
ابن بشار نے ہمیں یہی حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا: حبشی غلام ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4759]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، جس میں (حبشی غلام) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4759]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1838
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1838 ترقیم شاملہ: -- 4760
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا.
وکیع بن جراح نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4760]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک کٹا حبشی غلام۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4760]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1838
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1838 ترقیم شاملہ: -- 4761
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ.
بہز نے ہمیں شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی: انہوں نے کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام نہیں کہا، اور یہ اضافہ کیا: انہوں (ام الحصین رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4761]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں نکٹہ حبشی نہیں ہے اور یہ اضافہ ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ یا عرفات میں سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4761]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1838
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1838 ترقیم شاملہ: -- 4762
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا، قَالَتْ: أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ".
زید بن ابی انیسہ نے یحییٰ بن حصین سے، انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا: میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں، پھر میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تم پر ایک کٹے ہوئے اعضاء والا غلام، میرا گمان ہے آپ نے کالا بھی کہا، حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4762]
یحییٰ بن حصین اپنی دادی ام الحصین رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری باتیں بیان فرمائیں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: اگر تم پر نکٹا غلام امیر بنا دیا جائے—میرے خیال میں انہوں نے کہا: سیاہ—وہ تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق چلائے، تو اس کی بات سنو اور مانو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1838
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1839 ترقیم شاملہ: -- 4763
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ "،
لیث نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان شخص پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے، وہ بات اس کو پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے، اگر اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں سننا (روا) ہے نہ ماننا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4763]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنے اور مانے، بات پسند ہو یا ناپسند، الا یہ کہ نافرمانی کا حکم دیا جائے، اگر نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سنے اور نہ مانے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1839
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1839 ترقیم شاملہ: -- 4764
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
قطان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4764]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1839
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1840 ترقیم شاملہ: -- 4765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، وَقَالَ: ادْخُلُوهَا فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ: قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ".
زبید نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا، اس (امیر) شخص نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا اور کچھ لوگوں نے کہا: ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے جو آگ میں داخل ہونا چاہتے تھے، فرمایا: اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور دوسروں کے حق میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4765]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک آدمی کو امیر مقرر کیا، اس نے آگ روشن کروائی اور کہا: اس میں داخل ہو جاؤ، تو کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا اور دوسروں نے کہا: ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں (اسلام قبول کیا ہے)، تو اس واقعہ کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے داخل ہونا چاہا تھا، فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو مسلسل قیامت تک اس میں رہتے۔ اور دوسروں کے بارے میں اچھے کلمات فرمائے (ان کی تحسین کی) اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی صورت میں اطاعت نہیں ہوگی، اطاعت تو بس معروف میں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1840
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں