صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب وُجُوبِ طَاعَةِ الأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ:
باب: بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اس کام میں جو گناہ نہ ہو اور گناہ میں اطاعت کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1840 ترقیم شاملہ: -- 4766
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَتَقَارَبُوا فِي اللَّفْظِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا، فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ: اجْمَعُوا لِي حَطَبًا، فَجَمَعُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَوْقِدُوا نَارًا فَأَوْقَدُوا، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَادْخُلُوهَا، قَالَ: فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ، فَكَانُوا كَذَلِكَ وَسَكَنَ غَضَبُهُ وَطُفِئَتِ النَّارُ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ "،
ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب اور ابوسعید اشج نے حدیث بیان کی، الفاظ سب کے ملتے جلتے ہیں، (تینوں نے) کہا: ہمیں وکیع نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور انصار میں سے ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے احکام سنیں اور اس کی اطاعت کریں، (اتفاق سے) اہل لشکر نے کسی بات میں امیر کو ناراض کر دیا، اس نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ لشکر نے لکڑیاں جمع کیں، پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ، انہوں نے آگ جلائی، پھر کہا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حکم سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اس نے کہا: آگ میں داخل ہو جاؤ، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: ہم آگ ہی سے بھاگ کر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ وہ اسی موقف پر قائم رہے حتی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی، جب وہ لوٹے تو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، آپ نے فرمایا: ”اگر یہ لوگ اس (آگ) میں داخل ہو جاتے تو پھر اس سے باہر نہ نکلتے، اطاعت صرف معروف (قابل قبول کاموں) میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4766]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ روانہ فرمایا اور ان پر ایک انصاری آدمی کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی بات سننے اور ماننے کا حکم دیا، تو انہوں نے اسے کسی وجہ سے ناراض کر ڈالا، تو اس نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو، انہوں نے لکڑیاں جمع کر دیں، پھر کہا: آگ روشن کرو، انہوں نے آگ جلائی، پھر کہا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات سننے اور ماننے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اس نے کہا: تو اس میں داخل ہو جاؤ، تو وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور کہنے لگے: ہم آگ ہی سے تو بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ہیں، وہ اس طرح پس و پیش میں تھے کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھ گئی، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو اس سے نہ نکلتے، اطاعت تو بس معروف میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1840
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1840 ترقیم شاملہ: -- 4767
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں وکیع اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند سے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4767]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4767]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1840
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4768
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ "،
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبادہ بن ولید سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بات پر بیعت کی کہ مشکل میں اور آسانی میں اور خوشی میں اور ناخوشی میں اور خود ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ جن کے پاس امارت ہو گی، امارت کے معاملے میں ان سے تنازع نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے (ہمیشہ) حق بات کہیں گے اور اللہ کے (دین پر چلنے کے) معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4768]
عبادہ بن ولید بن عبادہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں، خوشی اور ناخوشی میں اور اپنے اوپر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سننے اور ماننے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی، کہ ہم اہل اقتدار کے ساتھ رسہ کشی نہیں کریں گے، (اقتدار چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے) اور ہم ہر حالت میں جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے دین کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4768]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4769
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن عجلان، عبیداللہ بن عمر اور یحییٰ بن سعید نے عبادہ بن ولید سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4769]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4769]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4770
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.
یزید بن ہاد نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے روایت کی، کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی، ابن ادریس کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4770]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4770]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4771
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّة ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقُلْنَا حَدِّثْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ، سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ، فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا، " أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، قَالَ: إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ ".
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے، کہا: ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، وہ (اس وقت) بیمار تھے، ہم نے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے، ہم کو ایسی حدیث سنائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا، ہم نے آپ کے ساتھ بیعت کی، آپ نے ہم سے جن چیزوں پر بیعت لی وہ یہ تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خوشی اور ناخوشی میں اور مشکل اور آسانی میں اور ترجیح دیے جانے کی صورت میں، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اس کی اہلیت رکھنے والوں سے تنازع نہیں کریں گے۔ کہا: ہاں، اگر تم اس میں کھلم کھلا کفر دیکھو جس کے (کفر ہونے پر) تمہارے پاس (قرآن اور سنت سے) واضح آثار موجود ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4771]
حضرت جنادہ بن ابی امیہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھے، ہم نے عرض کیا: ہمیں آپ (اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے) کوئی ایسی حدیث سنائیں جو ہمارے لیے سود مند ہو اور آپ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ نے ہم سے جو عہد لیا، اس میں ہماری یہ بیعت تھی کہ ”ہم سنیں گے، مانیں گے، ہمیں پسند ہو یا ناپسند، ہمارے لیے مشکل ہو یا آسانی اور ہم پر ترجیح دی گئی ہو اور ہم اہل اقتدار سے چھیننا جھپٹی نہیں کریں گے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الا یہ کہ تم کھلا کھلا کفر دیکھو، جس کے بارے میں تمہارے پاس صریح دلیل ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4771]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة