صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
29. باب شَيْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال۔
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6073
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَأَى مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا "، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهُ، وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.
ابن ادریس نے ہشام سے، انہوں نے سیرین سے روایت کی، کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کبھی) بالوں کو رنگا تھا؟ کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال نہیں دیکھے تھے، سوائے (چند ایک کے)۔ ابن ادریس نے کہا: گویا وہ ان کی بہت ہی کم تعداد بتا رہے تھے۔ جبکہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہندی اور کتم سے رنگتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6073]
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا (بال رنگے تھے)؟ انہوں نے جواب دیا: آپ نے بہت کم سفید بال دیکھے تھے یا آپ نے بہت کم بڑھاپا دیکھا تھا، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے مہندی اور وسمہ کا خضاب لگایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَضَبَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَبْلُغْ الْخِضَابَ، كَانَ فِي لِحْيَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ "، قَالَ، قُلْتُ لَهُ: أَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْضِبُ، قَالَ، فَقَالَ: نَعَمْ، بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ.
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ لگایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ رنگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے، کہا: آپ کی داڑھی میں چند ہی بال سفید تھے۔ میں نے کہا: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رنگتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ مہندی اور کتم سے رنگتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6074]
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال رنگنے کی حد کو نہیں پہنچے، آپ کی داڑھی میں چند سفید بال تھے، میں نے ان سے پوچھا: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بال رنگتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، مہندی اور وسمہ سے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6074]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6075
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا قَلِيلًا ".
ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا تھا؟ کہا: انہوں نے آپ کے بہت ہی کم سفید بال دیکھے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6075]
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا (بال رنگے)؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپا بہت کم دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بہت کم سفید ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6075]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6076
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: " سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهِ فَعَلْتُ، وَقَالَ: لَمْ يَخْتَضِبْ، وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ، وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا ".
ثابت نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں جو سفید بال موجود تھے، اگر میں انہیں گننا چاہتا تو گن لیتا۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ نہیں لگایا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور کتم کو ملا کر بالوں کو رنگ لگایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خالص مہندی کا رنگ لگایا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6076]
ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے بارے میں دریافت کیا گیا انہوں نے جواب دیا: اگر میں ان بالوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں تھے، گننا چاہتا گن لیتا اور کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا نہیں ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور وسمہ سے بالوں کو رنگا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خالص مہندی سے رنگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6076]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6077
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " يُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الرَّجُلُ الشَّعْرَةَ الْبَيْضَاءَ مِنْ رَأْسِهِ، وَلِحْيَتِهِ، قَالَ: وَلَمْ يَخْتَضِبْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ، وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ ".
علی جہضمی نے کہا: ہمیں مثنیٰ بن سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سر اور ڈاڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی ڈاڑھی میں جو نیچے کے ہونٹ تلے ہوتی ہے، کچھ سفیدی تھی، اور کچھ کنپٹیوں پر اور سر میں کہیں کہیں سفید بال تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6077]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ چیز ناپسند کی جاتی تھی کہ آدمی اپنے سر اور اپنی داڑھی کے سفید بال اکھاڑے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں رنگے، آپ کے سفید بال صرف آپ کے داڑھی بچہ (نچلے ہونٹ کے نیچے کا گڑھا)، کنپٹیوں اور سر میں چند سفید بال تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6077]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6078
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالصمد نے مثنیٰ (بن سعید) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6078]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6078]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6079
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وهارون بن عبد الله جميعا، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، سَمِعَ أَبَا إِيَاسٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا شَانَهُ اللَّهُ بِبَيْضَاءَ ".
خلید بن جعفر نے ابوایاس سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے سفید بالوں کے ساتھ آپ کے جمال میں کمی نہیں کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6079]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بالوں کو سفید بالوں سے عیب دار نہیں کیا تھا، یعنی چند سفید بال محسوس نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6079]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2342 ترقیم شاملہ: -- 6080
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءَ "، وَوَضَعَ زُهَيْرٌ بَعْضَ أَصَابِعِهِ عَلَى عَنْفَقَتِهِ، قِيلَ لَهُ: مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ: أَبْرِي النَّبْلَ وَأَرِيشُهَا.
زہیر نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کی اس جگہ پر سفیدی تھی، زہیر نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے اپنے بالوں پر انگلی رکھ دی، ان (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے کہا گیا: ان دنوں آپ (حاضرین میں سے) کس عمر کے تھے (آپ سب سے چھوٹے ہوں گے؟) انہوں نے کہا: میں تیروں کے پیکان اور ان کے پر لگاتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6080]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حصہ کے بال سفید دیکھے اور زہیر نے اپنی انگلی اپنی «عَنْفَقَة» ”نیچے والے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیانی بال“ پر رکھی، ان سے پوچھا گیا: ان دنوں آپ کس جیسے تھے؟ انہوں نے کہا: میں تیر تراشتا تھا اور ان میں پر لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2342
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2343 ترقیم شاملہ: -- 6081
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبْيَضَ قَدْ شَابَ، كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ.
محمد بن فضیل نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ گورے تھے، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آپ سے مشابہت رکھتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6081]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا، بڑھاپا شروع ہو گیا تھا اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6081]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2343
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2343 ترقیم شاملہ: -- 6082
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، بِهَذَا، وَلَمْ يَقُولُوا: أَبْيَضَ قَدْ شَابَ.
سفیان، خالد بن عبداللہ اور محمد بن بشر، سب نے اسماعیل سے، انہوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان سب نے یہ نہیں کہا: آپ گورے تھے، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6082]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن رنگ کی سفیدی اور بڑھاپے کے آغاز کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2343
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة