🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. باب مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2369 ترقیم شاملہ: -- 6138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْمُخْتَارِ . ح وحَدَّثَنِي وَاللَّفْظُ لَهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ".
علی بن مسہر اور ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: «يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ» اے مخلوقات میں سے بہترین انسان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (یعنی یہ ان کا لقب ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6138]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا، اے بہترین مخلوق! تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ توابراہیم علیہ السلام ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6138]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2369
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2369 ترقیم شاملہ: -- 6139
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ.
ابن ادریس نے کہا: میں نے عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام مختار بن فلفل سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اسی (پچھلی حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6139]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے کہا، اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آگے مذکورہ بالاروایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6139]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2369
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2369 ترقیم شاملہ: -- 6140
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمُخْتَارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
سفیان نے مختار سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا، اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6140]
امام صاحب کے ایک اور استاد یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6140]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2369
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2370 ترقیم شاملہ: -- 6141
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں قدوم (مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے) سے ختنہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6141]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی (80) سال کی عمر میں تیشہ سے اپنے ختنے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 6142
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ، طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى» ’اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے۔‘ اللہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو یقین نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! مگر صرف اس لیے (دیکھنا چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جائے۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے! وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا (بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آ جاتا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6142]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے شک کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا، اے میرے رب! مجھے دکھائیے، آپ مردوں کو کس طرح زندہ کرتے ہیں؟ فرمایا: کیا تمہیں یقین نہیں، کہا، کیوں نہیں، لیکن میں چاہتا ہوں (مشاہدہ سے) میرا دل مطمئن ہو جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، وہ مضبوط پناہ کا تحفظ چاہتے تھے او راگر میں جیل میں یوسف علیہ السلام کی لمبی قید کاٹتا تو بلانے والے کے ساتھ فوراً چلا جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 6143
وحَدَّثَنَاه إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبید نے انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونس کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6143]
یہی روایت امام صاحب نے ایک اور استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 151 ترقیم شاملہ: -- 6144
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6144]
لیکن کسی استاد سے سنی ہے، اس میں شبہ کی بنا پر کہہ دیا کہ ان شاءاللہ یعنی ظن غالب یہی ہے کہ عبداللہ بن محمد بن اسماء سےسنی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام کو معاف فرمائے، وہ مضبوط رکن کی پناہ چاہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 151
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2371 ترقیم شاملہ: -- 6145
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام قَطُّ، إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ، ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ، قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ، فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ، وَمَعَهُ سَارَةُ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي، يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ، فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ، رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ: لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ، لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا، فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْه السَّلَام إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ لَهَا: ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، وَلَا أَضُرُّكِ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لَا أَضُرَّكِ، فَفَعَلَتْ، وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهَا: مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: خَيْرًا، كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین دفعہ (بولا) (یہ اصطلاحاً جھوٹ کہے گئے ہیں، حقیقت میں جھوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ توریہ کی ایک شکل ہیں) ان میں سے دو جھوٹ اللہ کے لیے تھے، ایک تو ان کا یہ قول کہ «إِنِّي سَقِيمٌ» ’میں بیمار ہوں‘ اور دوسرا یہ کہ «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ’ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا‘ تیسرا جھوٹ سیدہ سارہ علیہا السلام کے بارے میں تھا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے ان کے ساتھ ان کی بیوی سیدہ سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت تھیں۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بیوی ہے تو مجھ سے چھین لے گا، اس لیے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں اور تو اسلام کے رشتے سے میری بہن ہے۔ (یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا) اس لیے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کی قلمرو (اس کے علاقے) سے گزر رہے تھے تو اس ظالم بادشاہ کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تیرے سوا کسی کے لائق نہیں ہے۔ اس نے سیدہ سارہ کو بلا بھیجا۔ وہ گئیں تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہو گئے (اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لیے) جب سیدہ سارہ اس ظالم کے پاس پہنچیں تو اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا۔ وہ بولا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، میں تجھے نہیں ستاؤں گا۔ انہوں نے دعا کی۔ اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ اس نے دعا کے لیے کہا تو انہوں نے دعا کی۔ پھر اس مردود نے دست درازی کی، پھر پہلی دونوں دفعہ سے بڑھ کر سوکھ گیا۔ تب وہ بولا کہ اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے، اللہ کی قسم اب میں تجھ کو نہ ستاؤں گا۔ سیدہ سارہ نے پھر دعا کی، اس کا ہاتھ کھل گیا۔ تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سیدہ سارہ کو لے کر آیا تھا اور اس سے بولا کہ تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا، یہ انسان نہیں ہے۔ اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ایک لونڈی ہاجرہ اس کے حوالے کر دے۔ سیدہ سارہ ہاجرہ کو لے کر لوٹ آئیں۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا تو نمازوں سے فارغ ہوئے اور کہا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا بس کہ سب خیریت رہی، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور ایک لونڈی بھی دی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو! [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6145]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے تین دفعہ توریہ و تعریض کے سوا کبھی توریہ سے کام نہیں لیا، دو دفعہ اللہ کی خاطر، آپ کا کہنا، میں بیمار ہوں، (روحانی طور پر) بلکہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے اور ایک بار حضرت سارہ کے معاملے میں، کیونکہ وہ ایک جابر حکمران کی زمین میں آئے اور حضرت سارہ ان کے ساتھ تھیں، جو بہت زیادہ حسین تھیں تو آپ نے اس سے کہا، اس جابر (سرکش) کو اگر یہ پتہ چل گیا تو میری بیوی ہے، تیرے سلسلہ میں مجھ پر غالب آ جائے گا، (تجھے مجھ سے چھین لے گا) تو اگر وہ تجھ سے دریافت کرے تو ا س کو کہہ دینا، تم میری بہن ہو، کیونکہ تم اسلامی بہن ہو، کیونکہ میں اس علاقہ میں تیرے اور اپنے سوا کسی مسلمان کو نہیں جانتا تو جب وہ اس کی سر زمین میں داخل ہو گئے۔ حضرت سارہ کو اس سرکش کے کسی کارندے نے دیکھ لیا اور اس کا پاس آ کر اسے کہا، تیرے علاقے میں ایک ایسی عورت آئی ہے، جو آپ ہی کے پاس ہونی چاہیے، سو اس نے اسے بلوا بھیجا، اسے لایا گیاتو حضرت ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہو گئے تو جب وہ اس کے پاس پہنچیں، وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا او را سکی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو ا سکا ہاتھ زور سے جکڑ لیا گیا تو اسے نے ان سے کہا، اللہ سے دعا کرو، وہ میرا ہاتھ آزاد کر دے اور میں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچاؤں گا، انہوں نے ایسا کیا، اس نے دوبارہ حرکت کی تو ا سکا ہاتھ پہلی دفعہ سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ جکڑ لیا گیا، اس نے پھر پہلی بات کہی، انہوں نے دعا مانگی، اس نے پھر تیسری بار حرکت کی تو اس کا ہاتھ پھلی دو دفعہ سے زیادہ شدت سے جکڑ دیا گیا تو اس نے کہا، اللہ سے دعا کریں، میرا ہاتھ آزاد کر دے، اللہ گواہ یا ضامن ہے، میں تمہیں تکلیف نہیں پہنچاؤں گا، انہوں نے دعا کی اور اس کا ہاتھ آزاد کر دیا گیا اور اس نے ان کو لانے والے کو بلوایا اور اسے کہا، تم میرے پاس کس جن کو لائے، میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو، اس کو میرے علاقہ سے نکال دو اور اسے ہاجرہ دے دو، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، وہ چلتی ہوئی آئیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو سلام پھیر دیا اور ان سے پوچھا، کیا واقعہ پیش آیا، انہوں نے کہا، اچھا ہوا، اللہ نے اس بدکار کے ہاتھ کو روک لیا اور اس نے ایک خادمہ دی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اے عربو! اے خالص نسب والو! یہ تمہاری مائیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6145]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2371
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں