صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
40. باب فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
باب: سیدنا عیسی علیہ السلام کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2365 ترقیم شاملہ: -- 6130
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ".
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں۔ تمام انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی (ایک باپ اور مختلف ماؤں کے بیٹے) ہیں نیز میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6130]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”میں سب لوگوں سے ابن مریم علیہ السلامم کے زیادہ قریب ہوں، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6130]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2365 ترقیم شاملہ: -- 6131
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى، الْأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ ".
اعرج نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں۔ تمام انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6131]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عیسیٰ علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام وہ ایک باپ کے بیٹے ہیں، میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2365 ترقیم شاملہ: -- 6132
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں کی نسبت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے، اور درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔“ (نبوت سے نبوت جڑی ہوئی ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6132]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمام بن منبہ کو سنائی ہوئی احادیث میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دنیا اورآخرت میں، عیسیٰ بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں،“ لوگوں نے دریافت کیا، کیسے؟ اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2365
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2366 ترقیم شاملہ: -- 6133
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ، إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ، إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ "، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36.
معمر نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہو تا ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے۔ ماسوائے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور ان کی والدہ کے۔“ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو (حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے کہا): «إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6133]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے۔ مگر ابن مریم ؑ اور اس کی ماں اس سے محفوظ رہے)“ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو یہ پڑھ لو: ”اور میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2366 ترقیم شاملہ: -- 6134
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ جَمِيعًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ: مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ.
معمر اور شعیب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ خبر دی، دونوں نے کہا: ”(بچہ) جب پیدا ہو تا ہے تو (شیطان) اسے کچوکا لگاتا ہے اور وہ خود کو شیطان کے کچوکا لگانے سے چیخ کر روتا ہے۔“ اور شعیب کی حدیث میں (خود کو، کے بغیر صرف) ”شیطان کے کچوکا سے“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6134]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: ”پیدائش کے وقت وہ چھوٹا ہے تو وہ شیطان کے چھونےکے سبب بلند آواز سے روتاہے۔“ اور شعیب کی روایت میں، ”مسه الشيطان“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6134]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2366 ترقیم شاملہ: -- 6135
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، إِلَّا مَرْيَمَ، وَابْنَهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس سلیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے شیطان کچوکا لگاتا ہے، ماسوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6135]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم کے ہربیٹے کوجب اس کی ماں جنتی ہے، شیطان چھوتا ہے، مگر مریم اوراس کا بیٹا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2367 ترقیم شاملہ: -- 6136
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ".
سہیل (بن ابی صالح) کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولادت کے وقت بچے کا رونا شیطان کے کچوکے سے ہو تا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6136]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نومولود بچہ اس وقت روتا ہے، جب شیطان ان کوکچوکا لگاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2367
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2368 ترقیم شاملہ: -- 6137
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ عِيسَى: سَرَقْتَ، قَالَ: كَلَّا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَكَذَّبْتُ نَفْسِي ".
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا: تم نے چوری کی؟ اس نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو جھٹلایا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6137]
ہمام بن منبہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کردہ احادیث میں سے ایک یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو اسے حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ ا س نے کہا، ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو عیسیٰ علیہ السلام نے کہا، میں نے اللہ پر یقین کیا اور اپنے آپ کو خطار کار قرار دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة