صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. بَابُ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهُ بِالإِعَادَةِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا۔
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَمَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي، قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز کے بعد اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار اسی طرح ہوا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا۔ میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لیے آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو (پہلے) تکبیر کہہ پھر قرآن مجید سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا۔ پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا۔ پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا۔ پھر (سجدہ سے) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا۔ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر۔ یہی طریقہ نماز کے تمام (رکعتوں میں) اختیار کر۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 793]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں تشریف لائے تو ایک اور آدمی بھی مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے سلام عرض کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا، نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ اس نے پھر نماز پڑھی، واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”جا، نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ بہرحال ایسا واقعہ تین مرتبہ پیش آیا۔ بالآخر اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ آپ مجھے نماز کی تعلیم دیں، (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہو، پھر قرآن سے جو میسر ہو اسے پڑھو، پھر رکوع کرو۔ جب اطمینان سے رکوع کر لو تو سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد سجدہ کرو۔ جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جاؤ، اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرو تاآنکہ سجدے میں تجھے اطمینان ہو جائے۔ پھر اس طرح اپنی ساری نماز میں کرو۔“ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 793]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة