🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. باب فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2858 ترقیم شاملہ: -- 7197
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ "، وَأَشَارَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا، غَيْرَ يَحْيَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، قَالَ وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِالْإِبْهَامِ.
عبداللہ بن ادریس، محمد بن نمیر، محمد بن بشیر، موسیٰ بن اعین اور ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید سب نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قیس نے حدیث سنائی: انہوں نے کہا: میں نے حضرت مستورد بن شداد قرشی فہری رضی اللہ عنہ سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! آخرت (کے مقابلے) میں دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی ایک انگلی سمندر میں ڈالے۔ یحییٰ نے اپنی انگشت شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ پھر دیکھے وہ (انگلی) اس میں سے کیا (نکال کر) لاتی ہے۔ یحییٰ (بن سعید قطان کی روایت) کے علاوہ باقی سب کی حدیث میں (صراحت سے) یہ الفاظ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اور حضرت مستورد بن شداد فہری رضی اللہ عنہ سے ابواسامہ کی حدیث میں بھی (یہی الفاظ ہیں) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ (ابواسامہ نے) اور اسماعیل (بن ابی خالد) نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7197]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بنو فہر کے فرد حضرت مستور رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا کی آخرت کے مقابلے میں مثال بس ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنی ایک انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے — یحییٰ نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا — پھر دیکھ لے، پانی کی کتنی مقدار اس کے ساتھ لگ کر آئی ہے۔ اسامہ کی حدیث میں ہے اسماعیل نے انگوٹھے سے اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2858
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2859 ترقیم شاملہ: -- 7198
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ "،
زہیر بن حرب نے روایت کیا کہ یحییٰ بن سعید نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا» لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اٹھائے جائیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عورتیں اور مرد سب ایک ساتھ ہوں گے، ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کو دیکھے۔ اور ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابو خالد احمر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں «غرلا» کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7198]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! عورتوں اور مردوں کو، جبکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا معاملہ اس سے سنگین ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2859
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2859 ترقیم شاملہ: -- 7199
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا.
ابو خالد احمر نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں بے ختنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7199]
امام صاحب یہی حدیث دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں غیر مختون ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2859
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2860 ترقیم شاملہ: -- 7200
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے روایت کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقیوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: «إنكم ملاقو الله مشاة حفاة عراة غرلا» بے شک تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم چل رہے ہو، ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ۔ زہیر نے اپنی حدیث میں خطبہ دیتے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7200]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہوئے سنا: یقیناً تم اللہ کو ملو گے، ننگے جسم، غیر مختون، پیدل چل کر۔ زہیر کی حدیث میں خطبہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2860 ترقیم شاملہ: -- 7201
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104، أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، قَالَ: فَيُقَالُ لِي: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ "، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمُعَاذ، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.
وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ (قرآن مجید میں ہے): ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ (الأنبياء: 104) ’جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں۔‘ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انھیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۝ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (المائدة: 117-118) ’میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے۔‘ فرمایا: تو مجھ سے کہا جائے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7201]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، بے لباس، بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ ﴿جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں﴾ [سورة الأنبياء: 104] ۔ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ * إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ﴿میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے﴾ [سورة المائدة: 117-118] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جواب دیا جائے گا: جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2860
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2861 ترقیم شاملہ: -- 7202
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ، قَالُوا: وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: (قیامت کے دن) لوگوں کو تین طریقوں سے (اللہ کے سامنے) اکٹھا کیا جائے گا۔ (کچھ لوگ) خوف و رجا کے عالم میں ہوں گے اور (وہ لوگ جنھیں حاضری کے وقت بھی عزت نصیب ہو گی۔ حسب مراتب) وہ (افراد) ایک اونٹ پر (سوار) ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر (سوار ہو کر میدان حشر میں آئیں گے) اور باقی سب لوگوں کو آگ (اپنے گھیرے میں) اکٹھا کر کے لائے گی۔ جہاں ان پر رات آئے گی، وہ (آگ) رات کو بھی ان کے ساتھ ہو گی، جہاں انھیں دوپہر ہو گی وہ دوپہر کو بھی ان کے ساتھ رہے گی، وہ جہاں صبح کریں گے وہ صبح کے وقت بھی ان کے ساتھ ہو گی، اور جہاں وہ لوگ شام کریں گے وہ شام کو بھی ان کے ساتھ ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7202]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا حشر تین گروہوں یا تین جماعتوں کی شکل میں ہو گا، ایک قسم، رغبت رکھنے والے (اللہ کی رحمت کی) ڈرنے والے (اپنے گناہوں کے مواخذہ سے)، دوسری قسم، دو ایک اونٹ پر، تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر حتی کہ دس ایک اونٹ پر، تیسری قسم، باقی لوگ جن کو آگ جمع کرے گی، جہاں وہ رات بسر کریں گے، وہ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، وہیں وہ آرام کرے گی، جہاں وہ صبح کریں گے، ان کے ساتھ ہی وہ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے، ان کے ساتھ وہیں آگ شام کرے گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2861
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں