صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
418. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن المرء يكتب له بعض صلاته إذا قصر في البعض الآخر
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی بعض حصوں میں کمی کرے تو اس کے لیے اس کی نماز کا کچھ حصہ لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1889
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَخَفَّفَهُمَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، أَرَاكَ قَدْ خَفَّفْتَهُمَا. قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الْوَسْوَاسَ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الرَّجُلَ لِيُصَلِّي الصَّلاةَ، وَلَعَلَّهُ لا يَكُونُ لَهُ مِنْهَا إِلا عُشْرُهَا، أَوْ تُسْعُهَا، أَوْ ثُمُنُهَا، أَوْ سُبُعُهَا، أَوْ سُدْسُهَا" حَتَّى أَتَى عَلَى الْعَدَدِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا إِسْنَادٌ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُ مُنْفَصِلٌ غَيْرُ مُتَّصِلٍ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَلَى مَا ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمَّارٍ عَلَى ظَاهِرِهِ.
عمر بن ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ نے دو رکعات ادا کی۔ انہوں نے انہیں مختصر ادا کیا، تو عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابویقظان میں نے دیکھا ہے، آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے وسوسے آنے سے پہلے ہی انہیں مکمل ادا کر لیا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”ایک شخص نماز ادا کرتا ہے اور نماز میں اس کا حصہ صرف دسواں ہوتا ہے یا نواں ہوتا ہے یا آٹھواں ہوتا ہے یا ساتواں ہوتا ہے یا چھٹا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کے عدد تک آئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس حدیث کی سند اس شخص کو، جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اس غلط فہمی کا شکار کرتی ہے کہ اس کی سند منفصل ہے متصل نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت اپنے دادا عبدالرحمن بن حارث کے حوالے سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، جیسا کہ عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ہے۔ عمر بن ابوبکر نے یہ روایت براہ راست سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1886»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة» / المقدمة، «صحيح أبي داود» (761).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، عمر بن أبي بكر بن عبد الرحمن: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 167، وترجم له البخاري 6/ 144، وابن أبي حاتم 6/ 100 فلم يذكرا فيه جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ". حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْرِفُ غَيْرَ هَذَا، فَعَلِّمْنِي. قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاةِ، فَكَبِّرْ، وَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاتِكَ كُلِّهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، يُرِيدُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ. وَقَوْلُهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، نَفَى الصَّلاةَ عَنْ هَذَا الْمُصَلِّي، لِنَقْصِهِ عَنْ حَقِيقَةِ إِتْيَانِ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ فَرْضِهَا، لا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ. فَلَمَّا كَانَ فِعْلُهُ نَاقِصًا عَنْ حَالَةِ الْكَمَالِ، نَفَى عَنْهُ الاسْمَ بِالْكُلِّيَّةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ایک شخص مسجد میں آیا۔ اس نے نماز ادا کی پھر وہ آ کر بیٹھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ہے، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ ایسا کیا، پھر اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ مجھے اس کے علاوہ کسی چیز کا علم نہیں ہے۔ آپ مجھے تعلیم دیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو، تو تکبیر کہو اور جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو پھر تم رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرو پھر تم (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدے میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرو پھر (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ تم اپنی پوری نماز اسی طرح ادا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو۔“ اس سے آپ کی مراد سورہ فاتحہ کی تلاوت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے اپنے ذمے لازم چیز کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے اس نمازی کی نماز (ادا ہونے) کی نفی کر دی۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس شخص نے نماز ادا ہی نہیں کی تھی۔ تو جب اس کا فعل کمال کے حوالے سے ناقص ہوا تو اس سے کلی طور پر اسم کی نفی کر دی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1887»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 321 / 289)، «صحيح أبي داود» (802): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما