🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

112. باب مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کرو اور نماز پڑھو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ایک بڑے لگن میں غسل کرتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 288]
جناب عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، ان کو سات سال تک استحاضہ رہا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کرو اور نماز پڑھو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ایک لگن میں غسل کرتیں، تو خون کی سرخی پانی پر چھا جاتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:285، (تحفة الأشراف: 17922،16572) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر سنن ابي داود: 285

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
اس سند سے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 289]
عمرہ بنت عبدالرحمن، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث روایت کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (287)، (تحفة الأشراف: 15821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/434) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر سنن ابي داود: 285

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، بِمَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَلَمْ يَقُلْ إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ أَيْضًا، قَالَ فِيهِ: قَالَتْ عَائِشَة: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے وہ (ام حبیبہ رضی اللہ عنہا) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قاسم بن مبرور نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور انہوں نے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے معمر نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے، اور کبھی کبھی معمر نے عمرہ سے، انہوں نے ام حبیبہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ انہوں (زہری) نے یہ نہیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ام حبیبہ کو) غسل کرنے کا حکم دیا، نیز اسی طرح اسے اوزاعی نے بھی روایت کی ہے اس میں ہے کہ عائشہ نے کہا: وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 290]
عروہ رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں کہا: چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ (اختلاف اسانید کا بیان) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث قاسم بن مبرور رحمہ اللہ نے یونس رحمہ اللہ سے، وہ ابن شہاب رحمہ اللہ سے، وہ عمرہ رحمہ اللہا سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ اور ایسے ہی معمر رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے، انہوں نے عمرہ رحمہ اللہا سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ لیکن معمر رحمہ اللہ نے کبھی «عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ» کہا ہے اور ایسے ہی ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ اور ابن عیینہ رحمہ اللہ (دونوں) نے زہری رحمہ اللہ سے، وہ عمرہ رحمہ اللہا سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا کہ (زہری نے) یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غسل کرنے کا حکم دیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن الترمذی/الطہارة 96 (129)، (تحفة الأشراف: 16583) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لم أجدها والصواب أنه من مسند عائشة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (334)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ،" فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ"، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (حمنہ) کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 291]
جناب عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن (دونوں) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ غسل کریں، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 27 (327) (تحفة الأشراف: 17910، 16619) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (327) صحيح مسلم (334)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 292]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ آتا رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا اور حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے، مگر میں نے ان سے سنا نہیں ہے (بلکہ بالواسطہ سنا ہے) (طیالسی نے) سلیمان بن کثیر سے وہ زہری سے وہ عروہ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، کہا: زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہر نماز کے لیے غسل کیا کرو۔ اور حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا تو کہا: ہر نماز کے لیے وضو کیا کرو۔ مگر عبدالصمد کا وہم ہے۔ اس بارے میں ابوالولید کا قول صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 16610،16460)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/237) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق بن يسار عنعن (تقدم: 47)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي"، وأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: إِنَّمَا هِيَ، أَوْ قَالَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، أَوْ قَالَ: عُرُوقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الْأَمْرَانِ جَمِيعًا، وَقَالَ: إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَإِلَّا فَاجْمَعِي، كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ (یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، فرمایا: یہ تو بس ایک رگ ہے، یا فرمایا: یہ تو بس رگیں ہیں، راوی کو شک ہے کہ «إنما هي عرق» کہا یا «إنما هو عروق» کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو، ورنہ دو دو نماز کو جمع کر لو، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے، وہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 293]
جناب ابوسلمہ کہتے ہیں کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت کو بہت زیادہ خون آتا تھا اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ہر نماز کے وقت غسل کرے اور نماز پڑھا کرے۔ (یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے بتایا کہ) ام بکر نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جسے طہر شروع ہونے کے بعد کوئی شک والی کیفیت درپیش ہو: بیشک یہ رگ (کا خون) ہے۔ (الفاظ میں شک ہے) «إِنْ هِيَ - أَوْ قَالَ إِنْ هُوَ - عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ» امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن عقیل کی روایت میں دونوں باتیں جمع ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر طاقت رکھتی ہو تو ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو ورنہ جمع کر لو۔ جیسے کہ قاسم نے اپنی روایت میں بیان کیا۔ اور یہی قول سعید بن جبیر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17976، 15886) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس (طبقات المدلسين: 63/ 2 وھو من الثالثة) وعنعن
وحديث أم بكر ضعيف لجھالة حالھا
ورواه ابن ماجه (646)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں