سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. باب من روى أن المستحاضة تغتسل لكل صلاة
باب: مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي"، وأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: إِنَّمَا هِيَ، أَوْ قَالَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، أَوْ قَالَ: عُرُوقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الْأَمْرَانِ جَمِيعًا، وَقَالَ: إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَإِلَّا فَاجْمَعِي، كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ (یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، فرمایا: ”یہ تو بس ایک رگ ہے“، یا فرمایا: ”یہ تو بس رگیں ہیں“، راوی کو شک ہے کہ «إنما هي عرق» کہا یا «إنما هو عروق» کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو، ورنہ دو دو نماز کو جمع کر لو“، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے، وہ علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 293]
جناب ابوسلمہ کہتے ہیں کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت کو بہت زیادہ خون آتا تھا اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”ہر نماز کے وقت غسل کرے اور نماز پڑھا کرے۔“ (یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے بتایا کہ) ام بکر نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جسے طہر شروع ہونے کے بعد کوئی شک والی کیفیت درپیش ہو: ”بیشک یہ رگ (کا خون) ہے۔“ (الفاظ میں شک ہے) «إِنْ هِيَ - أَوْ قَالَ إِنْ هُوَ - عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ» امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن عقیل کی روایت میں دونوں باتیں جمع ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر طاقت رکھتی ہو تو ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو ورنہ جمع کر لو۔“ جیسے کہ قاسم نے اپنی روایت میں بیان کیا۔ اور یہی قول سعید بن جبیر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17976، 15886) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس (طبقات المدلسين: 63/ 2 وھو من الثالثة) وعنعن
وحديث أم بكر ضعيف لجھالة حالھا
ورواه ابن ماجه (646)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس (طبقات المدلسين: 63/ 2 وھو من الثالثة) وعنعن
وحديث أم بكر ضعيف لجھالة حالھا
ورواه ابن ماجه (646)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
293
| أمرها أن تغتسل عند كل صلاة وتصلي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 293 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 293
293۔ اردو حاشیہ:
سنن ابی داود کی روایت [292] اور [293] دونوں ضعیف ہیں۔ اس لیے ہر نماز کے لیے غسل کرنا ضروری نہیں ہے۔ حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک ہی مرتبہ غسل کافی ہے۔ سنن ابی داود حدیث [290] اور [291] میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا جو عمل بیان کیا گیا ہے، اس کی بابت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہر نماز کے لیے غسل کرنا اپنی پسند سے تھا، انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [نيل الأوطار، باب غسل المستحاضة لكل صلاة، 1۔ 283۔ 284]
لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اور دیگر بعض حضرات نے سنن ابی داود حدیث [292، 293] کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: [صحيح سنن أبى داود، تعليقات السيل الحرار: 347/1، 348]
اس میں تطبیق کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک مرتبہ غسل ضروری ہے تاہم ہر نماز کے لیے غسل کرنا مستحب ہے۔ «والله أعلم»
سنن ابی داود کی روایت [292] اور [293] دونوں ضعیف ہیں۔ اس لیے ہر نماز کے لیے غسل کرنا ضروری نہیں ہے۔ حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک ہی مرتبہ غسل کافی ہے۔ سنن ابی داود حدیث [290] اور [291] میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا جو عمل بیان کیا گیا ہے، اس کی بابت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہر نماز کے لیے غسل کرنا اپنی پسند سے تھا، انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [نيل الأوطار، باب غسل المستحاضة لكل صلاة، 1۔ 283۔ 284]
لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اور دیگر بعض حضرات نے سنن ابی داود حدیث [292، 293] کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے: [صحيح سنن أبى داود، تعليقات السيل الحرار: 347/1، 348]
اس میں تطبیق کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک مرتبہ غسل ضروری ہے تاہم ہر نماز کے لیے غسل کرنا مستحب ہے۔ «والله أعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 293]
Sunan Abi Dawud Hadith 293 in Urdu
أم بكر ← عائشة بنت أبي بكر الصديق