🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب مَنْ قَالَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1178
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كُسِفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الثَّالِثَةَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ، قَالَ: ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ". وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا ۱؎، اللہ اکبر کہا، پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے، پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج (صاف ہو کر) نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہو جائے، اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1178]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور یہ وہی دن تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جناب ابراہیم فوت ہوئے تھے، تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی وفات پر گرہنایا ہے۔ سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا اور لوگوں کو چار سجدوں میں چھ رکوع کرائے۔ (یعنی ہر رکعت میں تین تین رکوع کیے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا، پھر لمبی قراءت کی، پھر رکوع کیا۔ اس قدر جتنا کہ قیام کیا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور قراءت کی جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی۔ پھر رکوع کیا جتنا کہ قیام کیا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور تیسری بار قراءت کی جو کہ دوسری بار کی قراءت سے کم تھی۔ پھر رکوع کیا جس قدر کہ قیام کیا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور دو سجدے کیے۔ پھر کھڑے ہوئے اور تین رکوع کیے، سجدے سے پہلے۔ ہر پہلا رکوع دوسرے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ ہر رکوع قیام کے برابر لمبا ہوتا تھا۔ (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اثنائے نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی یہاں تک کہ سورج صاف نکل آیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سورج اور چاند اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی بشر کی موت کے باعث بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو نماز پڑھا کرو حتیٰ کہ صاف ہو جائیں۔ اور بقیہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن النسائی/الکسوف 12 (1477)، (تحفة الأشراف: 2438)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/274، 382) (صحیح)» ‏‏‏‏ (چھ رکوع والی بات شاذ ہے، صحیح ’’چار رکوع‘‘ ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت بھی شاذ ہے، صحیح روایت دو رکوع کی ہے، جیسا کہ خود جابر رضی اللہ عنہ کی اگلی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح وساق بقية الحديث
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (904)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1179
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ فَكَانَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعُ سَجَدَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی، (اس میں) آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا (رکوع) کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا (قیام) کیا، پھر دو سجدے کئے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح (دو رکعت میں) چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1179]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا حتیٰ کہ لوگ گرنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور لمبی دیر تک کھڑے رہے۔ پھر (دوسرا) رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبی دیر کھڑے رہے پھر سجدہ کیا اور دو سجدے کیے پھر قیام کیا جیسے کہ پہلے کیا تھا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کیے اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن النسائی/الکسوف 12 (1479)، (تحفة الأشراف: 2976)، وقد أخرجہ: (3/374، 382، 335، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے دلیل ہے جو ہر رکعت میں دو رکوع کے قائل ہیں، اور یہ دوسری روایت ہی باب سے مطابقت رکھتی ہے لیکن چونکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے دونوں شاگرد عطاء اور ابوالزبیر نے اختلاف کیا ہے، عطا نے جابر رضی اللہ عنہ سے چھ رکوع کی روایت کی ہے اور ابوالزبیر نے ان سے چار رکوع کی روایت کی ہے، اسی لئے مصنف نے صرف دوسری روایت کے ذکر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے عطا کی روایت بھی ذکر کر دی اگرچہ وہ باب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ امام بخاری اور دوسرے ائمہ نے کہا ہے کہ کسوف (سورج گرہن) کی ان احادیث کو بیان جواز پر محمول کرنا درست نہیں جب تک کہ نماز استسقا میں تعدد واقعہ نہ ہو اور اس میں تعدد واقعہ نہیں پایا جاتا ہے، کیونکہ ان تمام روایات کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج گرہن کی اس نماز سے ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات کے دن پڑھی تھی، ایسی صورت میں دو رکوع والی روایتوں کی ترجیح واجب ہے کیونکہ وہ زیادہ صحیح اور مشہور ہیں، اس کے برخلاف ائمہ فقہ و حدیث کی ایک جماعت نے تعدد واقعہ قرار دے کر ان روایتوں کو بیان جواز پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسوف کی مدت لمبی ہو جائے تو رکوع کی تعداد تین سے لے کر پانچ تک بڑھا دینا جائز ہے، امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں اسے قوی کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (904)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ /a>، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ، فَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع کی اور لمبی قراءت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، پھر اپنا سر اٹھایا اور کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور کھڑے رہے اور قراءت کی، لمبی قراءت، جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، مگر پہلے رکوع سے کم۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، والعمل في الصلاة 11 (1212)، وبدء الخلق 4 (3199)، صحیح مسلم/ الکسوف 1 (901)، سنن النسائی/ الکسوف 11 (1476)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الصلاة 279 (الجمعة 44) (561)، موطا امام مالک/صلاة الکسوف 1 (1)، مسند احمد (6/76، 78، 164، 168)، سنن الدارمی/ الصلاة 187 (1568) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1046) صحيح مسلم (901)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1181
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ،أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ" مِثْلَ حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی، جیسے عروہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے دو رکعت پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1181]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن میں نماز پڑھی جیسے کہ «عروة، عن عائشة، عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم » کی (مذکورہ بالا) حدیث میں گزرا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکسوف 4 (1052)، صحیح مسلم/ الکسوف 1 (907)، سنن النسائی/ الکسوف 9 (1470)، (تحفة الأشراف: 6335) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1046) صحيح مسلم (902)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1182
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحُدِّثْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنْ الطُّوَر وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ سُورَةً مِنْ الطُّوَرِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (دو رکعت) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1182]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اور لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قراءت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور لمبی سورتوں میں سے ایک سورت پڑھی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھے اور دعا کرتے رہے، حتیٰ کہ سورج صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/134) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (بلکہ منکر ہے کیوں کہ ابو جعفر رازی ضعیف ہیں اور ثقات کی مخالفت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال ابن حبان في ترجمة الربيع بن أنس :’’ والناس يتقون حديثه ما كان من رواية (أبي) جعفر عنه لأن فيھا اضطراب كثير ‘‘ (الثقات 4 / 228) وھو حسن الحديث في غير رواية أبي جعفر الرازي عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری (رکعت) بھی اسی طرح پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1183]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن میں نماز پڑھائی تو قراءت کی اور رکوع کیا، پھر قراءت کی اور رکوع کیا، پھر قراءت کی اور رکوع کیا، پھر قراءت کی اور رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الکسوف 4 (908)، سنن الترمذی/الصلاة 279 (الجمعة 44) (560)، سنن النسائی/الکسوف 8 (1468-1469)، (تحفة الأشراف: 5697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 216، 225، 298، 346، 358)، سنن الدارمی/ الصلاة 187(1534)» ‏‏‏‏ (تین طریق سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں دو رکوع، اور دو سجدہ کا تذکرہ ہے، اس لئے علماء کے قول کے مطابق حبیب نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اور یہ مدلس ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے) (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن ابی داود 2؍ 20)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (909)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1184
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ: بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا، فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ" فَاسْتَقْدَمَ، فَصَلَّى، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسُ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، ثُمَّ سَاقَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اسود بن قیس کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن عباد عبدی (جو اہل بصرہ میں سے ہیں) نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر رہے، سمرہ رضی اللہ عنہ نے (خطبہ میں) کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے یہاں تک کہ جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو نیزہ یا تین نیزہ کے برابر رہ گیا تو اسی دوران وہ دفعۃً سیاہ ہو گیا پھر گویا وہ تنومہ ۱؎ ہو گیا، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تم ہمارے ساتھ مسجد چلو کیونکہ اللہ کی قسم سورج کا یہ حال ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، تو ہم چلے تو دیکھتے ہیں کہ مسجد بھری ۲؎ ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، اور ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اتنا لمبا رکوع کیا کہ اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۳؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی بھی کسی نماز میں ہمارے ساتھ نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دوسری رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہو گیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر احمد بن یونس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا خطبہ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1184]
جناب ثعلبہ بن عباد عبدی، اہل بصرہ میں سے ایک شخص، بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے ایک خطبے میں حاضر ہوئے، سمرہ نے کہا: ایک دفعہ میں اور ایک انصاری نوجوان نشانہ بازی کر رہے تھے، حتیٰ کہ دیکھنے والے کی آنکھ میں جب سورج افق سے دو یا تین نیزے پر تھا تو وہ سیاہ ہو گیا جیسے کہ تنومہ (گھاس) ہو۔ ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو آؤ مسجد کی طرف چلیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کی اس کیفیت میں امت کو ضرور کوئی نئی بات تعلیم فرمائیں گے۔ سو ہم فوراً وہاں پہنچ گئے (جیسے گویا ہمیں دھکیل دیا گیا ہو) تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہایت طویل قیام کرایا ایسا کہ کسی بھی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں کرایا تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہایت طویل رکوع کرایا جو کسی بھی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں کرایا تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہایت طویل سجدہ کرایا جو کسی بھی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں کرایا تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا۔ اور دوسری رکعت میں بیٹھنے کے دوران میں سورج صاف ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ پھر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا کی، اللہ کی توحید اور اپنی عبدیت و رسالت کی شہادت دی۔ اور احمد بن یونس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 280 (الجمعة 45) (562)، سنن النسائی/الکسوف 15 (1485)، 19 (1496)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 152 (1264)، (تحفة الأشراف: 4573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 16، 17، 19، 23) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ثعلبہ لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ ایک قسم کا پودا ہے جس کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔
۲؎: «فإذا هو بَارِزٌ» میں غلطی ہوئی ہے، صحیح «فإذا هو بأُزُزٍ» ہے، «أُزُزْ» جس کے معنی بھیڑ اور بڑے مجمع کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب ہم مسجد پہنچے تو دیکھا کہ لوگ مسجد میں جمع ہیں اور وہ بھری ہوئی ہے۔
۳؎: ہو سکتا ہے کہ ان دونوں کو قرات کی آواز دور ہونے کے سبب سنائی نہ دے رہی ہو، ویسے یہ حدیث ضعیف ہے صحیح روایات میں جہری قرات کا تذکرہ موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1490)
أخرجه الترمذي (562 وسنده حسن) والنسائي (1485 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1397 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ، فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَانْجَلَتْ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هَذِهِ الْآيَاتُ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ".
قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے اس دن میں آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں لمبا قیام فرمایا، پھر نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہو گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ اللہ (بندوں کو) ڈراتا ہے لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو جیسے تم نے قریب کی فرض نماز پڑھی ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1185]
سیدنا قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گہنا گیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے، اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے۔ میں ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں کافی لمبا قیام کیا، فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نشانیاں ہیں۔ اللہ عزوجل ان کے ذریعے سے (بندوں کو) ڈراتا ہے۔ سو جب تم یہ دیکھو تو نماز پڑھو جیسے کہ تم نے ابھی قریبی فرض نماز پڑھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الکسوف 16 (1487، 1488)، (تحفة الأشراف: 11065)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/60) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابو قلابہ مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز سند و متن میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، کبھی تو قبیصہ کا نام لیتے ہیں، کبھی نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا جیسا کہ حدیث نمبر (1193) میں آ رہا ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے إرواء الغليل للألباني، نمبر: 662)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کسوف اپنے سے پہلے فرض نماز کے مطابق ہو گی، لیکن صاحب منتقی الأخبار امام عبدالسلام ابن تیمیہ نے ان احادیث کو ترجیح دی ہے جن میں تکرار رکوع کے ساتھ دو رکعتوں کا ذکر ہے کیونکہ وہ روایتیں صحیحین کی ہیں اور متعدد طرق سے مروی ہیں جب کہ یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
نسائي (1487)
قال البيهقي : ’’ وھذا أيضًا لم يسمعه أبو قلابة عن قبيصة،إنما رواه عن رجل عن قبيصة ‘‘ (3/ 334)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1186
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ الشَّمْسَ كُسِفَتْ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى، قَالَ: حَتَّى بَدَتِ النُّجُومُ.
ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا، پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے: یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1186]
سیدنا قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورج کو گرہن لگا۔ اور موسیٰ بن اسماعیل کی (مذکورہ بالا) حدیث کی مانند بیان کیا، اس میں بیان کیا حتیٰ کہ ستارے ظاہر ہو گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11065) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عباد ضعيف مدلس
وتابعه أنيس بن سوار : مجهول الحال،روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده (8 / 134) !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 51

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں