🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. فَضِيلَةُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ
ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 701
أخبرنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا علي بن العباس البَجَلي بالكوفة، حدّثنا أبو موسى محمد بن المثنَّى، حدّثنا أبو عاصم الضحاك بن مَخَلد، حدّثنا سفيان، حدَّثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"ألا أدلُّكم على ما يُكفَّر الله به الخطايا ويزيد في الحَسَنات؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"إسباغُ الوضوء في المَكارِه، وانتظارُ الصلاة بعد الصلاة، ما منكم من رجل يخرُج من بيته فيصلي مع الإمام، ثم يجلِسُ ينتظرُ الصلاةَ الأُخرى، إلّا والملائكةُ تقول: اللهمَّ اغْفِرْ له، اللهم ارحَمْه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهو غريب من حديث الثَّوري، فإني سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول: تفرَّد به أبو عاصم النَّبيل عن الثَّوري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 689 - على شرطهما
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کام نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناگواری و مشقت کے باوجود مکمل وضو کرنا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تم میں سے جو بھی شخص اپنے گھر سے نکل کر امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور پھر دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھتا ہے، تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، سفیان ثوری سے یہ روایت غریب ہے اور اسے صرف ابو عاصم نبیل نے ان سے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ/حدیث: 701]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 702
حدّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ الجَلّاب، حدّثنا محمد بن شاذانَ الجوهري، حدّثنا المعلَّى بن منصور، حدّثنا عبد الرحيم بن سليمان، حدّثنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن العباس بن ذَرِيح، عن زياد بن عبد الرحمن النَّخَعي قال: كنا جلوسًا مع عليٍّ في المسجد الأعظم والكوفةُ يومئذٍ أخصاصٌ، فجاءه المؤذِّن فقال: الصلاةَ يا أمير المؤمنين - للعصر - فقال: اجلِسْ، فجلس، ثم عاد فقال ذلك، فقال علي: هذا الكلب يعلِّمنا بالسُّنَّة! فقام عليٌّ فصلى بنا العصر، ثم انصَرَفْنا فرجعنا إلى المكان الذي كنَّا فيه جلوسًا، فجَثَوْنا للرُّكَب، تَتَزوَّرُ الشمسُ للمَغِيبَ نَتراءاها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بعد احتجاجهما بُرواته (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 690 - صحيح
زیاد بن عبد الرحمن نخعی بیان کرتے ہیں کہ ہم کوفہ کی بڑی مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جبکہ اس وقت کوفہ میں چھپڑ والے مکانات تھے، مؤذن آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے، انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گیا، پھر دوبارہ آ کر وہی بات کہی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (مذاقاً) فرمایا: یہ کتا ہمیں سنت سکھا رہا ہے! پھر وہ کھڑے ہوئے اور ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب ہم واپس اپنی جگہ پہنچے تو ہم گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور سورج ابھی اتنا اونچا تھا کہ غروب کے وقت کی زردی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ ہم سورج کو صاف دیکھ رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ/حدیث: 702]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 703
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البيروتي، أخبرني أبي قال: سمعت الأوزاعيَّ قال: حدَّثني أبو النَّجَاشي قال: حدَّثني رافع بن خَدِيج قال: كنا نصلي مع رسول الله ﷺ العصرَ، ثم ننحرُ الجَزُور، فنَقسِمُ عَشرَ قِسَم، ثم نَطبخ فنأكلُ لحمًا نَضِيجًا قبل أن تغيبَ الشمس (3) . قد اتفق البخاريّ ومسلم على إخراج حديث الأوزاعي عن أبي النجَّاشي عن رافع ابن خَدِيج قال: كنا نصلي المغربَ (1) مع رسول الله ﷺ ثم تنصرفُ وأحدُنا يُبصِرُ مواقعَ نَبْلِه (2) . وله شاهدان صحيحان في تعجيل الصلاة، ولم يُخرجاه. فالشاهد الأول منهما:
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اونٹ ذبح کرتے اور اس کے دس حصے کرتے، پھر اسے پکاتے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے رافع بن خدیج کی مغرب والی روایت پر تو اتفاق کیا ہے کہ نماز کے بعد ہم تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے، لیکن تعجیلِ عصر کے بارے میں یہ روایت ان کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ/حدیث: 703]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 704
أخبرناه أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبْدُوس العَنَزي، حدّثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدّثنا عبد الله بن صالح، حدَّثني الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن أسامة بن زيد، عن ابن شهاب، عن عُرْوة قال: سمعت بَشِيرَ بن أبي مسعود يحدِّث عن أبي مسعود، عن النبيّ ﷺ: أنه كان يصلي العصرَ والشمسُ بيضاءُ مرتفعةٌ، ثم يسيرُ الرجل حتى ينصرفَ منها إلى ذي الحُلَيفة - وهي ستة أميال - قبل غروب الشمس (3) . قد اتفقا على حديث بشير بن أبي مسعود في آخر حديث الزهري عن عروة بغير هذا اللفظ (4) . وأما الشاهد الثاني:
بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج سفید اور بلند ہوتا تھا، پھر ایک آدمی نماز سے فارغ ہو کر ذوالحلیفہ (جو مدینہ سے چھ میل دور ہے) تک سورج غروب ہونے سے پہلے پہنچ جاتا تھا۔
شیخین نے بشیر بن ابی مسعود کی روایت زہری کے واسطے سے دوسرے الفاظ میں لی ہے، لیکن یہ لفظ ان کی شرط پر صحیح ہونے کے باوجود انہوں نے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ/حدیث: 704]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں