🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. ذِكْرُ حَدِّ الْقَذْفِ
تہمت لگانے (قذف) کی حد کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8307
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن موسى التَّميمي، حدَّثنا مِنْجاب بن الحارث، حدَّثنا عبد الملك بن هارون بن عَنترة، عن أبيه، عن جدِّه، عن عمرو بن العاص: أنه زار عمَّةً له، فدعت له بطعام، فأبطأَتِ الجاريةُ فقالت: ألا تَستعجِلي يا زانيةُ! فقال عمرو: سبحان الله، لقد قلتِ أمرًا عظيمًا، هل اطَّلَعتِ منها على زِنًى؟ قالت: لا والله، فقال عمرو: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أيُّما عبدٍ أو امرأةٍ قال أو قالت لوليدِتها: يا زانيةُ، ولم تطَّلِعُ منها على زناءٍ، جلدَتْها وَليدتُها يومَ القيامة، لأنه لا حدَّ لهنَّ في الدنيا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا في هذا الباب على حديث عبد الرحمن بن أبي نُعْم (2) ، عن أبي هريرة:"مَن قَذَفَ مملوكَه بالزِّنى، أُقيم عليه الحدُّ يومَ القيامة" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8108 - بل عبد الملك بن هارون متروك باتفاق حتى قيل فيه دجال
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی ایک پھوپھی کی زیارت کی، انہوں نے کھانا طلب کیا تو خادمہ نے آنے میں دیر کر دی، اس پر ان کی پھوپھی نے کہا: اے زانیہ! تو جلدی کیوں نہیں کرتی؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ! آپ نے بہت سنگین بات کہی ہے، کیا آپ نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، نہیں! تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کسی مرد یا عورت نے اپنی خادمہ کو اے زانیہ کہا جبکہ اس نے اس سے بدکاری کا صدور ہوتے نہ دیکھا ہو، تو قیامت کے دن وہ خادمہ اسے کوڑے مارے گی، کیونکہ دنیا میں ان (غلاموں اور لونڈیوں) کے لیے (قذف کی) کوئی حد نہیں ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ: جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی، اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8307]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، ابن أبي دارم» [ترقيم الرساله 8307] [ترقيم الشركة 8208] [ترقيم العلميه 8108]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8308
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الرَّبيع بن سليمان، حدَّثنا أسَد بن موسى، حدَّثنا مسلم بن خالد، حدَّثنا أبو حازم، حدثني سهل بن سعد صاحبُ رسول الله ﷺ: أنَّ رجلًا من أسلم جاء النبيَّ ﷺ، فقال: إنه زَنَى بامرأة، سمَّاها وأنكَرَت، فحَدَّه وتركَها (4) . هذا إسناد صحيح، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8109 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا لیکن اس عورت نے (اس فعل سے) انکار کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر حد قائم کی اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔
یہ سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8308]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف من أجل مسلم بن خالد» [ترقيم الرساله 8308] [ترقيم الشركة 8209] [ترقيم العلميه 8109]

الحكم على الحديث: حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8309
ما حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا موسى بن هارون البُنِّي (1) ، حدَّثنا هشام بن يوسف، حدَّثنا القاسم بن فيَّاض الأَبْناوي (1) ، عن خلَّاد بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا من بني بكر بن ليث أتى النبيَّ ﷺ، فأقرَّ أنه زَنَى بامرأةٍ أربع مرارٍ، فَجُلِد مئةً، وكان بكرًا، ثم سأله البيِّنةَ على المرأة، فقالت المرأةُ: كذَبَ والله يا رسول الله، فجلدَه حدَّ الفِرْية ثمانين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8110 - القاسم بن فياض ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو بکر بن لیث کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور چار مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، چونکہ وہ کنوارا تھا اس لیے اسے سو کوڑے لگائے گئے، پھر اس نے اس عورت کے خلاف ثبوت کا مطالبہ کیا تو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اس نے جھوٹ بولا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو تہمت لگانے کی پاداش میں «حد الفِرية» (تہمت کی حد) کے طور پر اسی کوڑے لگائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8309]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة من أجل القاسم بن فياض الأبناوي، وقال النسائي عن حديثه هذا: منكر، وبه أعله الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8309] [ترقيم الشركة 8210] [ترقيم العلميه 8110]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة من أجل القاسم بن فياض الأبناوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8310
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدَّثنا أبو حاتم الرازي، حدَّثنا سعيدٌ بن الرَّبيع، حدَّثنا هشام بن حسّان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ هلال بن أُميّة قَذَفَ امرأته عند النبيِّ ﷺ بشَريك بن سَحْماء، فقال رسول الله ﷺ:"البيِّنةُ أو حَدٌّ في ظَهرِك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8111 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری کی تہمت لگائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد (کوڑے) لگائی جائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8310]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8310] [ترقيم الشركة 8211] [ترقيم العلميه 8111]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں