الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
كِتَابُ الْإِجَارَةِ
کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
Wages (Kitab Al-Ijarah)
42. باب فِي الرَّهْنِ
باب: گروی رکھنے کا بیان۔
Chapter: Regarding Pawning.
حدیث نمبر: 3526
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا هناد، عن ابن المبارك، عن زكريا، عن الشعبي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" لبن الدر يحلب بنفقته إذا كان مرهونا، والظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا، وعلى الذي يركب ويحلب النفقة"، قال ابو داود: وهو عندنا صحيح.
(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَبَنُ الدَّرِّ يُحْلَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَالظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَحْلِبُ النَّفَقَةُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ عِنْدَنَا صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہو گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الرھن 4 (2511)، سنن الترمذی/البیوع 31 (1254)، سنن ابن ماجہ/الرہون 2 (2440)، (تحفة الأشراف: 13540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/228، 472) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ as saying: The milk of milch camels may be drunk for payment when in pledge, and the animal may be ridden for payment when it is pledge; payment being made by the one who rides and the one who drinks. Abu Dawud said: In our opinion this is correct.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3519


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3527
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا زهير بن حرب، وعثمان بن ابي شيبة، قالا: حدثنا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، ان عمر بن الخطاب، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" إن من عباد الله لاناسا ما هم بانبياء، ولا شهداء يغبطهم الانبياء، والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله تعالى، قالوا: يا رسول الله، تخبرنا من هم؟، قال: هم قوم تحابوا بروح الله على غير ارحام بينهم، ولا اموال يتعاطونها، فوالله إن وجوههم لنور، وإنهم على نور، لا يخافون إذا خاف الناس ولا يحزنون إذا حزن الناس، وقرا هذه الآية: الا إن اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون سورة يونس آية 62".
(مرفوع) حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ، وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟، قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا، فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ، وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ سورة يونس آية 62".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے (مجسم) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون» یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں (سورۃ یونس: ۶۲)۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10661) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث نُسَّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، اس باب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور ابن داسہ کی روایت میں ہے، لولوی کی روایت میں نہیں ہے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab: reported the Prophet ﷺ as saying: There are people from the servants of Allah who are neither prophets nor martyrs; the prophets and martyrs will envy them on the Day of Resurrection for their rank from Allah, the Most High. They (the people) asked: Tell us, Messenger of Allah, who are they? He replied: They are people who love one another for the spirit of Allah (i. e. the Quran), without having any mutual kinship and giving property to one. I swear by Allah, their faces will glow and they will be (sitting) in (pulpits of) light. They will have no fear (on the Day) when the people will have fear, and they will not grieve when the people will grieve. He then recited the following Quranic verse: "Behold! Verily for the friends of Allah there is no fear, nor shall they grieve. "
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3520


قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.