سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ
باب: قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: ”اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بیت الخلاء (شیطانوں کے) حاضر ہونے کی جگہیں ہیں۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی (بیت الخلاء میں) داخل ہو تو اسے یوں کہنا چاہیے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 3 (6)، (تحفة الأشراف: 3685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 373) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پاخانہ میں داخل ہونے، اور میدان میں کپڑا اوپر کرنے سے قبل یہ دعا پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 296M
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3681) وانظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ ، حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ ، عَنِ الْحَكَمِ النَّصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِتْرُ مَا بَيْنَ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ، أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں اور بنی آدم (انسانوں) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو «بسم اللہ» کہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 297]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی آدم (انسانوں) کے پردے کے اعضاء اور جنوں کی نظروں کے درمیان یہ چیز پردہ بن جاتی ہے کہ جب کوئی بیت الخلاء میں داخل ہو تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجمعة 73 (606)، (تحفة الأشراف: 10312) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
إسناده ضعيف
ترمذي (606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
حدیث نمبر: 298
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» یعنی: ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 298]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”میں ناپاک جنوں اور ناپاک جنّیوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض32 (375)، سنن النسائی/الطہارة 18 (19)، (تحفة الأشراف: 997)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، سنن ابی داود/الطہارة 3 (4)، سنن الترمذی/الطہارة 4 (5)، مسند احمد (3/101، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 10 (696) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَعْجِزْ أَحَدُكُمْ إِذَا دَخَلَ مِرْفَقَهُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ، الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ، الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 299]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» کسی کو اس بات سے عاجز نہیں ہونا چاہیے کہ جائے ضرورت میں داخل ہوتے وقت یوں کہہ لے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں گندے، پلید، ناپاک، گندے کام سکھانے والے مردود شیطان سے۔““ ابو حاتم نے ابن ابی مریم سے اسی طرح روایت بیان کی لیکن انہوں نے اپنی روایت میں «مِنَ الرِّجْسِ النَّجَسِ» کے الفاظ بیان نہیں کیے بلکہ صرف «مِنَ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4914، ومصباح الزجاجة: 121) (ضعیف)» (اس میں عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور القاسم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2189)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن يزيد:ضعيف
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
إسناده ضعيف
علي بن يزيد:ضعيف
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
حدیث نمبر: 299M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ إِنَّمَا، قَالَ:" مِنَ الْخَبِيثِ الْمُخْبِثِ، الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".
اس سند سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں: «من الرجس النجس» کے الفاظ مذکور نہیں ہیں، بلکہ «من الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 299M]