🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : ما يقول الرجل إذا دخل الخلاء
باب: قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 3 (6)، (تحفة الأشراف: 3685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 373) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پاخانہ میں داخل ہونے، اور میدان میں کپڑا اوپر کرنے سے قبل یہ دعا پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥النضر بن أنس الأنصاري، أبو مالك
Newالنضر بن أنس الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← النضر بن أنس الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
6
هذه الحشوش محتضرة إذا أتى أحدكم الخلاء فليقل أعوذ بالله من الخبث والخبائث
صحيح ابن خزيمة
69
هذه الحشوش محتضرة إذا دخلها أحدكم فليقل اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث
سنن ابن ماجه
296
هذه الحشوش محتضرة إذا دخل أحدكم فليقل اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 296 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث296
اردو حاشہ:
(1)
ناپاک مذکرومونث جنوں سے مراد شیطان جنات ہیں جو محض شرارت کے طور پر انسانوں کو تنگ کرکے خوش ہوتے ہیں۔

(2)
شیاطین اپنی ناپاک فطرت کی وجہ سے ناپاک مقامات ہی کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیت الخلاء میں آنا جانا ہوتا ہے۔

(3)
شیطان اس جگہ اس لیے بھی آتے ہیں کہ ہر انسان طبعی طور پر وہاں جانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
اور وہاں وہ اللہ کا ذکر بھی نہیں کرسکتا اس لیے وہاں شیطان انسان کے دل میں ہر قسم کے غلط سلط خیالات اور وسوسے آسانی سے ڈال سکتا ہے۔

(4)
شیطان کے اس شر سے بچنے کے لیے مذکورہ بالا دعا ایک آسان طریقہ ہے۔
اس کی برکت سے وہ ہمیں نہ جسمانی نقصان پہنچا سکتا ہے نہ گندے خیال کے ذریعے سے پریشان کرسکتا ہے۔

(5)
مذکورہ بالا دعا بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے پڑھنی چاہیے جیسے کی صحیح بخاری کی ایک روایت میں صراحت ہے۔ دیکھیے: (صحيح البخاري الوضوء باب ما يقول عند الخلاء حديث: 142)
كيونكه اس مقام پر زبان سے اللہ کا ذکر کرنا ادب کے منافی ہے۔
اگر کسی میدان وغیرہ میں قضائے حاجت کے لئے جائےتو کپڑے کھولنے سے پہلے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 296]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 69
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بیت الخلا میں (شریر و خبیث) جِن حاضر ہوتے ہیں۔ لِہٰذا جب تم میں کوئی شخص ان میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھ لے: «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ» ... [صحيح ابن خزيمه: 69]
فواند:
➊ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل مذکورہ دعا پڑھنا مشروع ہے۔
➋ قضائے حاجت کی جگہیں، بیت الخلاء وغیرہ شیاطین کی آماجگاہ ہیں اور قضائے حاجت کی صورت میں شیطانی حملوں اور وسوسوں سے بچنے کا واحد حل اس مسنون وظیفہ کا اہتمام ہے بصورت دیگر شیاطین انسانوں کو جسمانی اور روحانی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لٰہذا اس دعا کا اہتمام بہر صورت کرنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 69]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 6
پاخانہ میں جاتے وقت آدمی کیا کہے؟
«. . . فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ، فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ . . .»
. . . جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 6]
فوائد و مسائل
➊ یہ خبر امور غیبیہ میں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبروں پر من وعن اور بلا چون و چرا ایمان لائیں۔
➋ معلوم ہوا کہ اس دعا کی پابندی سے انسان کئی طرح کی ظاہری و باطنی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، اور آج کل جو گھر گھر میں جنوں اور آسیب کے حملوں کا چرچا ہے اس کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ خود ناپاک رہتے ہیں یا اس سنت مطہرہ کے تارک ہوتے ہیں۔ «اعاذنا الله منها»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 6]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296M
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے انہوں نے یہی سابقہ حدیث ذکر کی، زید بن ارقم کی یہ حدیث دوسری دو سندوں سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 296M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3681) وانظر ماقبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥القاسم بن عوف الشيباني
Newالقاسم بن عوف الشيباني ← زيد بن أرقم الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← القاسم بن عوف الشيباني
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← هارون بن إسحاق الهمداني
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥جميل بن الحسن الحمصي، أبو الحسن
Newجميل بن الحسن الحمصي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ضعيف الحديث