سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1047]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ لے (تو کیا حکم ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہر کسی کو دو کپڑے میسر ہوتے ہیں؟““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13145)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا 49 (258)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن ابی داود/الصلاة 8 7 (625)، سنن النسائی/القبلة 14 (764)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (30)، مسند احمد (6/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہو گی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ:" دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1048]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا «تَوَشُّح» کے انداز سے اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 52 (519)، (تحفة الأشراف: 3982) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «متوشحًا» یعنی لپیٹے ہوئے، تو «شح» یہ ہے کہ کپڑے کا جو کنارہ داہنے کندھے پر ہو اس کو بائیں بغل کے نیچے سے لے جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینے پر گرہ دے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1049]
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھتے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «تَوَشُّح» کے انداز سے اوڑھ رکھا تھا اور اس کے دونوں سرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة4 (354، 355)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (517)، سنن الترمذی/الصلاة 138 (339)، سنن النسائی/القبلة 14 (765)، (تحفة الأشراف: 10684)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 78 (678)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (29)، مسند احمد (4/26، 27) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ مُشْكَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِالْبِئْرِ الْعُلْيَا فِي ثَوْبٍ".
کیسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1050]
حضرت عبدالرحمن بن کیسان رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت کیسان بن جریر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں نے بئرِ علیا کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (02تحفة الأشراف: 11170، ومصباح الزجاجة: 376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/417) (حسن)» (اس کی سند میں عبد الرحمن بن کیسان مستور اور محمد بن حنظلہ غیر معروف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 379 بتحقیق الشہری)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن كيسان مستور (تقريب:3992)
والحديث السابق (الأصل: 1049) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن كيسان مستور (تقريب:3992)
والحديث السابق (الأصل: 1049) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
حدیث نمبر: 1051
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَلَبِّبًا بِهِ".
کیسان بن جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1051]
حضرت کیسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑا سینے پر گرہ دے کر ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھتے دیکھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11170، مصباح الزجاجة: 375) (حسن)» (بوصیری نے اس اسناد کی تحسین کی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1050)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1050)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415