سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
194. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا
باب: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1399
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى آتِيَ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: مَاذَا افْتَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟، قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَوَضَعَ عَنِّي شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ: فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ:" هِيَ خَمْسٌ، وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ"، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے (معراج کی رات) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں میرے اوپر فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کر سکے گی، میں اپنے رب کے پاس لوٹا، تو اس نے آدھی معاف کریں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، اور ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی، چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ (ادا کرنے میں) پانچ وقت کی نمازیں (شمار میں) ہیں، جو (ثواب میں) پچاس نماز کے برابر ہیں، میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا، اٹل ہوتا ہے، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، تو میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1399]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں یہ حکم لے کر واپس حتی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ میں دوبارہ اپنے رب کی طرف گیا تو اس نے نصف نمازیں معاف فرما دیں۔ میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں بتایا انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ میں پھر اپنے رب کی طرف گیا تو اس نے فرمایا: یہ (ادا کرنے میں) پانچ ہیں اور یہی (ثواب میں) پچاس ہیں۔ میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا۔ میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے پاس واپس جائیے، میں نے کہا: مجھے اپنے رب سے شرم محسوس ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 1 (349)، الأنبیاء 5 (3342)، صحیح مسلم/الإیمان 74 (163)، سنن النسائی/الصلاة 1 (45)، (تحفة الأشراف: 1556) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت مختصر ہے، مفصل واقعہ صحیحین اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے، اس میں یہ ہے کہ پہلی بار اللہ تعالیٰ نے پچاس میں سے پانچ نمازیں معاف کیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر بار بار اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے رہے، اور پانچ پانچ نماز کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں، یہی عدد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر تھا، اس سے کم نہیں ہو سکتا تھا، سبحان اللہ مالک کی کیا عنایت ہے، ہم ناتواں بندوں سے پانچ نمازیں تو ادا ہو نہیں سکتیں، پچاس کیونکر پڑھتے، حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رب العالمین عرش کے اوپر ہے، ورنہ بار بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس کے پاس جاتے تھے، اور اس سے جہمیہ، معتزلہ اور منکرین صفات کا رد ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو جہت اور مکان سے منزہ و پاک جانتے ہیں، اور لطف یہ ہے کہ باوجود اس کے پھر اس کو ہر جہت اور ہر مکان میں سمجھتے ہیں، یہ حماقت نہیں تو کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر جہت اور ہر مکان میں ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتوں آسمانوں کے اوپر جانے کی کیا ضرورت تھی؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1400
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً، فَنَازَلَ رَبَّكُمْ أَنْ يَجْعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1400]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا تھا تو انہوں نے تمہارے رب سے تخفیف کرا کے پانچ کروا لیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد یہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5808، ومصباح الزجاجة: 493)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/315) (صحیح)» (سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، نیز شواہد کے لئے دیکھئے: مصباح الزجاجة 498 ابن ماجہ میں ''ابن عباس'' ہے، اور صحیح ''ابن عمر'' ہے جیسا کہ سنن ابی داود (1؍171) میں ہے، اور اس کی سند میں ''ایوب بن جابر'' ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ الْمُخْدِجِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1401]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، تو جو شخص انہیں اس طرح لے کر حاضر ہوا کہ ان کے حق کو غیر اہم سمجھ کر ان میں کمی نہ کی ہو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے وعدہ فرمائے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دے گا، اور جو انہیں اس طرح لے کر آیا کہ ان کے حق کو اہمیت نہ دیتے ہوئے ان میں کمی کی (پوری نمازیں ادا نہ کیں) تو اسے اللہ کے ہاں کوئی عہد حاصل نہیں ہوگا (اللہ کی مرضی ہے) چاہے اسے عذاب دے، چاہے بخش دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 9 337 (1420)، سنن النسائی/الصلاة 6 (462)، (تحفة الأشراف: 5122)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 3 (14) مسند احمد (5/315، 319، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1618) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کاموں کی طرح اس کا بھی پورا خیال نہ رکھے، کبھی پڑھے اور کبھی چھوڑ دے، یا جلدی جلدی پڑھے، شرائط اور آداب اور سنن کو اچھی طرح سے نہ بجا لائے، ایسا شخص گنہگار ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1402
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:" بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالُوا: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ: سَلْ مَا بَدَا لَكَ، قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي"، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی“، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو چاہو پوچھو“، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1402]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی اثنا میں ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے مسجد میں اونٹ بٹھایا، اس کا گھٹنا باندھا، پھر کہا: ”آپ لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی مجلس میں ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا: ”یہ سفید فام جو ٹیک لگا کر تشریف فرما ہیں۔“ اس آدمی نے کہا: ”عبدالمطلب کے بیٹے!“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بات کرو) جواب دے رہا ہوں۔“ اس آدمی نے کہا: ”اے محمد! میں آپ سے کچھ دریافت کروں گا اور سوال میں سختی ہوگی، آپ دل میں (ناراضگی) محسوس نہ کیجیے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہا پوچھ لو۔“ آدمی نے کہا: ”آپ کو آپ کے رب کی اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو اللہ نے سب لوگوں کی طرف بھیجا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ گواہ ہے، ہاں (یہی بات ہے)۔“ اس نے کہا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ گواہ ہے، ہاں (ایسا ہی ہے)۔“ اس نے کہا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو سال میں اس مہینے (رمضان) کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ گواہ ہے، ہاں۔“ اس نے کہا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے دولت مندوں سے یہ صدقہ (زکاۃ) لے کر ہمارے غریبوں میں تقسیم فرمائیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اللہ گواہ ہے، ہاں۔“ اس شخص نے کہا: ”میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پر ایمان لے آیا ہوں اور میں اپنے پیچھے اپنی قوم کے افراد کی طرف سے پیغام رساں بن کر آیا ہوں۔ میں بنو سعد بن بکر (قبیلہ) کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 6 (63)، سنن ابی داود/الصلاة 23 (486)، سنن النسائی/الصیام 1 (2094)، (تحفة الأشراف: 907)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 3 (12)، مسند احمد (3/167)، سنن الدارمی/الصلاة 140 (1470) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1403
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيلِ ، أَخْبَرَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" افْتَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا، أَنَّهُ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي".
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1403]
حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: ”میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور میں نے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص انہیں وقت پر پابندی سے ادا کرے گا میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جس نے انہیں پابندی سے ادا نہ کیا اس کے حق میں میرا کوئی وعدہ نہیں۔“”“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12082، ومصباح الزجاجة: 494)، وقد آخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 9 (430) (صحیح)» (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں «ضبارہ» مجہول اور «دوید» متکلم فیہ ہیں، (تراجع الألبانی: رقم: 58)، نیز بوصیری نے اس حدیث کو زدا ئد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ مزی نے تحفة الأشراف میں اس حدیث کو ابن الاعرابی کی روایت سے ابوداود کی طرف منسوب کیا ہے، جس کو میں نے لئولُوی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف/ د
سنن أبي داود (430)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
إسناده ضعيف/ د
سنن أبي داود (430)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426