سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: استعمال کے لائق ہونے سے پہلے درخت کے کچے پھل کو بیچنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2214]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھل اس وقت تک نہ بیچو، جب تک ان کا صحیح ہونا ظاہر نہ ہو جائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے اور خریدنے والے (دونوں) کو منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 26 (4526)، (تحفة الأشراف: 8302)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 8 (1486)، البیوع 82 (2183)، 85 (2194)، 87 (2199)، صحیح مسلم/البیوع 13 (1534)، 14 (1534)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3367)، سنن الترمذی/البیوع 15 (1226)، موطا امام مالک/البیوع 8 (10)، مسند احمد (2/7، 8، 16، 46، 56، 59، 61، 80، 133)، سنن الدارمی/البیوع 21 (2597) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی درخت پر جو پھل لگے ہوں ان کا بیچنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک کہ وہ پھل استعمال کے قابل نہ ہو جائیں، موجودہ دور میں کئی سالوں کے لئے باغات بیچ لیے جاتے ہیں جب کہ نہ پھول کا پتہ ہے نہ پھل کا، یہ بالکل حرام ہے، مسلمانوں کو اس طرح کی تجارت سے بچنا چاہئے اور حدیث کے مطابق جب پھل قابل استعمال ہو تب بیچنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2215
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2215]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھل نہ بیچو حتی کہ ان کی صلاحیت (اور درستی) ظاہر ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 13 (1538)، سنن النسائی/البیوع 26 (4525)، (تحفة الأشراف: 13328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/262، 363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2216
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2216]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا: ”حتی کہ ان کی درستی ظاہر ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 83 (2189)، سنن ابی داود/البیوع 23 (3370)، (تحفة الأشراف: 2554) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہو جائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو جائے، اور غلے کی بیع سے (بھی منع کیا ہے) یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2217]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھلوں کی فروخت سے منع فرمایا حتی کہ ان کا رنگ بدل جائے، اور انگوروں کی فروخت سے منع فرمایا حتی کہ وہ سیاہ ہو جائیں، اور غلے (گندم اور جو وغیرہ) کی فروخت سے منع فرمایا حتی کہ وہ سخت ہو جائیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 23 (3371)، سنن الترمذی/21 (1228)، (تحفة الأشراف: 613)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 58 (1488)، البیوع 85 (2195)، 87 (2198)، 93 (2208)، صحیح مسلم/المساقاة 3 (1555)، سنن النسائی/البیوع 27 (4530)، موطا امام مالک/البیوع 8 (11)، مسند احمد (3/115، 30 45، 221، 250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون النهي الثاني والثالث
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح