🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ: الْحَيْفِ فِي الْوَصِيَّةِ
باب: وصیت میں ظلم کرنے کی سزا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2703
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2703]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو ترکہ دینے سے بھاگے گا (ایسی وصیت کرے گا جس سے جائز وارث کو حصہ نہ ملے یا اس کے اصل حصے سے کم ملے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس کی جنت کی میراث سے محروم فرما دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 843، ومصباح الزجاجة: 957) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زید العمی اور ان کے لڑکے عبد الرحیم دونوں ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: المشکاة: 3078)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف زيد العمي وابنه عبد الرحيم ‘‘ عبدالرحيم: متروك كذبه ابن معين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 476

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2704
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً، فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابٌ مُهِينٌ سورة البقرة آية 187 ـ 90.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر وصیت کے وقت اپنی وصیت میں ظلم کرتا ہے، تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور جہنم میں جاتا ہے، اسی طرح آدمی ستر سال تک برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے، اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، اور جنت میں جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو اس آیت کریمہ: «تلك حدود الله» (سورۃ النساء: ۱۳- ۱۴) کو پڑھو یعنی یہ حدود اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتیوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2704]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ستر سال تک نیک لوگوں والے کام کرتا رہتا ہے، پھر جب (مرتے وقت) وصیت کرتا ہے تو وصیت میں ناانصافی کرتا ہے، اس طرح اس کا انجام برے کام پر ہوتا ہے، چنانچہ وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔ اور ایک آدمی ستر سال تک برے لوگوں والے کام کرتا رہتا ہے، پھر (مرتے وقت) وصیت میں انصاف سے کام لیتا ہے تو اس طرح اس کا انجام نیک کام پر ہوتا ہے، چنانچہ وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ * وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾ [سورة النساء: 13-14] یہ حدیں اللہ کی (مقرر کی ہوئی) ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے، اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (مقررہ) حدوں سے آگے نکلے، اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13495، ومصباح الزجاجة: 958)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا 3 (2867)، سنن الترمذی/الوصایا 2 (2117)، مسند احمد (2/278) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ترمذی میں «سبعين سنة» ہے، اور سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 495)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2705
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ أَبِي خُلَيْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَأَوْصَى وَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا تَرَكَ مِنْ زَكَاتِهِ فِي حَيَاتِهِ".
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے موت کے وقت اللہ کی کتاب (قرآن) کے موافق وصیت کی تو یہ وصیت اس کی اس زکاۃ کا کفارہ ہو جائے گی جو اس نے اپنی زندگی میں ادا نہ کی ہو گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2705]
حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد (قرہ بن ایاس بن ہلال مزنی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے وصیت کی اور اس کی وصیت اللہ کی کتاب کے مطابق تھی، اس کا یہ عمل اس کی زندگی میں ترک شدہ زکوۃ کا کفارہ بن جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 11086، ومصباح الزجاجة: 959) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (بقیہ بن الولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور ابوحلبس مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4033)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بقية عنعن
وشيخه أبو حلبس: مجهول وخليد مجهول أيضًا(تقريب: 8062،1739)
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (33/19) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 476

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں