سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: الْحُزْنِ وَالْبُكَاءِ
باب: غمگین ہونے اور رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4190
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ , وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ , إِنَّ السَّمَاءَ أَطَّتْ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ , مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ , إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ , وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا , وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ , وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ , وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے“، اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4190]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تمہیں سنائی نہیں دیتا۔ آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے۔ اس میں چار انگلیوں کی جگہ بھی خالی نہیں مگر (بلکہ ہر جگہ) کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کو سجدہ کر رہا ہے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہو جائے جو مجھے معلوم ہے تو تم تھوڑا ہنسو اور زیادہ روؤ اور بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو سکو اور تم بآواز بلند اللہ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاؤ۔“ قسم ہے اللہ کی! میرا جی چاہتا ہے (کاش!) ”میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11986)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد 9 (2312)، مسند احمد (3/173) (حسن)» ( «واللہ لوددت» کے بغیر حدیث حسن ہے، یہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جیسا کہ مسند احمد میں بصراحت آیا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1722)
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله والله لوددت فإنه مدرج
حدیث نمبر: 4191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4191]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہو جائے جو مجھے معلوم ہے تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1426)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 25 (426)، مسند احمد (3/102، 126، 154، 193، 210، 217، 240، 245، 251، 268، 290)، سنن الدارمی/الرقاق 26 (2778) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4192
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ" لَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِسْلَامِهِمْ , وَبَيْنَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ , يُعَاتِبُهُمُ اللَّهُ بِهَا , إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ: وَلا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ سورة الحديد آية 16.
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ان کے اسلام اور اس آیت «ولا يكونوا كالذين أوتوا الكتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون» ”اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب عطا کی گئی، ان پر مدت طویل ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں“ (سورة الحديد: 16) کے نزول کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا ہے صرف چار سال کا وقفہ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4192]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ان کے اسلام قبول کرنے کے صرف چار سال بعد یہ آیت نازل ہو گئی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی۔ (ارشاد ہے) ﴿وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ﴾ [سورة الحديد: 16] ”اور (اہل ایمان) ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک طویل مدت گزری تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5266، ومصباح الزجاجة: 1490) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان لوگوں کی طرح نہ ہو جن کو اگلے زمانہ میں کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر مدت دراز گزری تو ان کے دل سخت ہو گئے ان میں بہت سے لوگ فاسق ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 4193
حَدَّثَنَا أَبُو بشْرِ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُكْثِرُوا الضَّحِكَ , فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4193]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ مت ہنسو کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12180، ومصباح الزجاجة: 1491) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4194
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَال لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ" , فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِسُورَةِ النِّسَاءِ , حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 , فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو“، تو میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» ”تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے“ (سورة النساء: 41) پر پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4194]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔“ میں نے سورہ نساء کی تلاوت کی، جب میں اس آیت ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] ”اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ حاضر کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امت پر گواہ بنا کر لے آئیں گے۔“ پر پہنچا (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 5 (3024)، (تحفة الأشراف: 9428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن 9 (4582)، فضائل القرآن 32 (5049)، صحیح مسلم/المسافرین 40 (800)، سنن ابی داود/العلم 13 (3668)، مسند احمد (1/308، 432) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اپنی امت کے برے اعمال کا خیال کر کے اور اس پر کہ مجھے ان پر گواہی دینی پڑے گی، اے مسلمانو! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم کرو اور کوشش کرو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے نیک اعمال کے گواہ ہوں، اور برے اعمال کر کے آپ کو رنج مت دو، اور ضد نفسانیت اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو، جو طریقہ حق ہے یعنی اتباع قرآن اور حدیث اس کو اختیار کرو تمہارے نبی تم سے راضی رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4195
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ , فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى , ثُمَّ قَالَ:" يَا إِخْوَانِي , لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے میں تھے، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور رونے لگے یہاں تک کہ مٹی گیلی ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بھائیو! اس جیسی کے لیے تیاری کر لو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4195]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک جنازے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور اتنا روئے کہ مٹی تر ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَا إِخْوَانِي، لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا» ”اے میرے بھائیو! ایسی چیز (قبر) کے لیے تیاری کر لو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1912، ومصباح الزجاجة: 1492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/294) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 527)»
وضاحت: ۱؎: تم اس طرح ایک دن تنگ و تاریک قبر میں ڈالے جاؤ گے، نہ کوئی یار ہو گا، نہ مددگار، نئی راہ اور راہ بتانے والا کوئی نہیں، نہ رفیق صرف اپنے نیک اعمال رفیق ہوں گے، باقی سب چھٹ جائیں گے، مال متاع آل و اولاد، وغیرہ سب یہیں رہ جائیں گے، اور مرنے کے بعد تم کو مٹی میں دبا کے لوٹ کر عیش کریں گے، جب یہ حال ہے تو تم ان کی محبت میں اللہ تعالی کو مت بھولو، نیک اعمال کو ہرگز نہ چھوڑو، اس کو اپنا محبوب اور رفیق سمجھو، جو رشتہ داروں، دوستوں اور بیوی بچوں سے ہزار درجہ بہتر ہے، وہ تمہارا ساتھ کبھی نہ چھوڑے گا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر اتنا روئے کہ زمین تر ہو گئی حالانکہ آپ کو اپنی نجات کا یقین تھا، تو ہم اگر آنسوؤں کی ندی بہا دیں بلکہ ساری عمر رویا کریں تو زیبا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہاں ہمارا کیا حال ہو گا۔ «اللهم اغفر لنا وارحمنا» ، آمين۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
محمد بن مالك الجوزجاني : اختلف قول ابن حبان فيه وضعفه الجمهور ۔
محمد بن مالك الجوزجاني : اختلف قول ابن حبان فيه وضعفه الجمهور ۔
حدیث نمبر: 4196
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْكُوا , فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو تکلف کر کے رؤو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4196]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی سی شکل بنا لو (تاکہ آنسو آجائیں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3900، و مصباح الزجاجة:) (ضعیف)» (سند میں ابو رافع اور عبد الرحمن بن سائب دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف / تقدم:1337
حدیث نمبر: 4197
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الزُّرَقِيُّ , عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دُمُوع , وَإِنْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ , مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ , ثُمَّ تُصِيبُ شَيْئًا مِنْ حُرِّ وَجْهِهِ , إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مومن کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو بہہ نکلیں، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، پھر وہ اس کے رخساروں پر بہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4197]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مومن کی آنکھوں سے اللہ کے خوف کی وجہ سے آنسو نکل آئیں، اگرچہ مکھی کے سر جتنے ہی ہوں، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے (رخساروں) پر لگ جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9344، ومصباح الزجاجة: 1493) (ضعیف)» (سند میں حماد بن ابی حمید الزرقی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
حماد بن أبي حميد : ضعيف (تقدم:237) ومن أجله ضعفه البوصيري ۔
حماد بن أبي حميد : ضعيف (تقدم:237) ومن أجله ضعفه البوصيري ۔