🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب : الحزن والبكاء
باب: غمگین ہونے اور رونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4193
حَدَّثَنَا أَبُو بشْرِ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُكْثِرُوا الضَّحِكَ , فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12180، ومصباح الزجاجة: 1491) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥إبراهيم بن عبد الله الهاشمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن عبد الله الهاشمي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، أبو حفص، أبو الفضل
Newعبد الحميد بن جعفر الأنصاري ← إبراهيم بن عبد الله الهاشمي
ثقة
👤←👥عبد الكبير بن عبد المجيد البصري، أبو بكر
Newعبد الكبير بن عبد المجيد البصري ← عبد الحميد بن جعفر الأنصاري
ثقة
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر
Newبكر بن خلف البصري ← عبد الكبير بن عبد المجيد البصري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4193
كثرة الضحك تميت القلب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4193 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4193
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
دل مردہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مردہ انسان کو کسی چیز کا احساس نہیں ہوتا اسی طرح غافل آدمی کو بھی اپنی آخرت کے نفع اور نقصان کا احساس نہیں ہوتا۔

(2)
دل جب مردہ ہوجائے تو اس میں نرمی کی جگہ، سختی رحم کی جگہ ظلم کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔
نیکی سے محبت اور گناہ سے نفرت ختم ہوجاتی ہے۔

(3)
خندہ پیشانی ایک اچھی عادت اور شرعاً مطلوب ہے لیکن ہر چیز سے بے پرواہ ہو کر ہر وقت ہنسی مذاق اور دل لگی میں وقت گزارنا غفلت اور مردہ دلی کی علامت ہے۔
دوسروں کی مصیبت کو اپنی سمجھنا اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4193]