🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ: ذِكْرِ الشَّفَاعَةِ
باب: شفاعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4307
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ , فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ , وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي , فَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی (اپنی امت کے سلسلے میں) ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے، تو ہر نبی نے جلدی سے دنیا ہی میں اپنی دعا پوری کر لی، اور میں نے اپنی دعا کو چھپا کر اپنی امت کی شفاعت کے لیے رکھ چھوڑا ہے، تو میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو اس حال میں مرا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا رہا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4307]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے اور ہر نبی نے وہ دعا جلدی (دنیا میں) مانگ لی، میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں شفاعت کے لیے چھپا کر رکھا ہوا ہے، یہ (دعا) امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوگا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 86 (199)، سنن الترمذی/الدعوات 131 (3602)، (تحفة الأشراف: 12512)، وقدأخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 1 (6304)، مسند احمد (2/275)، موطا امام مالک/القرآن 8 (26)، سنن الدارمی/الرقاق 85 (2847) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی عقیدہ توحید پر موت ہو، اگر شرک میں مبتلا رہ کر مرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا، دوسری روایت میں ہے کہ میری شفاعت میری امت میں سے ان لوگوں کے لئے ہو گی جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , وَأَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ , وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ , وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ , وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ فخریہ نہیں کہتا، قیامت کے دن زمین سب سے پہلے میرے لیے پھٹے گی، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی، اور میں فخریہ نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4308]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور کوئی فخر نہیں، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی اور کوئی فخر نہیں، قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور کوئی فخر نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 18 (3148)، المناقب 1 (3615)، (تحفة الأشراف: 4367)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/2) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4309
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا , فأنهم لا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ , وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمْ نَارٌ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ بِخَطَايَاهُمْ , فَأَمَاتَتْهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا , أُذِنَ لَهُمْ فِي الشَّفَاعَةِ , فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ , فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ , فَقِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ , أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ , تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ" , قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ فِي الْبَادِيَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم والے جن کا ٹھکانا جہنم ہی ہے، وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی آگ پکڑ لے گی، اور ان کو مار ڈالے گی یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو ان کی شفاعت کا حکم ہو گا، پھر وہ گروہ در گروہ لائے جائیں گے اور جنت کی نہروں پر پھیلائے جائیں گے، کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو تو وہ نالی میں دانے کے اگنے کی طرح اگیں گے“، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادیہ (دیہات) میں بھی رہ چکے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4309]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنمی جو جہنم کے اصل مستحق (اور ہمیشہ اس میں رہنے والے) ہیں، وہ تو اس میں نہ مریں گے اور نہ جئیں گے، لیکن کچھ لوگ جنہیں ان کے گناہوں یا غلطیوں کی وجہ سے جہنم پکڑ لے گی، وہ انہیں ایک بار فوت کر دے گی حتیٰ کہ جب وہ (جل کر) کوئلہ ہو جائیں گے تو ان کے حق میں شفاعت کی اجازت مل جائے گی، چنانچہ انہیں گروہ گروہ کر کے لایا جائے گا اور جنت کی نہروں (کے کناروں) پر بکھیر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! ان پر پانی ڈالو، (پانی ڈالنے سے) وہ اس طرح اگیں گے جس طرح سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔“ (یہ سن کر) حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: ”لگتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحرائی میدانوں میں رہتے رہے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 82 (185)، (تحفة الأشراف: 4346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/5، 11، 20، 78)، سنن الدارمی/الرقاق 96 (2859) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4310
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت قیامت کے دن میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4310]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے لیے (بھی) ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 11 (2436)، (تحفة الأشراف: 2608) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى , أَتُرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ لَا , وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4311]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شفاعت اور آدھی امت کے جنت کے داخلے میں سے کوئی ایک چیز منتخب کرنے کی اجازت دی گئی، تو میں نے شفاعت کو منتخب کر لیا، کیونکہ یہ زیادہ افراد کو شامل کرنے والی اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ پرہیزگاروں کے لیے ہوگی؟ نہیں، بلکہ یہ گناہ گاروں، خطاکاروں اور (گناہوں میں) لتھڑے ہوئے لوگوں کے لیے ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8989، ومصباح الزجاجة: 1542) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں اضطراب کی وجہ سے یہ سیاق ضعیف ہے، اول حدیث «خيرت بين الشفاعة» دوسرے طریق سے صحیح ہے لیکن «لأنها أعم الخ» ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3585 و السنة لابن أبی عاصم: 891)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لأنها

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4312
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلْهَمُونَ أَوْ يَهُمُّونَ , شَكَّ سَعِيدٌ , فَيَقُولُونَ: لَوْ تَشَفَّعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ , خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ , وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ , فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ يُرِحْنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَيَذْكُرُ وَيَشْكُو إِلَيْهِمْ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ , وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ , فَيَأْتُونَهُ , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ , وَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ , وَلَكِنْ ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ إِبْرَاهِيمَ , فَيَأْتُونَهُ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ , وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ , فَيَأْتُونَهُ , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَيَذْكُرُ قَتْلَهُ النَّفْسَ بِغَيْرِ النَّفْسِ , وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ , فَيَأْتُونَهُ , فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ , وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ , قَالَ: فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ" , قَالَ: فَذَكَرَ هَذَا الْحَرْفَ عَنْ الْحَسَنِ , قَالَ:" فَأَمْشِي بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" , قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ , قَالَ:" فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي , فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ يَا مُحَمَّدُ , وَقُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا , فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ , فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: لِي ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ , فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ , فَأَقُولُ: يَا رَبِّ , مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ". (حديث موقوف) (حديث قدسي) قَالَ: يَقُولُ قَتَادَةُ : عَلَى أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ , وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ , وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ , وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، (یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں - آپ اپنے کئے ہوئے گناہ کو یاد کر کے اس کا شکوہ ان لوگوں کے سامنے کریں گے، اور اس بات سے شرمندہ ہوں گے، پھر فرمائیں گے: لیکن تم سب نوح کے پاس جاؤ اس لیے کہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے پاس بھیجا، وہ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو آپ ان سے کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اللہ کے حضور جاؤں، اور آپ اپنے اس سوال کو یاد کر کے شرمندہ ہوں گے جو آپ نے اپنے رب سے اس چیز کے بارے میں کیا تھا جس کا آپ کو علم نہیں تھا - پھر کہیں گے کہ لیکن تم سب ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ، وہ سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو آپ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، لیکن تم سب موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کی، اور ان کو تورات عطا کی، وہ سب ان کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں (وہ اپنا وہ قتل یاد کریں گے جو ان سے بغیر کسی خون کے مقابل ہو گیا تھا)، لیکن تم سب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اور اس کا کلمہ و روح ہیں، وہ سب ان کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، لیکن تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چلوں گا (حسن کی روایت کے مطابق مومنوں کی دونوں صفوں کے درمیان چلوں گا) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، اور کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اس کی حمد بیان کروں گا جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں دوبارہ لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، تم کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کی تعریف کروں گا، جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اور وہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں تیسری بار لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کے سکھائے ہوئے طریقے سے اس کی حمد کروں گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، پھر ان کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا، اور کہوں گا: اے میرے رب! اب تو کوئی باقی نہیں ہے، سوائے اس کے جس کو قرآن نے روکا ہے یعنی جو قرآن کی تعلیمات کی رو سے جہنم کے لائق ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے۔ پھر انہیں الہام ہوگا، یا فرمایا: وہ فکر مند ہوں گے۔ (حدیث کے راوی) سعید کو شک ہوا ہے تب وہ کہیں گے: کاش ہم اپنے رب کے دربار میں (کسی کی) سفارش پیش کریں تو وہ ہمیں اس جگہ سے (منتقل کر کے) راحت نصیب فرمائے، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: آپ آدم ہیں جو سب انسانوں کے والد ہیں، آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس کے فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا لہٰذا آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے کہ ہمیں اس مقام سے راحت نصیب فرمائے۔ وہ کہیں گے: میں اس قابل نہیں، اور اپنے اس گناہ کا ذکر اور شکایت کریں گے جو ان سے سرزد ہو گیا تھا (جس درخت سے منع کیا گیا تھا اس کا پھل کھا لیا تھا) وہ اپنے رب سے شرم محسوس کریں گے (اور کہیں گے): نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں، وہ اس بات کا ذکر کر کے شرم محسوس کریں گے کہ انہوں نے اپنے رب سے ایسا سوال کیا تھا جس کی حقیقت کا انہیں علم نہیں تھا۔ (وہ کہیں گے): لیکن تم اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ نے (براہِ راست) کلام فرمایا اور انہیں تورات عطا فرمائی۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں، وہ ایک آدمی کے بے گناہ قتل کرنے کا ذکر فرمائیں گے۔ (وہ کہیں گے): لیکن عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں لیکن تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں چل پڑوں گا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میں مومنوں کی دو صفوں کے درمیان سے گزر کر جاؤں گا اور فرمایا: میں اپنے رب کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے (سجدے میں) رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا: محمد! سر اٹھائیے! بات کیجیے آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا۔ (چنانچہ) میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ اللہ ان لوگوں کو (جن کے حق میں شفاعت کی اجازت دی ہوگی) جنت میں داخل کر دے گا۔ پھر میں دوسری بار جاؤں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے (سجدے میں) رہنے دے گا۔ پھر مجھے کہا جائے گا: محمد! سر اٹھائیے! بات کیجیے! آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں سر اٹھا کر اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا۔ (چنانچہ) میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ اللہ ان لوگوں کو (جن کے حق میں شفاعت کی اجازت دی ہوگی) جنت میں داخل کر دے گا۔ پھر میں تیسری بار جاؤں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا۔ تو سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے (سجدے میں) رہنے دے گا پھر مجھے کہا جائے گا: محمد! سر اٹھائیے! بات کیجیے! آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ تب میں سر اٹھا کر اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا (چنانچہ) میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی اور اللہ ان لوگوں کو جنت میں داخل کر دے گا (جن کے حق میں شفاعت کی اجازت دی ہوگی) پھر میں چوتھی بار جاؤں گا اور عرض کروں گا: میرے رب! (جہنم میں) صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک دیا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 1 (4476)، صحیح مسلم/الإیمان 84 (193)، (تحفة الأشراف: 1171، 1194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/116، 244) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: غرض اللہ تعالی کے فضل سے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بڑی امید ہے کہ کوئی موحد بھی جس کے دل میں رتی برابر ایمان ہو ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4313
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَلَّاقِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ , عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ الْأَنْبِيَاءُ , ثُمَّ الْعُلَمَاءُ , ثُمَّ الشُّهَدَاءُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کر سکیں گے: انبیاء، علماء پھر شہداء“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4313]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن تین قسم کے افراد شفاعت کریں گے: پہلے انبیاء کرام، پھر علماء، پھر شہداء۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9780، ومصباح الزجاجة: 1543) (موضوع)» ‏‏‏‏ (سند میں عنبسہ وضع حدیث میں متہم ہے، اور علاق مجہول، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1978)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع
عنبسة : متروك (تقدم:263) وعلاق : مجهول (تق:5665) والسند ضعفه البوصيري ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4314
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ , كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ , وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب مقرر ہوں گا، اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4314]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو میں نبیوں کا امام، ان کا خطیب اور ان میں سے (پہلے) شفاعت کرنے والا ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 1 (3613)، (تحفة الأشراف: 29)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/137، 138) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / ت+3613ب

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي , يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً کچھ لوگ میری شفاعت کی وجہ سے جہنم سے نکلیں گے، انہیں جہنمی کہا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 51 (6566)، سنن ابی داود/السنة 23 (4740)، سنن الترمذی/صفة جہنم 10 (2600)، (تحفة الأشراف: 10871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/434) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4316
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَاكَ , قَالَ:" سِوَايَ" , قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ.
عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کے نتیجہ میں بنو تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ (یعنی وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میرے علاوہ، ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4316]
حضرت عبد اللہ بن ابو جدعاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے قبیلہ بنو تمیم (کی تعداد) سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وہ آپ کے علاوہ کوئی اور ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے علاوہ (کوئی اور ہے)۔“ حضرت عبد اللہ بن شفیق رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے کہا: ”کیا یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے خود سنی ہے؟“ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے خود سنی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 12 (2438)، (تحفة الأشراف: 5212)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/469، 470، 5/366) سنن الدارمی/الرقاق 87 (2850) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں